آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

طلبا مضمون اور اسائنمنٹ کیسے تیار کریں؟

اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران آپ کی ناکامی میں نہ والدین کا قصور ہوتا ہے، نہ اساتذہ اور احباب کا اور نہ ہی حالات و واقعات کابلکہ یہ خالصتاً آپ پر منحصر ہوتا ہے کہ کیریئر بلڈنگ پر توجہ دینی ہے یا یونہی گپ شپ کرتے قیمتی لمحوں کو ضائع کردینا ہے۔ جو طلبا ’’علم و ہنر‘‘ کے وسیع آن لائن ذخائر، اخبارات و رسائل کا شوق اور دلچسپی سے مطالعہ کرتے ہیں ، ان میں اپنے الفاظ میں لکھنے کی خواہش قدرتی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ مطالعے کا اعجاز جانیے کہ ہمارے لیے ہر ایک مضمون اور اسائنمنٹ آگہی و معلومات کی کھڑکی ہے۔ اگر آپ صرف یہ سوچ کر پڑھیں کہ یہ جہالت سے آگہی اور اندھیرے سے اُجالے کا سفر ہے تو کوئی بھی تحریر آپ کے اعصاب کو بوجھل نہیں کرسکتی۔ آپ کی جاننے کی جستجو تاعمر کامیابی کی ضمانت دے گی۔ جیسے ادیب بننے کے لئے کلاسیکل ادب اور 100عظیم ناولوں کا والہانہ مطالعہ ضروری ہے، ویسے ہی نامور مضمون نگاروں کی نگارشات کا سنجیدہ مطالعہ زادِ راہ ہے۔ ذیل میں مضمون نویسی کے 6بنیادی نکات پیش کیے جارہے ہیں،جن کا خیال کسی بھی مضمون نگار کومعروف انشا پردازوں میں شمار کرتا ہے۔

موضوع کا انتخاب کریں

سب سے پہلے پسندیدہ موضوع کا انتخاب کریںیا اساتذہ کی جانب سے دیئے گئے موضوع پر سوچیں۔ موضوع کا انتخاب کرنے کے بعد ایک مضمون چنیں، اس کے بعد غور کریں کہ مضمون کی ابتدا کیسے ہوئی؟ مصنف کیسے مرحلہ وار معلومات کو آگے بڑھا رہا ہے؟ ابتدائی پیراگراف موضوع کا تعارف، دوسرا نوعیت، تیسرا تاریخی پس منظر، چوتھا اثرات ، پانچواں تدابیر اور چھٹا حاصل گفتگو ہوتا ہے۔ آپ کو بھی اسی طرح پیراگراف کے چھ مراحل کا خیال رکھتے ہوئے اپنی بات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا۔

تحریری خوبیوں پر توجہ

ہماری ناکامیوں کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم فوری عقیدت مند بن جاتے ہیں۔ آپ کو مضمون کے مطالعے کے وقت مضمون نویس کی عقیدت سے نکلنا ہوگا۔ تحریری خوبیوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ہر بات پر سرجھکا کر آمنا و صدقنا نہیں کہنا، سوال اٹھانا ،سچ کی خاطر زہر کا پیالہ خوشی سےپی کر سقراط کی طرح اپنا نام امر کر جانا ہے۔ جب آپ ہر چیز میں مین میخ نکالتے، متاثرینِ اہلِ چمن نہیں ہوتے تو تحریر میں خود بخود وہ تاثیر آ ہی جاتی ہے جسے ہم’’ آمدو آورد‘‘ ، ’’کیف و سرود‘‘ اور ’’کشف و جنوں‘‘ یا بقول غالب ’’آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں!‘‘ کہتے ہیں۔

مکمل خاکہ بنائیں

مضمون کی کامیاب ابتدا اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک مطلوبہ موضوع کے بارے میں آپ کے ذہن میں مکمل خاکہ اور اس سے متعلقہ معلومات موجود نہ ہوں۔ اس کے بعد اہم تصورات، غیر اہم تصورات اور جزوی تصورات کے تین خانے بناکر اپنے موضوع پر زیر بحث امور کو لکھتے جائیں۔ یہ اشارے (Hints) مضمون کو زمانی ترتیب کے مطابق بنانے میں معاون ہوںگے۔ آپ اپنے تصورات کو ٹری ڈایاگرام اور مائنڈمیپ کی صورت بھی جوڑ سکتے ہیں۔ موضوع کے تعارف، نوعیت، کام اور نتائج کی ترتیب میں معلومات دہرانے سے گریز کرتے ہوئے حوالہ کتب میں وسعت ہونی چاہیے، ایک ہی کتاب کے حوالے بار بار نہ دیں ۔

اسلوب تحریر پر توجہ دیں

اگر آپ نے مضمون نگاروں، کالم نویسوں، انشا پردازوں اور مزاح نگاروں کی کلاسیک اردو تحریروں کو پڑھا ہوگا تو آپ جانتے ہوں گے کہ ہر ایک قلم کار کا اندازِ نگارش جداگانہ رہا ہے اور ہر نیا ادیب پرانی معلومات کو اسلوب کے نئے پیراہن میں ڈھالتا ہے۔ اس لئے کسی بھی مضمون کو پڑھتے وقت مضمون نویس کے اندازِ تحریر پر دھیان دیں کہ انہوں نے بات کیسے شروع کی ہے۔ تحریرکی دبازت محسوس کرنے کے لئے آپ کو گہرے مطالعے کی ضرورت ہوگی۔ کتاب کو اپنا رفیق کامرانی جانئے پھر دیکھئے لفظوں کے سفید پرندے کیسے اڑ اڑ کر فضا کو پاکیزگی سے روشن کرتے ہیں۔

انفرادی اسٹائل اپنائیں

انفرادی اسٹائل اپنانے کے لیے عظیم لوگوں کی سوانح عمریاں اپنے مطالعے کا جزو بنائیں۔ کارپوریٹ ورلڈ کے شہنشاہ بل گیٹس ، مسک، مارک زکربرگ اور جیف بیزوز کی طرح موٹی ویشنل، بزنس، سائنس اور فکشن پر مبنی کتابوں کواپنی زندگی میں شامل کرنا ہوگا۔ اپنے ناقدانہ شعور سے مطالعہ کرتے ہوئےجب آپ ہائی لائٹر یا پینسل ہاتھ میں لےکر اہم واقعات کو خط زد کرکےاپنی ڈائری میں کتاب کے حوالے لکھتے ہیں تویہی چیز نئی تخلیقات کو جنم دینے کا باعث بنتی ہے۔

تحریر کے بنیادی مراحل

تحریر کا بنیادی اصول ابتدائی، ثانوی اور اعلیٰ معلومات کی دستیابی کے بعد حاصل گفتگو پر مبنی ہے۔ یہاں آپ کو مضمون اور اسائنمنٹ کی تیاری کرتے وقت اپنی خودی کو بھی برقرار رکھنا ہوگا۔ دنیا بھر کے کسی بھی معاشرے میں کامیاب آدمی کے راستے میں رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں لیکن آئن اسٹائن جیسے طالب علم اپنی چاہت سے کئے گئے مطالعے سے کائنات کی تفہیم بدل کر ہمیں اس ڈیجیٹل ورلڈ اور ٹیلی کمیونیکیشن انقلاب سے سرشار کرکے ماضی و مستقبل میں سفر کرنے کے لئے ’’ٹائم مشین‘‘ بنانے کی جستجو میں مصروف رکھے ہوئے ہیں۔ 

تعلیم سے مزید