آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 22؍محرم الحرام 1441ھ 22؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پی پی، نون لیگ نے پھر مولانا کے ساتھ ہاتھ کر دیا، فردوس عاشق


وزیر اعظم عمران خان کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ اپوزیشن کی ’آؤ آپس میں سیاست کریں‘ کی نئی قسط میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے ایک بار پھر مولانا کے ساتھ ہاتھ کر دیا۔

فردوس عاشق اعوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے آج بلائی گئی اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اے پی سی شہباز شریف کے کمر درد اور بلاول بھٹو زرداری کے تنظیمی دورے کی نذر ہو گئی ہے، ایک دوسرے سے سچ نہ بولنے والے قوم سے کیسے سچ بول سکتے ہیں؟

فردوس عاشق اعوان نے مزید کہا ہے کہ حضرت مولانا کا ایجنڈا کچھ اور جبکہ پیسہ بچاؤ پارٹیوں کا ایجنڈا کچھ اور ہے، مولانا صاحب کھوٹے سکے ہیں، وہ چلنے والے نہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات کا یہ بھی کہنا ہے کہ مولانا صاحب اِن کو چھوڑیں اور مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کریں۔

واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس آج اسلام آباد میں ہو رہی ہے جس کی صدارت امیرِ جمعیت علمائے اسلام ف مولانا فضل الرحمٰن کریں گے۔

اپوزیشن کی اے پی سی میں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف شرکت نہیں کریں گے۔

بلاول بھٹو زرداری اسکردو کے دورے پر روانگی کے باعث جبکہ شہباز شریف کمر کے درد کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکیں گے۔

ذرائع کے مطابق اے پی سی میں کشمیر کی صورتِ حال اور مسئلہ کشمیر پر اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ حکمتِ عملی طے کی جائے گی، جبکہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں ناکامی کے بعد کی صورتِ حال کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اے پی سی میں مسلم لیگ نون کی جانب سے خواجہ آصف، احسن اقبال اور ایاز صادق جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے یوسف رضا گیلانی، نیر بخاری اور فرحت اللّٰہ بابر شرکت کریں گے۔

آل پارٹیز کانفرنس کے دو سیشن ہوں گے جس میں حریت رہنماء بھی خصوصی طور پر شرکت کریں گے جو پہلے سیشن میں مسئلہ کشمیر پر بریفنگ دیں گے۔

اے پی سی کے دوسرے سیشن میں تمام اپوزیشن جماعتیں اپنا مشترکہ لائحہ عمل طے کریں گی۔

قومی خبریں سے مزید