آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات19؍محرم الحرام 1441ھ 19؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹوری باغی نو ڈیل بریگزٹ روکنے کیلئے جیرمی کوربن کو نگراں وزیراعظم بنانے پر تیار

لندن (نیوز ڈیسک) ٹوری پارٹی کے باغیوں نے نوڈیل بریگزٹ روکنے کیلئے لیبر پارٹی کے قائد جیرمی کوربن کے منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے نوڈیل بریگزٹ روکنے کیلئے جیرمی کوربن کو بورس جانسن کی جگہ نگراں وزیراعظم بنانے پر آمادگی کا اظہار کردیا ہے، ڈیلی مرر نے یہ خبر دیتے ہوئے لکھا ہے کہ سابق اٹارنی جنرل ڈومنک گریو نے ایک خط پر دستخط کردیئے ہیں جس میں لیبر پارٹی کے قائد جیرمی کوربن کے ساتھ ملاقات پر اتفاق کیا گیا ہے، لیبر پارٹی کے قائد جیرمی کوربن کے ساتھ ملاقات کر کے ان سے ڈیل کے بغیر یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرنے کے بجائے متبادل تجاویز پر تبادلہ خیال کرنے پر اتفاق کر کے اس خط پر دستخط کرنے والے دیگر رہنمائوں میں سر اولیور لیٹون، ڈیم کیرولن سپیل مین، ٹوری پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ نک بولز بھی شامل ہیں۔ ٹوری پارٹی کے سابق وزیر دفاع گوٹو بیب نے اپنے کنزرویٹو ساتھیوں سے کہا ہے کہ وہ جیرمی کوربن کے منصوبے پر سنجیدگی سے غور کریں۔ انھوں نے کہا ہے کہ جیرمی کوربن کو مختصر مدت کیلئے

وزیراعظم بنا دینے سے نوڈیل کی صورت میں برطانیہ کی نسلوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کے مقابلے میں بہت کم نقصان ہوگا۔ دوسری جانب ٹرانسپورٹ کے وزیر گرانٹ شیپس نے کہا ہے کہ کنزرویٹوز کیلئے جیرمی کوربن کو ایک منٹ کیلئے بھی ڈائوننگ سٹریٹ میں براجمان کرنے کے بارے میں سوچنا بھی انتہائی غیر معمولی بات ہوگی۔ ڈومنک گریوز کے خود اپنے لوکل پارٹی کے چیئرمین جیکسن نگ نے ان ارکان کو کنزرویٹو پارٹی کا رکن ہی تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ انھوں نے کہا کہ ڈومنک گریوز کی جانب سے مسلسل غیر کنزرویٹو رویئے کا اظہار انتہائی تشویشناک ہے۔ اگر وہ بورس جانسن کی جگہ جیرمی کوربن یا کسی اور کی حکومت کاساتھ دینے پر غور کر رہے ہیں تو انھیں کنزرویٹو پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلینی چاہئے کیونکہ اس طرح ان کا ہمارے ساتھ رہنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ لب ڈیم کی رہنما جو سوئنسن نے جیرمی کوربن سے ملاقات پر اتفاق کیا ہے لیکن انھیں اس بات کا یقین نہیں کہ جیرمی کوربن اپنے منصوبے کو عملی شکل دینے کیلئے ارکان پارلیمنٹ کی مطلوبہ تعداد کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔

یورپ سے سے مزید