آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ان دنوں ملک میں معافی کے وعدے پر گواہی دینے کا سلسلہ زوروں پر ہے۔ ایسے میں بہت سے ذہنوں میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ جب کسی شخص نے جرم کرنے یا شریکِ جرم ہونے کا اقرار کرلیا ہوتو اسے معافی کیسے مل سکتی ہے،یہ معافی صرف چند افراد کو کیوں ملتی ہے اور وہ بھی صرف ہائی پروفائل مقدمات میں اور صرف بڑے لوگوں کو؟

برطانوی قانون دان فرنے چارلس (Fearne Charles-1742-1794)نےاٹھارہویں صدی عیسوی میں’’ کرائون وِٹنیس‘‘کی قانونی اصطلاح متعارف کرائی تھی۔لیکن اس نے ایسا کچھ اور سوچ کر کیا تھا۔وہاں عدالتوں میں استغاثہ کو شدید مشکلات پیش آتی تھیں۔ شہادتوں اور شواہد کی عدم دست یابی کی وجہ سے ملزم صاف بچ نکلتے تھے۔چناں چہ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ کسی شریک ِجرم شخص کو رہائی کا لالچ دے کر کرائون وِٹنیس بنالیا جائے تاکہ مرکزی ملزم کے خلاف اس کی گواہی کو بنیاد بناکر اسےسزا دی جا سکے۔اس قانونی اختراع پراس وقت بھی انصاف پسند حلقوں نے سوالات اٹھائے تھے اور اب بھی ایسی گواہی معتبر خیال نہیں کی جاتی کیوں کہ ذاتی فائدے کی غرض سے ملزم کچھ بھی کہہ سکتا ہے

متعیّن تعریف نہیں

دراصل ہمارے فوج داری قانون میں وعدہ معاف گواہ کی کوئی تعریف متعیّن نہیں ہے۔ جب کسی فوج داری مقدمے میں واضح اورقابل اعتماد شہادتیں موجود نہ ہوں تو شریک ملزموں میں سے کسی ایک کو مقدمے کے اختتام پر رہائی دینے کے وعدے پر اقبالی بیان دینے پر تیار کیا جاتا ہے جس میں وہ وقوعہ میں ان افراد یا فرد کا نام اورکردار بیان کرتا ہے جس کی ایما پر اس نے یہ سب کچھ کیا تھا۔ رہائی کے وعدے پر اقبالی بیان دینے والا یہ ملزم وعدہ معاف گواہ کہلاتا ہے۔

استغاثے کے لیے سہولت

ہمارے سیاسی راہ نما جب حزبِ اختلاف میں ہوتے ہیں تو بہت سے قاعدے ،قوانین پر اعتراضات کرتے ہیں ،لیکن جوں ہی وہ اقتدار میں آتے ہیں وہ تمام اعتراضات ماضی کا حصہ بن جاتے ہیں۔چناں چہ آج بھی ہمارا قانون(جس کا بیش تر حصہ انگریزوں کے بنائے ہوئے قوانین پر مشتمل ہے) استغاثے کو یہ سہولت دیتا ہے کہ وہ اپنے مقدمے کے اصل ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے کسی دوسرے ملزم یا ملزمان کو وعدہ معاف گواہ بنا کر ان کی اصل ملزم یا ملزمان کے جرم میں اعانت کی ان کے اقبالی بیانات کے ذریعے تصدیق کرائے اور اس کی بنیاد پر اصل ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانے کی راہ ہم وار کر دے۔اس قانون کی موجودگی ہی کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹوکسی طرح تختہ دار تک پہنچائے گئے تھے۔لیکن بعد میں حکومت میں آنے والے سیاست دانوں نے بھی اس میں شاید یہ سوچ کر ترمیم نہیں کی کہ وہ اسے حزبِ مخالف کے خلاف استعمال کریں گے۔لیکن وقت انہیں غلط ثابت کرچکا ہے۔چناں چہ آج بڑے بڑے سیاست دانوں کے خلاف مقدمات میں وعدہ معاف گواہوں کا تانتا بندھا ہوا۔اور گواہ بھی وہ جو کبھی ان سیاست دانوں کے منظورِ نظر تھے۔

وعدہ معاف گواہ یا سہولت کار؟

دراصل استغاثہ نے بعض مقدمات قائم کرنےکے لیے ’’مخبروں‘‘کی خدمات حاصل کر رکھی ہوتی ہیں اور کیس ثابت کرنے کے لیے کبھی کبھار ایسے ملزمان میں سے کسی کووعدہ معاف گواہ (Approver) بنانے کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔ اس طرح وعدہ معاف گواہ درحقیقت سہولت کار ہوتا ہے جو کسی کم زور کیس کو کسی ملزم کے خلاف مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے صلے میں استغاثہ اسے متعلقہ مقدمے سے نکال دیتا ہے۔ تاہم یہ عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ وعدہ معاف گواہ کو جو درحقیقت متعلقہ مقدمے میں ملزم ہوتا ہے استغاثہ کی جانب سے اس کے ساتھ کیے گئے وعد ے کے مطابق اعترافِ جرم کے باوجود مقدمے سے نکال دے یا اس کے اعترافِ جرم کی بنیاد پر اسے سزا سْنا دے ۔ اس طرح وعدہ معاف گواہ کا مستقبل متعلقہ ٹرائل کورٹ کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔

ایک بہت بری مثال

اس ضمن میں پاکستان کی عدالتی تاریخ میں سب سے اہم، مگربہت بری مثال 1977ء میں نواب محمد احمد خان کے قتل کے مقدمے میں ملوث ایف ایس ایف کے پانچ افسران اور اہل کاروں بہ شمول ڈی جی ایف ایس ایف، مسعود محمود اور ڈپٹی ڈائریکٹر غلام عباس کو وعدہ معاف گواہ بنانے کی ہے جنہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف گواہی دی تھی کہ انہوں نے نواب محمد احمد خاں کو ذوالفقار علی بھٹو کی ہدایت پر قتل کیا اورکرایا تھا۔یہ گواہی ان کے اقبالی بیانات کی صورت میں دی گئی جن کے ذریعے انہوں نے خود بھی اپنے شریکِ جرم ہونےکا اعتراف کیا۔ چناں چہ اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ بنائے گئے اور لاہور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کر کے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ایف ایس ایف کے اہل کار چار وعدہ معاف گواہوں کو بھی موت کی سزا سْنا دی۔ صرف مسعود محمود کو کیس سے باہر نکالے جانے کی رعایت ملی جنہوں نے اپنی باقی ماندہ زندگی جلاوطنی میں گزاری۔ایسے کیس کے فیصلہ کے بعد کوئی ملزم سوچ سمجھ کر ہی وعدہ معاف گواہ بنتا ہے کیوں کہ اس صورت میں اسے اپنے جرم کا اعتراف بہ ہر صورت کرنا ہوتا ہے جس سے اصل ملزم کے گلے میں پھانسی کا پھندہ ڈالنا تو آسان ہو جاتا ہے، مگر اعترافِ جرم کی بنیاد پر یہ پھندہ وعدہ معاف گواہ یا گواہوں کے گلے میں بھی پڑ سکتا ہے۔

ان گواہوں کی ضرورت کیوں؟

ایسے گواہان دنیا بھر میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص مل ہی جاتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ ان کی پیدائش کا آغازکب اور کیسے ہوا۔دراصل برطانوی قانون دان فرنے چارلس (Fearne Charles-1742-1794)نےاٹھارہویں صدی عیسوی میں’’ کرائون وِٹنیس‘‘کی قانونی اصطلاح متعارف کرائی تھی۔لیکن اس نے ایسا کچھ اور سوچ کر کیا تھا۔وہاں عدالتوں میں استغاثہ کو شدید مشکلات پیش آتی تھیں۔ شہادتوں اور شواہد کی عدم دست یابی کی وجہ سے ملزم صاف بچ نکلتے تھے۔چناں چہ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ کسی شریک ِجرم شخص کو رہائی کا لالچ دے کر کرائون وِٹنیس بنالیا جائے تاکہ مرکزی ملزم کے خلاف اس کی گواہی کو بنیاد بناکر اسےسزا دی جا سکے۔ اس قانونی اختراع پراس وقت بھی انصاف پسند حلقوں نے سوالات اٹھائے تھے اور اب بھی ایسی گواہی کو معتبر خیال نہیں کیا جاتاکیوں کہ ذاتی فائدے کی غرض سے ملزم کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔یہ قانونی گنجائش تو شریک ِملزم کو سلطانی گواہ بنانے کی حد تک تھی، مگر استغاثہ نے یہ راستہ بھی نکال لیا کہ کسی بے گناہ شخص کو زبردستی شریک ملزم بنا کر گرفتار کرلیا جائے اور پھر اسے سلطانی گواہ بننے کے عوض رہائی کی پیش کش کی جائے۔

اخلاقیات اور انصاف کے بارے میں سوالات

دراصل وعدہ معاف گواہ ،یعنی شریکِ جرم شخص کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ وہ پھنسا ہے تو اس کی ساری لوٹ کھسوٹ اور ناجائز کام صرف اس شرط پر معاف ہو سکتے ہیں کہ وہ سچ بتا دے اور ایسے ثبوت مہیا کر دے جس سے دوسرے شخص کو سزا ہو جائے۔ ذوالفقار علی بھٹو کیس میں وعدہ معاف گواہ بننے والے مسعود محمود فیڈرل سیکیورٹی فورس کے سر براہ تھے۔ لہذا انہیں اپنے پھانسی چڑھنے کا خطرہ تھا۔آج بھی بعض سرکاری ملازم ایسے گواہ بن رہے ہیں۔حالاں کہ وہ برسوں مزے کرتے رہے اورمبینہ ناجائز کاموں میں معاونِ خصوصی بنے رہے۔دوسری جانب پاکستان کا قانون کہتا ہے کہ غیر قانونی کاموں سے انکار کر دیا جائے ۔سرکاری ملازم، وہ بھی بیوروکریٹس کی نوکری اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتی ۔باس ناراض ہوجائے تو ان کا تبادلہ ایسی جگہ کردیا جاتا ہے جہاں یا تو ’’خشکا‘‘ ہوتا ہے یا وہ دور دراز علاقہ ہوتا ہے۔ اگرآج وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے اوپر والوں نے ان سے غلط کام کرائے تو ان لوگوں کا جرم بھی بڑے ملزم کے برابر ہے اور انہیں بھی سزا ملنی چاہیے۔ممتاز قانون داں وسیم سجاد کے بہ قول ان کی مدد اس لیے ضروری ہوتی ہے کہ نا قابلِ تردید ثبوت حاصل کیے جاسکیں۔لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ یہ سہولت صرف ہائی پروفائل کیسز میں کیوں فراہم کی جاتی ہے اور یہ رعایت صرف اعلی سرکاری عہدے داروں کے نصیب میں ہی کیوں آتی ہے؟اصولا تو یہ ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ معاملات پر نظر رکھے۔ اینٹی کرپشن، ایف ائی اے اور بہت سے محکمے کس کام کے ہیں؟پاکستان کا آئین اسے اسلامی،جمہوری ملک قرار دیتا ہے۔اسلام کسی چور کو صرف اس لیے چھوڑدینے کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ دوسرے چور کو پکڑوا دے۔چناں چہ ہمیں اس قانون پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ایسا ہوتا رہا تو غلط کام کرنے والے بیروکریٹس ہمیشہ صاف بچ نکلیں گے اور اپنی حرام کی کمائی سے گلچھرے اڑانے بیرون ملک چلے جائیں گے۔ایسا ہوتا رہا تو اس ضمن میں اخلاقیات اور انصاف کے بارے میں سوالات اٹھتے رہیں گے۔

قانون کے غلط استعمال کی مثالیں

اس قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے ماضی میں بعض اہم مقدمات کے متنازع فیصلے دیے گئے۔ہمارے ملک میں ذوالفقار علی کی پھانسی کا فیصلہ اس کی بدترین مثال ہے۔لیکن ایسا اس سے قبل بھی ہوا تھا۔ بھگت سنگھ جسے بھارت اور پاکستان میں جدوجہد ازادی کا ہیرو سمجھا جاتا ہے، اسے سلطانی گواہوں کے ذریعے ہی قتل کے مقدمے میں پھنسا کر پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔بھگت سنگھ اور بی کے دَت نے 8اپریل 1929ء کو مرکزی دستور ساز اسمبلی میں بم پھینکے اور موقعے پر ہی خود کو سرنڈر کر دیا۔اس مقدمے میں دونوں کوچودہ برس قید کی سزا سنائی گئی۔ مگر بھگت سنگھ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوف زدہ انگریز حکومت نے انہیں ایک اور مقدمے میں پھنسانے کا فیصلہ کیا۔ہوا کچھ یوں تھا کہ لاہور میں برطانوی پولیس افسر جان پی سینڈرز اور ہیڈ کانسٹیبل چنان سنگھ کو قتل کر دیا گیا تھاجس کی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج تھی مگر اسے بھی بھگت سنگھ کے کھاتے میںڈال دیا گیا۔یکم مئی 1930ء کو وائسرائے لارڈ اِروِن نے ایک آرڈی نینس کے ذریعے ا سپیشل ٹریبونل قائم کیا تاکہ بھگت سنگھ کا ٹرائل کیا جا سکے۔سماعت شروع ہوئی تو جے گوپال،پھندر گوش اور صبح سنگھ کو سلطانی گواہ بنا لیا گیا۔ٹریبونل نے بھگت سنگھ اور راج گرو کو سزائے موت سنا دی اور 23مارچ 1931ء کو انہیں لاہور میں پھانسی دے دی گئی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس ٹریبونل نے یہ سزا سنائی، اس کی اپنی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی کیوں کہ مقدمے کا فیصلہ ہونے کے تین ہفتے بعد ہی وہ آرڈی نینس اسمبلی سے منظور نہ ہونے کی وجہ سے کالعدم ہو گیا جس کی رُو سے ٹریبونل قائم کیا گیا تھا۔

انگریز تو چلا گیا ،لیکن اپنے پیچھے جو قانون چھوڑ کر گیا ہم نے اسے نام بدل کر اپنے سینے سے لگالیا ۔چناں چہ قیام پاکستان کے بعد اس نوعیت کا سب سے بڑا مقدمہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا تھا۔ اس وقت کی قومی اسمبلی کے رکن احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان قصوری کو قتل کر دیے گئے تھے۔احمد رضا قصوری کے مطابق بھٹو صاحب انہیں قتل کی دھمکی دے چکے تھے اور چوں کہ اس وقت حکومت پیوپی پی کی تھی لہذا اس قتل کا الزام ایف ایس ایف (بھٹو صاحب کی بنائی ہوئی فیڈرل سیکورٹی فورس)پر لگایاگیا۔بنیادی طور پر اس مقدمے کے مرکزی ملزم ایف ایس ایف کے سربراہ مسعود محمود تھے جنہیں ضیاء الحق کے دور میں سلطانی گواہ بنا کر معاف کر دیا گیا اور پھر پھانسی کا پھندا ذوالفقار علی بھٹو کے گلے میں فِٹ کر دیا گیا۔مسعود محمود نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ انہیں یہ حکم وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے دیا گیا تھا۔

چوبیس اکتوبر1977 کو احمد رضا قصوری کے والد کے قتل کا مقدمہ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا لاہور ہائی کورٹ پہنچا جہاں مولوی مشتاق حسین چیف جسٹس تھے ۔ وہ 1965 میں ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ وزیرِ خارجہ کے طور پر کام کرچکے تھے ،مگر وہ ذوالفقار علی بھٹو کے کھلم کھلا مخالف مشہور تھے۔کہا جاتا ہے کہ خود ذوالفقار علی بھٹو نے چیف جسٹس کے ساتھ اپنے ذاتی اختلاف کا معاملہ اٹھایا تھا اور جیسے ہی مقدمہ شروع ہوا انہوں نے اپنا اعتراض درج کروایا جس پر مولوی مشتاق نے کہا کہ یہ فیصلہ اعلیٰ عدلیہ کو کرنے دیں کہ مقدمے کی سماعت کون کرے گا۔ میں ہائی کورٹ کا جج ہوں، مقدمہ بھی میں سنوں گا اور فیصلہ بھی میں ہی کروں گا۔اس جواب پر بھٹو صاحب نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔

مقدمہ ٹرائل کورٹ کے بعد ہائی کورٹ سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ میں پہنچا تو سات رکنی بنچ نے تین کے مقابلے میں چار کے اکثریتی فیصلے سے ان کی سزا برقرار رکھی۔جسٹس غلام صفدر شاہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ مسعود محمود کے بعض بیانات صرف سنی سنائی باتوں کی ذیل میںآتے ہیں اس لیے بہ طور شہادت قابلِ قبول نہیں ہو سکتے۔علاوہ ازیں وعدہ معاف گواہ بہ ذاتِ خود کوئی ایسا قابلِ اعتماد گواہ نہ تھا۔ جسٹس محمد حلیم نے جسٹس غلام صفدر شاہ کی بات سے اتفاق کیا ۔جسٹس دُراب پٹیل نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا کہ سلطانی گواہ مسعود محمود کوئی قابلِ اعتبار گواہ نہ تھا اور اس قسم کے مقدمے میں اس کی شہادت سے زیادہ کوئی معتبر شہادت درکار تھی۔

پھر زمانہ بدلا تو قانون شہادت میں ترمیم کی گئی مگر وعدہ معاف گواہ بننے کا راستہ نہیں روکا گیابلکہ اس کا نام ’’سلطانی گواہ ‘‘ سے بدل کر ’’وعدہ معاف گواہ‘‘ کردیا گیا ۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں اسحاق ڈار کو وعدہ معاف گواہ بنا کر نوازشریف کو سزا دی گئی اور شریک ملزموں کے لیے وعدہ معاف گواہ بن کر رہائی پانے کی فراخ دلانہ پیش کش کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔آج مسلم لیگ (ن) ہی نہیں پیپلز پارٹی کی قیادت کا بھی اسیانداز سے سخت احتساب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

حکم رانوں کے لیے سبق

ہمارے حکم راں جب سرکاری حکام سے اپنے ناجائز احکا ما ت کی تعمیل میں مگن ہوتے ہیں تو انہیں قطعاً یاد نہیں رہتا کہ اقتدار سدا رہنے والی چیز نہیں اور کسی نہ کسی روز یہی غیر قانونی احکامات گلے کا پھندا بن سکتے ہیں اور ان کے حکومت میں ہونے کے وقت یس سر‘ یس سر کہنے والے شریکِ جرم سرکاری حکام مخبری کریں گے اوروعدہ معاف گواہ بنیں گے۔ ریڑھ کی ہڈی سے محروم سرکاری افسران طاقت ور حکم رانوں کی ہاں میں ہاں ملاتے‘ انہیں قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر من مانی کے طریقے بتاتے، غلط کاری پر اکساتے اور یہ باور کراتے ہیں کہ آپ سیاہ کو سفید کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔اس تابع داری اور اطاعت شعاری کی آڑ میں وہ اپنی اگلی نسلوں کا مستقبل سنوارتے ہیں، مگر جب کڑا وقت آتا ہے تو سارا ملبہ باس پر ڈال کر اپنی جان بچالیتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد بڑے بڑے حکم رانوں کے نفسِ ناطقہ کہلانے والے بیورو کریٹس کے انٹرویوز اور سوانح عمریاں پڑھیں تو یوں لگتا ہے کہ ان سے زیادہ دیانت دار،قابل، پارسا اور محب وطن سرکاری افسر پیدا نہیں ہوا۔ البتہ ان لوگوں کا جن حکم رانوں سے واسطہ پڑا وہ پرلے درجےکے کم عقل، بددیانت،قانون شکن اورمفاد پرست تھے۔ غلام محمد، اسکندر مرزا، ایوب خان اور ضیاء الحق جیسے حکم رانوں کا امیج مخالفین سے زیادہ صبح و شام ان کے نام کا ورد کرنے والے سول اور فوجی ساتھیوں نے خراب کیا اور انہیں برائی کا محور بتایا۔لیکن وہ اپنی اصلیت نہیں بتاتے۔

ماضی بھلائے نہیں بھولتا

آج ملک میں احتساب کا جو عمل شدت سے جاری ہے اگروہ کسی امتیاز و تفریق اور رُو رعایت کے بغیر جاری رہے توبہت اچھی بات ہے۔لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر آج سابق حکم راںزد میں ہیں تو کسی نہ کسی دن موجودہ حکومت کے غلط کار لوگ بھی اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے کہ یہ مکافات عمل ہے۔ دوسری جانب نیب پر اعتراضات کرنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کل تک میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے اتفاق رائے سے چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے والے جسٹس (ر) جاوید اقبال کی مدح و ثنا میں مشغول تھے اور اسے صدی کا عظیم کارنامہ قرار دے رہے تھے۔ پھر آج ان کے خلاف اتنا واویلا کیوں؟

ایسا صرف ہمارے ہاں ہی ہوتا ہےکہ قائد حزب اختلاف کی گرفتاری سے جمہوریت خطرے میں پڑجاتی ہے۔ اسرائیل کا وزیر اعظم چودہویں بار تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوا۔ کوریا کے ایک سابق صدر کی حال ہی میں گرفتاری عمل میں آئی اور صدر پارک اپنے منصب پر موجودگی کے دوران گرفتارہوئیں۔ مگر دونوں ممالک میں سیاسی نظام کو کوئی خطرہ درپیش ہونے کی بات نہیں کی گئی۔ایک حقیقت یہ بھی ہےہمارے معاشرے میں طاقت وروں کے احتساب کی روایت نہیں ہے۔بدقسمتی سے پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں جرائم پیشہ عناصر سیاست اور سیاسی جماعتوں کی آڑ میں اپنا گھنائونا کاروبار کرتے اور حرام کی دولت اور طاقت کے بل بوتے پر پارلیمانی ایوانوں میں پہنچ کر مزید دولت و اختیار سمیٹتے ہیں۔ماضی میں کئی جرائم پیشہ اس راستے سے اسمبلیز میں پہنچے اور کئی سیاسی جماعتوں کاکاروبار ان ہی کے دم قدم سے چلتا ہے۔

آج نواز شریف کو بھٹو سے ملانے والے اور مریم صفدر کے ساتھ بے نظیر بھٹو جیسا برتائوکرنے کی باتیں کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اسی بے نظیر بھٹو کے خلاف میاںنواز شریف‘ نون لیگ اور اسلامی جمہوری اتحاد نے 1988ء اور 1990ء کے انتخابات کے دوران کیا زبان استعمال کی تھی اور ایک دن جب وزیر اعظم بے نظیر بھٹو پیلا سوٹ پہن کر قومی اسمبلی میں پہنچی تھیں تو مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے اراکین نے ان پر کیسی کیسی آوازیں کسی تھیں۔اس وقت میاں نواز شریف مسکراتے اور ڈیسک بجاتے دکھائی دیے تھے۔نواز شریف نے اپنے دو ادوار میں بے نظیر بھٹو کے خلاف 17 سے زاید مقدمات بنوائے۔ان کے بھائی شہباز شریف اور احتساب سیل کے سربراہ سیف الرحمن کا ان مقدمات میں کیا کردار تھا، یہ ذھکی چھپی بات نہیں۔ نواز شریف کے حکم کو سیف الرحمن نے جسٹس ملک قیوم تک پہنچایا تھا کہ بے نظیر بھٹو اورآصف زرداری کو کم از کم سات سال کی سزا دی جائے۔اس ٹیلی فونک گفتگو کی ریکارڈنگ منظر عام پر آئی تو دو ججز کو منصب سے الگ ہونا پڑاتھا اور سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر مقدمے کی دوبارہ سماعت کاحکم دیاتھا۔

احتساب بہ جا،لیکن انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے

احتساب کیجیے لیکن بھونڈے انداز میں نہیں،اسے مذاق نہ بنائیے۔ نیب کو ایسے وکلا دیں جو نامی گرامی وکیلوں کے پلّے کے ہوں۔ کہاجاتا ہے کہ نیب نے میاں نواز شریف کے کیس میں بہت سی غلطیاں کیں جن کا فائدہ میاں صاحب کے وکلا نے خوب خوب اٹھایا۔مریم صفدر کی جانب سے جھوٹی ٹرسٹ ڈیڈکے خلاف درخواست دینے کا خیال نیب کو اس وقت آیا جب اس کا وقت گزرچکا تھا۔کیا اس بارے میں کوئی پوچھ گچھ ہوگی یا نہیں؟ یا یہ خفیہ طورپر کیس خراب کرنے کی کسی طے شدہ حکمت عملی کا حصہ تھا؟

پاکستان کا ہر قانون پسند شہری یہ چاہتا ہے کہ اپنے جائز ناجائز اختیارات یا اپنی حیثیت سے فائدہ اٹھا کر جس نے بھی جو بھی جرم کیا ہو اس کے معاملہ میں کسی رو رعایت سے کام لینے یا اپنی کسی سہولت کی خاطر اسے قانون و انصاف سے بچانے کی سہولت دینے کے بجائے اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور اس کے جرم کی جو قانونی سزا ہے اس پربلا خوف و خطر عمل درآمد کرایا جائے۔ لیکن اگر آج بھی مقصد کسی کو اس کے جرم کی سزا دلانے اور دینے کے بجائے اسے اپنے مقاصد کے لیے محض دبائو میں رکھنے اور مقصد پورا ہونے پر اس کے جرائم پرپردہ ڈالنا ہے تو اسے انصاف نہیں کہا جا سکتا ۔ انصاف تو وہ ہوتا ہے جو ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید