آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 22؍محرم الحرام 1441ھ 22؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور ہائیکورٹ نے پی سی بی کا کمیٹی کے خاتمےکا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا

لاہور(جنگ نیوز)لاہور ہائیکورٹ نے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے پی سی بی کی طرف سے کمیٹی کے خاتمے اور تینوں عہدیداران پر پابندی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔لاہور ہائیکورٹ نے ایک پٹیشن میں ساجد شاہ، آصف ظہیر اور عاشق حسین پر کرکٹ بورڈ کی طرف عائد تین سالہ پابندی کے فیصلے کو بھی معطل کر دیا۔ ایڈووکیٹ نعمان حیدر زیدی کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے راولپنڈی کے ہیڈ کوچ صبیح اظہر، اسلام آباد کے ہیڈ کوچ تیمور اعظم، فاٹا ریجن کے ہیڈ کوچ ایاز اکبر اور اسسٹنٹ مینجر ملک خرم شہزاد اعوان کو ان کے عہدوں پر بحال کردیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جج شاہد مبین نے متفرق پٹیشنز میں پنڈی کے ہیڈ کوچ صبیح اظہر، اسلام آباد کے ہیڈ کوچ تیمور اعظم، فاٹا ریجن کے ہیڈ کوچ ایاز اکبر اور ملک خرم شہزاد اعوان کی برطرفی کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔ ایڈووکیٹ نعمان حیدر زیدی کے مطابق کرکٹ بورڈ نے میرٹ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے بغیر کسی وجہ کے ملک کے بہترین کوچ اور ایک سو ساٹھ فرسٹ کلاس میچ کھیلنے والے صبیح اظہر کو برطرف کر دیا تھا۔ کرکٹ بورڈ نے ملک کے بہترین اور جونیئر ٹیموں کے ساتھ بہترین نتائج دینے والے اسلام آباد کے ہیڈ کوچ تیمور اعظم اور فاٹا ریجن کے ہیڈ کوچ ایاز اکبر کو سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے بغیر وجوہ اور میرٹ

برطرف کر دیا تھا۔صبیح اظہر لیول فور ماسٹر کوچ کا اعزاز رکھتے ہیں اور کرکٹ بورڈ کی طرف سے ہونیوالی ایویلیوشن میں پہلے نمبر پر آئے تھے۔ایڈووکیٹ نغمان حیدر زیدی نے کہا کہ کرکٹ بورڈ نے اسسٹنٹ مینجر ملک خرم شہزاد اعوان کو بھی سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے ڈکٹیٹر شپ کے انداز میں ملازمت سے برطرف کیا تھا۔ بہترین صلاحیتوں کے حامل افراد کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے پر کرکٹ کے حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ہائیکورٹ کی جانب سے صبیح اظہر اور ملک خرم شہزاد اعوان کی عہدوں پر بحالی نے کرکٹ بورڈ کے سیاسی انتقام پر مبنی اقدامات کی قلعی کھول دی۔ہائیکورٹ نے سید ابصار حسین کی سربراہی میں بننے والی راولپنڈی کی ڈسٹرکٹ کی عبوری کمیٹی کو بھی معطل کر دیا۔ہائیکورٹ نے ساجد شاہ، آصف ظہیر اور عاشق حسین پر مشتمل ڈسٹرکٹ راولپنڈی کی عبوری کمیٹی کو بحال کر دیا۔ایڈووکیٹ نغمان حیدر زیدی کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرکٹ بورڈ نے خود ساختہ اور جانبدارانہ انکوائری کے ذریعے ساجد شاہ، آصف ظہیر اور عاشق حسین پر مشتمل عبوری کمیٹی کو ختم کرتے ہوئے عہدیداران پر تین سال کی پابندی عائد کر دی تھی۔پی سی بی نے ابصار حسین کی سربراہی میں جانبدار اور نااہل عبوری کمیٹی قائم کی تھی۔ ابصار حسین کی عبوری کمیٹی نے پی سی بی کے قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد کرایا۔ خود ساختہ اور جانبدار عبوری کمیٹی نے پچیس نئی کلبوں کی رجسٹریشن کی۔ابصار حسین کی سربراہی میں قائم عبوری کمیٹی نے ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے ہر کلب سے دس ہزار روپے انٹری فیس کی وصولی کی۔ملکی کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈسٹرکٹ ٹورنامنٹ میں انٹری فیس وصول کر کے قوانین کی دھجیاں بکھیری گئیں۔ابصار حسین کی سربراہی میں قائم عبوری کمیٹی سے کھیل اور کھلاڑیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔کرکٹ کے حلقوں نے اس غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات کا ذمہ دار احسان مانی، ذاکر خان، بدنام زمانہ سلیم اصغر میاں، اور کرپٹ مسعود انور کو قرار دیا ہے۔ ایڈووکیٹ نغمان حیدر زیدی نے کہا کہ ایک اور پٹیشن میں لاہور ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ چکوال کے کلبوں کی اسکروٹنی کو بھی معطل کر دیا ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ مردان کے صدر اور سیکرٹری کے الیکشن ملتوی کرنے کا کرکٹ بورڈ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔لاہور ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ مردان کے صدر اور سیکرٹری کا الیکشن کروانے کے احکامات جاری کر دیئے۔

اہم خبریں سے مزید