آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍محرم الحرام 1441ھ 17؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیرِ اعظم آئندہ ہفتے کشمیر پر قوم سے خطاب کرینگے: فردوس عاشق

وزیرِ اعظم عمران خان کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان آئندہ ہفتے کشمیر سے متعلق قوم سے خطاب کریں گے۔

لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کی معاونِ خصوصی کا یہ بھی کہنا ہے کہ قومی سطح پر کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کا دن بھی منایا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے فوکل گروپ قائم کر دیا ہے۔

اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کشمیریوں کے سفیر ہیں، بھارت نے کشمیر میں ظلم و بربریت کی انتہا کر دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سکھ برادری کو یقین دلاتا ہوں کہ کرتارپور راہداری پر کام نہیں رکے گا، اس پر 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

گورنر پنجاب نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے حالات جیسےبھی ہوں، کرتار پور راہداری پر کام اپنے شيڈول کے مطابق جاری ہے اور بابا گرونانک کی برسی کے موقع پر راہداری کو سکھ یاتریوں کے لیے کھولا جائے گا، اس سلسلے میں تمام تیاریاں مکمل ہیں۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارت کی پابندیاں تیسرے ہفتے بھی جاری ہیں، ان پابندیوں کا آغاز بھارت نے آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں مسلسل بیسویں روز بھی لاک ڈاؤن ہے، مواصلاتی رابطے منقطع ہیں، کرفیو اور پابندیوں کے باعث کاروبارِ زندگی معطل ہے۔

قابض فوج روز ظلم کی ایک نئی داستان رقم کرنے لگی ہے، آزادی کے نعروں کو دبانے کے لیے ایک جانب ہزاروں افراد کو گرفتارکیا گیا ہے تو دوسری جانب قابض بھارتی فورسز کی جانب سے فائرنگ اور پیلٹ گنز کا خوفناک استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

سیکڑوں نوجوان پیلٹ گنز کے چَھرّے لگنے سے شدید زخمی ہو گئے لیکن ان کے حوصلے پھر بھی جوان ہیں، کہتے ہیں کہ صحت مند ہوں گے تو دوبارہ احتجاج کریں گے، بھارتی شیلنگ سے ایک کشمیری خاتون بھی شہید ہوگئیں۔

احتجاج روکنے کے لیے اب تک 10 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے، مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کا کام، روزگار سب کچھ ختم ہو چکا ہے، زندگی ختم ہو گئی ہے، اسکول بند ہیں، حالات ٹھیک نہیں ہیں، سب اپنے گھروں میں بند ہیں۔

دوسری جانب لائن آف کنڑول کے پاس آزاد کشمیر کے دیہات بھی بھارتی اشتعال انگیزی سے محفوظ نہیں اور وہاں نظامِ زندگی متاثر ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں ہمیں پُرامن زندگی بھی گزارنے نہیں دی جارہی، ہر وقت خطرہ ہے، مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر میں بسنے والے خاندانوں میں گزشتہ 20 دن سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

قومی خبریں سے مزید