آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 18؍محرم الحرام 1441ھ 18؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ ویمن ایگریکلچرل ورکرز ڈرافٹ بل 2019 کی منظوری

سندھ ویمن ایگریکلچرل ورکرز ڈرافٹ بل 2019 کی منظوری


سندھ کابینہ نے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے ’سندھ ویمن ایگریکلچرل ورکرز ڈرافٹ بل 2019‘ کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت زرعی، لائیو اسٹاک، فشریز اور دیگر ایگرو بیسڈ کاموں سے وابستہ خواتین صنعتی اور دیگر شعبوں کے لیبر ورکرز کو ملنے والے تمام حقوق اور فوائد سے مستفید ہوسکیں گی۔

اس بات کی منطور ی ہفتے کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت سندھ کابینہ کے اجلاس میں دی گئی۔

اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ، صوبائی وزراء، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب اور صوبائی سیکریٹریز و دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 3کوراٹرز سے زائد عرصے سے خواتین ورکرز ملک میں زرعی شعبے سے وابستہ ہیں، ان میں سے نصف سے زائد خواتین بغیر کسی ادائیگی کے فیملی ہیلپر کے طور پر کام کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے ویمن ایگریکلچرل ورکرز کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

کابینہ کے اجلاس میں محکمہ محنت نے بل پیش کیا اور صوبائی وزیر محنت سعید غنی نے کابینہ کو اس بل کے اہم انکات کے بارے میں آگاہ کیا۔

سندھ ویمن ایگریکلچرل ورکرز ڈرافٹ بل 2019 کی منظوری
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کابینہ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس کی منظوری ایک تاریخی فیصلہ ہے اور یہ شہید بے نظیر بھٹو کے خواتین کو بااختیار بنانے کے خواب کی تعبیر بھی ہے۔

ڈرافٹ بل میں بتایا گیا ہے کہ خواتین زرعی ورکرز نقد کی صورت میں ادائیگی وصول کریں گی یا کسی بھی زرعی کام جو وہ انفرادی طور پر کریں گی یا فیملی یونٹ کے حصے کے طور پر، زمین اور لائیو اسٹاک جو اس کے اپنے خاندان کا ہوگا یا کسی اور کا، اُس کو اس کام کی مرد ورکرز کے مساوی ادائیگی ہوگی۔

خواتین زرعی ورکرز کو ادا کی جانے والی رقم حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً مقرر کی جانے والی کم از کم اُجرت سے کم نہیں ہوگی اور کام کرنے کے اوقات کار روزانہ 8 گھنٹوں سے زائد نہیں ہوں گے اور ان کو ایک گھنٹے کا بریک بھی ملے گا، خواتین ورکر 90 دن کی میٹرنٹی چھٹی کی بھی حقدار ہوں گی۔

یہ قانون خواتین ورکر کو سرکاری زرعی، لائیو اسٹاک، فشریز اور دیگر خدمات ، کریڈٹ، سوشل سیکورٹی، سبسڈیز تک رسائی اور اثاثوں کی منتقلی انفرادی طور پر کرنے کا حق یا دیگر خواتین زرعی ورکرز کے ساتھ ایسوسی ایشن میں کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

ایک خاتون ورکر اگر وہ مطالبہ کرے تو امپلائمنٹ کا تحریری کنٹریکٹ وصول کرے گی، نئے قانون میں خواتین ورکرز کو سماجی بہبود بشمول چائلڈ ہیلتھ، کمیونٹی ڈیولپمنٹ، اکنامک پرافٹ کا بھی حق دیا گیا ہے۔

حکومت محکمہ لیبر کے ذریعے خواتین زرعی ورکر ز کو ہر ایک یونین کی سطح پر رجسٹر کرےگی، رجسٹرڈ خواتین کو بے نظیر کارڈ دیے جائیں گے اور کارڈ ہولڈرز اپنے گروپ یا ایسوسی ایشن بنانے کے اہل ہوں گے۔

بی ڈبلیو ایس او:
سندھ حکومت نے بے نظیر ویمن سپورٹ آرگنائزیشن (بی ڈبلیو ایس او) محکمہ محنت کے تحت قائم کرے گی، جس میں انڈومنٹ فنڈ ہوگا جس سے خواتین ورکرز کو فنی اور مالی مدد فراہم کی جائے گی، یہ ادارہ خواتین کو رجسٹر کرے گا، انہیں کارڈ جاری کرے گا اور انہیں سپورٹ کرنے کے لیے ان کا ڈیٹا بیس تیار کرے گا، کابینہ نے مذکورہ ایکٹ کی منظوری دے دی اور یہ بل اسمبلی ایک ہفتے کے اندر بھیجا جائے گا۔

سندھ کابینہ کا اجلاس 12 نکاتی ایجنڈے پر مشتمل تھا، اجلاس میں ٹیچنگ اسپتال کی مینجمنٹ بورڈ بل 2019 پیش کیا گیا، بل میں ادویات کی خریداری کو سندھ پی پی آر اے سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔

خیر پور میڈیکل کالج کے ملازمین اور فیکلٹی کی ریگولرائیزیشن، ایس ایم بی بی انسٹیٹیوٹ آف ٹراما کراچی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی تقرری، صوبے میں سیلابی صورتحال پر غور، سندھ ویمن ایگریکلچرل ورکس ایکٹ 2019، سیسی کی گورننگ باڈی کا قیام، موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم کر کے آن لائن سہولت کو قانونی شکل دینا، سندھ آئی سی ٹی بورڈ کا قیام، معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے ایڈوائزری کونسل کا قیام، سندھ فوڈ فورٹیفیکیشن بل 2019 شامل تھے۔

قومی خبریں سے مزید