آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ملک کی سیاسی فضا میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اس امید کے ساتھ کہ پاکستان میں بدعنوانی، غربت اور ”جاگیرداریت‘ (میرا ایجاد کردہ لفظ جو جاگیردارانہ نظامِ جمہوریت“ کے غلبے کی بہترین عکاسی کرتا ہے) سے پاک ایک نیا سورج طلوع ہو گا۔ ان دنوں ڈاکٹرعلامہ طاہر القادری کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔ بعض کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک غیر ملکی ایجنٹ ہیں اور موجودہ نظامِ حکومت کو تباہ کرنے کے مقصد سے آئے ہیں۔ بعض کا دعویٰ ہے کہ ان کی مداخلت فوجی قیادت کی حکمرانی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے اور دیگر لوگ ان کی اس تحریک کو ان کے حالیہ دورہٴ بھارت سے منسلک کر رہے ہیں۔ یہ سب محض غیر متعلقہ اور فضول باتیں ہیں جو ہمارا دھیان بنیادی مسائل سے ہٹانے کے لئے کی جا رہی ہیں۔ ان معاملات میں اس سنہری اصول پر عمل کرنا چاہئے کہ کیا کہا جار ہا ہے نہ کہ کون کہہ رہا ہے۔اگر کوئی ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کے بیانات کا بغور جائزہ لے گا تو وہ ان کی اس بات پر صدقِ دل سے متفق ہو گا کہ موجودہ جمہوری نظام اپنے فرائض کی انجام دہی میں بری طرح ناکام ہوا ہے اور اس نے ملک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ جس بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا مشاہدہ اس دورِ حکومت میں ہوا ہے پہلے کبھی نہیں ہوا، جس نے ملک کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

کے مطابق 2008ء سے 2011ء میں 8500/ ارب روپے بدعنوانیوں کی نظر ہوئے، اگر 2012ء کو بھی شامل کر لیا جائے تو بدعنوانی تقریباً 11000/ارب روپے ( تقریباً110/امریکی ڈالر) تک جا پہنچی ہے جو کہ اس رقم سے 60گنا زیادہ ہے جو ہم فوجی اور عوامی امداد کے لئے امریکہ سے سالانہ وصول کرتے ہیں۔ رینٹل پاور پلانٹ سودے کی بدولت بڑے پیمانے پر لوٹ مار ہوئی ہے اور توانائی کے شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اس سے ملکی صنعت کو برباد کر دیا گیا ہے۔ پی آئی اے، پاکستان اسٹیل، پاکستان ریلوے اور دیگر ایسے اداروں کو بڑے منظم طریقے سے صاحبِ اقتدار لوگوں نے تباہ کر دیا ہے،جہاں لاکھوں نااہل لوگوں کو تقرریاں دے کر اور بدعنوان افسروں کو اُن کا سربراہ بنا کر اِن اداروں کو لوٹا گیا ہے۔ اس کی ایک مثال NAB ہے جہاں ایڈمرل فصیح بخاری (جن کی دیانتداری پر بہت سے شکوک و شبہات ہیں) سپریم کورٹ کے احکامات ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔ قومی قرضے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران تین گنا زیادہ ہو گئے ہیں جبکہ افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح نے ایک غریب آدمی کا پُروقار طریقے سے جینا ناممکن کر دیا ہے۔ روشنیوں کا شہر کہلانے والے کراچی میں ہر روز سڑکوں پر لاشیں بکھری ہوئی نظر آتی ہیں، جنہیں محض قیمتی زمینوں پر غیر قانونی قبضہ کرنے کے لئے سیاسی مخالفین تنظیمیں بڑی بے رحمی سے قتل کر دیتی ہیں۔ نوجوانوں کے گروپ موبائل فون سے لے کر گاڑیاں تک چھینتے ہیں اور اسی قسم کی سیکڑوں ڈکیتیاں روز کا معمول ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر بے بس نظر آتے ہیں۔ بہت سی ڈکیتیوں میں تو وہ خود ملوث ہیں۔ شیعہ برادری پر حالیہ قاتلانہ حملوں نے پوری قوم کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ قائد کا پاکستان جس کے لئے ہزاروں لاکھوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا اس طرح آہستگی سے موت کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔ اقتصادی صورتحال اس قدر بدتر ہے کہ اس ملک پر جلد ہی IMFکاراج ہو گا اور وہ اپنی پالیسیاں منوا رہا ہو گا۔ جس میں توانائی اور اشیاء خورد و نوش میں اضافہ شامل ہو گا۔ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ باقی ماندہ صنعتیں بھی بند ہو جائیں گی۔ اب یہ باقی رہ گیا ہے کہ ”غیر ملکی آقاؤں“ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے چند روٹی کے ٹکڑوں کے عوض ہمارے جوہری ہتھیاروں کو فروخت کر دیا جائے اور اس عظیم ملت کے عوامی لیڈروں کی بدعنوانیوں کے ذریعے ہمیں بھکاری قوم بنا دیا جائے ۔ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کا انتخابی اصلاحات کا مطالبہ نہ صرف درست ہے بلکہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈاکٹر علامہ قادری کا مطالبہ یہ ہے کہ 8 جون 2012ء کو انتخابی اصلاحات کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر انتخابات سے پہلے فوری طور پر عملدرآمد کیا جائے تاکہ دوبارہ وہی بدعنوان سیاستدان برسراقتدار نہ آ جائیں۔
یاد رکھئے برسراقتدار350 ”معزز“ سیاستدان اپنی جعلی ڈگریوں کے ذریعے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں داخل ہو چکے ہیں جبکہ سابق الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو صریحاً نظر انداز کرتے ہوئے ان ٹھگوں کو ہمارے اوپر حکمرانی کرنے دی ہے۔ حتیٰ کہ سابق وزیراعظم اس حد تک بڑھ گئے تھے کہ ان میں سے ایک ٹھگ کی ذاتی طور پرانتخاب میں اس قدر حمایت کی کہ وہ بھاری اکثریت سے دوبارہ منتخب ہوئے لہٰذا انتخابات سے پہلے سپریم کورٹ کے انتخابی اصلاحات کے لئے کئے گئے فیصلے کا نفاذ وقت کی اشد ضرورت ہے۔ ان اصلاحات میں یہ لازمی قرار دینا چاہئے کہ امیدواروں کو جانچنے کے لئے اُن کے بارے میں ساری معلومات بشمول اُن کی درخواستوں کے جو وہ الیکشن کمیشن میں داخل کرتے ہیں website پر ڈال دیں تاکہ ہر پاکستانی اُس کو پرکھ سکے اور ٹھوس شواہد کے ساتھ اعتراض کر سکے تاکہ غلط لوگ حکمران نہ بن پائیں۔
ڈاکٹر علامہ قادری کا ایک اور اہم مطالبہ یہ ہے کہ غیر جانبدار الیکشن کمیشن قائم کیا جائے جو قومی اسمبلی کے لئے کھڑے ہونے والے خواہشمند امیدواروں کی بڑی باریکی سے جانچ پڑتال کر سکیں۔ موجودہ طریقہ جانچ پڑتال محض نظروں کا دھوکہ ہے اور درحقیقت کوئی چھان بین نہیں کی جاتی کیونکہ اس کے لئے صرف2دن دیئے جاتے ہیں۔ یہ جانچ پڑتال آئین کے مطابق مقرر مندرجہ ذیل تقاضوں پر مبنی ہونی چاہئے۔1۔اچھے کردار کا مالک 2۔عاقل، سچا، بے داغ، دیانتدار اور ایماندار شخص ہو۔کیا موجودہ الیکشن کمیشن امیدواروں کو ان بنیادوں پر پرکھتا ہے ؟ ظاہر ہے نہیں… اگر ایسا ہو رہا ہوتا تو350 جعلی ڈگریوں کے حامل بدعنوان سیاستدان ہمارے اداروں کی حکمرانی نہ کررہے ہوتے جنہوں نے اس ملک کا 11000 /ارب روپیہ لوٹ لیا ہے اور اس بات کا واضح ثبوت دیا ہے کہ” جمہوریت بہترین انتقام ہے“۔ غریب اور مصیبت زدہ پاکستانی عوام کے خلاف انتقام۔ الیکشن کمیشن کو ایک غیر جانبدار ادارہ ہونا چاہئے جس میں کسی بھی قسم کے ذاتی مفادات کا عمل دخل نہ ہو۔ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو بھی اس میں شامل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ پھر اپنی حمایتی جماعت کے لوگوں کی غلطیوں کی پردہ پوشی کریں گے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اس کے اراکین سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے نامزد کئے جائیں جو کہ ممتاز اور ناقابلِ اعتراض شخصیت کے مالک ہوں۔موجودہ ”جاگیرداریت“ کو ایک مختلف صدارتی نظامِ جمہوریت میں تبدیل کر دینا چاہئے جہاں صدرِ مملکت کو مکمل اختیارات حاصل ہوں کہ وہ سب سے اہل وفاقی وزراء کا انتخاب کر سکیں تاکہ اس ملک کی باگ ڈور موجودہ جاگیردار طبقے کے بجائے اصل تکنیکی ماہرین کے ہاتھ میں ہو۔ پارلیمینٹ کا کام قانون سازی اور ملکی معاملات پر نظر رکھنے تک محدود ہونا چاہئے۔ جو لوگ الیکشن کمیشن کی طرف سے قومی اسمبلی کے انتخابات کے لئے اہل قرار پائیں وہ نہ صرف ”دیانتدار اور ایماندار“ ہوں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور قانونی معاملات کی اچھی سمجھ بوجھ کے بھی حامل ہوں۔
ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کی تجاویز وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اگر آج ان پر توجہ نہ دی گئی اور خود ساختہ تباہی کے راستے پر چلتے رہے تو پاکستان ایک دن تباہ و برباد ہو جائے گا اور اقبال اور جناح کا پائندہ پاکستان کا خواب شرمندہٴ تعبیر نہ ہو سکے گا۔ ان اصلاحات کے بارے میں اس ملک کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلے کے مکمل نفاذ کے لئے ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی ہے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
محب وطن پاکستانیو جاگو۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں