آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل18؍ذوالحجہ 1440ھ20؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو غیر موثر بنانے کی کوششوں کے ذریعے پاکستان کے ساتھ آبی جنگ شروع کر دی ہے۔ پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر سید مہر علی شاہ نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بارہا درخواستوں کے باوجود بھارت نے سیلاب کے بارے میں پیشگی اطلاعات فراہم نہیں کیں۔ 1989 کے معاہدے کے تحت بھارت یکم جولائی تا 10 اکتوبر سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے کا پابند ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 2014 کے بعد سے بھارت نے پاکستان کو گنگا پروجیکٹ کے معائنے کی اجازت نہیں دی۔ 1960 کے سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے بھارت کے عدم تعاون پر مبنی رویہ سے پاکستان کمیشن آف انڈس واٹرز نے وزارت امور خارجہ کو آگاہ کر دیا ہے۔ رابطہ کرنے پر واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ نے کہا جب بھی سند طاس معاہدے پر عملدرآمد میں تاخیر کی گئی اس سے سندھ طاس معاہدے پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اس پر حقیقی معنی میں عملدرآمد ہی میں پاکستان کی بقاء ہے۔ معلومات کی عدم فراہمی سے پاکستان کی فوڈ سیکورٹی اور زرعی اقتصادیات پر مضر

اثرات پڑیں گے، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہوسکتا اور یہ بات قابل قبول بھی نہیں ہے۔ معاہدے پر عمل دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ اس پر سیاست نہیں کرنی چاہئے۔

اہم خبریں سے مزید