آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ذوالحجہ 1440ھ 17؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عید قرباں کی آمد میں اب کچھ ہی دن باقی رہ گئے ہیں اور سب جوش وخروش سے قربانی کے جانور کی خریداری کے لیے مویشی منڈی کے چکر لگا رہے ہیں اور جو خریداری کرچکے ہیں ان کے بچے اپنے جانوروں کو گلی محلّوں میں ٹہلانے میں مصروف ہیں۔ جانوروں کی خریداری کے بعد لوگ باربی کیو کا سامان، چولہے، گرلز اور کوئلے خریدتے ہیں اور تکے کباب بنانے کیلئے چاقو چھریاں تیز کرواتے ہیں۔

شہر میں ہونے والی بارشوں کے باعث صفائی کی صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔ مویشی منڈی میں پانی اور کیچڑ کی وجہ سے خریدار اور بیوپاری دونوں ہی پریشان ہیں۔ ایسے میں آپ کو اپنی صحت و صفائی کا بہت خیال رکھنا ہے اور یہ کام اس وقت سے شروع ہوتا ہے، جب آپ قربانی کا جانور خریدنے کیلئے گھر سے نکلتے ہیں۔ عام طور پر آ پ اکیلے نہیں جاتے، آپ کے ساتھ بچے بھی بہت شوق سے منڈی جاتے ہیں، لہٰذا اگر آپ مویشی منڈی جارہے ہیں تو اپنے اور بچوں کے منہ کو رومال یا ماسک سے ڈھانپ لیں تاکہ مویشی منڈ ی میں مختلف وائرسز بالخصوص کانگو وائرس سے محفوظ رہ سکیں۔ بصورت دیگر یہ وائرسز مویشی منڈی کے گردو غبار میں شامل ہو کر سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوکر آپ کو متاثر کرسکتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ شام یا رات میں مویشی منڈی جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اپنے ہاتھوں اور پیروں پر مچھر سے حفاظت کا لوشن لگالیں تاکہ ڈینگی اور ملیریا جیسی بیماریاں لگانے والے مچھر آپ سے دور رہیں۔

قربانی کا جانور جب گھر آجاتا ہے تو بچے اسے بڑے شوق سے چھو کر دیکھتے ہیں، اس کی پیٹھ پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہیں، اس کی خدمت کرتے ہیں اور اسے سجانے کے مختلف طریقے اپناتے ہیں، اس کام میں بڑے بھی ان کا ساتھ دیتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے کے بعد انہیں صابن سے ہاتھ دھونے کا ضرور کہیں اور انہیں تاکید کریں کہ جب بھی وہ جانوروں کو ہاتھ لگائیں تو اس کے فوراً بعد ہاتھ دھونا نہ بھولیں تاکہ جانوروں کے جسم پر موجود جراثیم ان کے ہاتھوں کے ذریعے جسم کے اندر منتقل نہ ہوں اور وہ کھجلی، خارش یا کسی دوسرے جِلد ی امراض سے بھی محفوظ رہیں۔ اسی طرح بچے یا بڑے جب بھی جانور کے آگے پانی یا چارہ ڈالیں تو انہیں فوراً صابن سے اچھی طرح مل مل کر ہاتھ دھونے چاہئیں۔

اس بات کا خیا ل رکھیں کہ آپ قربانی کا وہ جانور خریدیں جو مکمل طور پر صحت مند ہو۔ اسے رات کے وقت کھلے آسمان تلے ہر گز نہ باندھیں، ورنہ وہ بیمار ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ انسان کو جانوروں سے کانگو جیسی مہلک بیماری لگ سکتی ہے، جس سے انسان کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے، تاہم اس کی شرح بہت کم ہے مگر احتیاط پھر بھی لازم ہے۔ کانگو وائرس جانور پر لگے چیچڑ کی وجہ سے لگتا ہے، اس لئے جانور خریدنے سے پہلے اچھی طرح دیکھ لیں کہ کہیں جانور میں چیچڑ تو نہیں ہے، اگر بعد میں پتہ چلے کہ خریدے گئے جانور میں چیچڑ ہے تو اسے ختم کرنے والا پائوڈر استعمال کریں۔ آپ کو چاہئے کہ اگر جانور میں چیچڑ ہے تو اسے ختم کرنے سے پہلے بچوں کو جانور سے کھیلنے نہ دیں۔ عام طور پریہ چیچڑ جانور کی گردن کے نیچے، کان کے پیچھے یا اندر، ٹانگوں کے نیچے یا پھر جسم کے دیگر حصوں میں چھپا ہوتا ہے اور جانور کا خون پیتا رہتا ہے۔ اگر آپ کا جانور چیچڑ یا دیگر بیماریوں سے پاک ہے تب بھی بچوں کو ہروقت ان کے پاس نہ رہنے دیں۔ کچھ مخصوص وقت انھیں احتیاطی تدابیر کے ساتھ جانور کے ساتھ گزارنےدیں۔

جانور کی قربانی کے بعد اس کی آلائشیں احتیاط کے ساتھ ٹھکانے لگائیں یا گھر سے باہر ایک طرف رکھ دیں تاکہ بلدیہ کی گاڑیاں اٹھالیں۔ اگر کافی دیرتک گاڑی نہ آئے تو انہیں فون کرکے بلوالیں، ان کے نمبر عید کے دنوں میں سب کے پاس ہوتے ہیں۔ قربانی کرنے کے بعد جگہ کو فوراً اچھی طرح پانی سے دھوئیں اور کوشش کریں کہ وہاں چونا چھڑک دیں، تاکہ خون کی بُو اور جراثیم نہ پھیلیں۔

اس کے علاوہ گوشت بنانے میں زنگ آلود اشیا استعمال کرنے سے پرہیز کریں کیونکہ یہ آپ کی صحت کی خرابی کا باعث بن سکتاہے۔ گوشت کی تقسیم کیلئے جو تھیلیاں یا بیگ استعمال کریں وہ ٹرانسپیرنٹ ہوں، گوشت کو اخبار یا رنگین بیگ میں نہ رکھیں۔ گوشت کی کٹائی کےفوراً بعد ہی اسے پیک کرلیں تاکہ گوشت مکھیوں یا جراثیم سے پاک رہے۔

قربانی کے بعد کم مسالوں سے پکا ہوا کھانا کھائیں۔ زیادہ گوشت کھانے سے ذیابطیس، بلڈ پریشر اور دل کے مریضوں کو خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔ دل کے مریض گوشت کے بجائے دالیں اور سبزیاں زیادہ استعمال کریں۔ ذیابطیس اور دل کے مریض کلیجی، گردے اور مغز کھانے سے گریز کریں کیونکہ ان میں کولیسٹرول کی مقدار عام گوشت کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ پائی جاتی ہے اور یہ ایسے مریضوں کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ خواتین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ جو بھی پکائیں وہ کم مسالوں میں پکا ہوا اور اچھی طرح گلا ہو اہو تاکہ بزرگوں اور بچوں کو اسے ہضم کرنے میں آسانی ہو اور وہ بنا بیمار پڑے عید قرباں کے مزے اڑا سکیں۔

صحت سے مزید