آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 22؍محرم الحرام 1441ھ 22؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
گل دخار…سیمسن جاوید
ترکی کے دارالحکومت استنبول سے مجھے ایک خط ملا۔یہ خط پرویز مسیح کھوکھر نے اپنے ایک دوست کے ذریعے بھجوایا۔
محترم سیمسن جاوید صاحب!
آداب عرض،میں اکثر جنگ اخبار میں شائع ہونے والے آپ کے کالم پڑھتا ہوں ۔ آپ اپنے کالم کے ذریعے پاکستان میں بسنے والی مسیحی کمیونٹی کے مسائل کو دوسروں اور حکومتی اداروں تک پہنچاتے ہیں ۔میں اور میرے دوست آپکا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔میرا تعلق گوجرانوالہ کے قریب شیخوپورہ روڈ پر واقع گائوں فتح پور سے ہے ۔والدین پڑھے لکھے نہ ہونے کی وجہ سے میں بھی زیا دہ نہ پڑھ سکا۔ کم پڑھا لکھا ہونے اور نوکری نہ ہونے کی وجہ سے مجھے بہت مشکل حالات دیکھنے پڑے۔ آخر کوشش کرکے پیسے جمع کئے اور ایک دوست کی مدد سے میں ترکی کے دارالحکومت استبول آگیا۔ یہاں میں ایک دوکان پہ کام کرتا ہوں اورہم پاکستانی دوست مل کر ایک کرایے کے مکان میں رہتے ہیں۔ ترکی ایک اسلامی ملک ہے مگر یہ ملک پاکستان کی طرح بالکل بھی نہیں۔یہاں کسی بھی انسان سے اس کے فرقے یا مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کا امتیاز نہیں برتا جاتا۔میں جب پاکستان کی صورتحال پر سوچتا ہوں تومجھے بے انتہا افسوس ہوتا ہے ۔ سوچتا ہوںکہ ہمارا ملک انسانی تفریق سے کب باہر نکلے گا۔میں چونکہ خودکم پڑھالکھا ہوں اورایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا

ہوں۔اس لئے نوجوان لڑکے لڑکیوں کی غربت اور تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے معاشرتی بدحالی اور نا انصافیوں کو دیکھ کر مجھے رونا آتاہے۔وہ محرومیاں جو میں نے دیکھی ہیں،میں اپنے گاؤں کے لوگوں میں نہیں دیکھنا چاہتا ۔اس لئے میں نے قلیل آمدن کے باوجود اپنےگاؤں میں لائبریری بنوائی ہے تاکہ نوجوان اس سے استفادہ حاصل کر سکیں۔ ہمارے گاؤں میں لڑکے لڑکیوں کے لئے گورنمنٹ سکول ہے ۔ہم دوستوں کی مدد سے وہاں پڑھنے والے بچوں کیلئے فیس اور یونیفارم کا اہتمام کرتے ہیں۔اس کے علاوہ عورتوں اور جوان لڑکیوں کے لئے سلائی سکول بھی کھولا ہے تاکہ عورتیں اپنی مدد آپ کے تحت اپنے خاندان کو غربت سے چھٹکارا دلانے میں کارآمد ہوں اوران مسائل کو بتدریج حل کر سکیں جنکی وجہ سے یہ جابر معاشرہ ان سے اچھا سلوک روا نہیں رکھتا اور معاشی حالات بہتر بناکر ان مشکلات کا سامنا جرأت مندی سے کر سکیں ۔ستمبر میں ہم گاؤں میں درخت لگانے کی مہم شروع کررہے ہیں۔ہم اپنی مدد آپ کے کلیے پر عمل پیرا ہو کر گاؤں میں پینے کے صاف پانی کا فلٹر بھی لگوا رہے ہیں۔بہت دکھ اور افسوس ہوتا ہے جب پاکستان میں وحشی درندے اور ہوس کے پیجاری کمسن بچیوں کواجتماعی ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد انہیں قتل کر دیتے ہیں ۔ غیرمذاہب سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو مذہب تبدیل کروا کر ا نہیں شادی کرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے ۔کوئی انہیں روکنے والا نہیں۔اب کچھ دنوں سے سننے میں آ رہا ہے کہ گجرات کی مسیحی آبادی میں کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ہماری حکومتِ پاکستان سے درخواست ہے کہ غریب مسیحی آبادیوں کو تحفظ فراہم کیاجائے۔ پولیس جومعاشرے میں برائی ختم کرنے ،امن قائم کرنے ا ور قانون پر عمل درآمد کروانے کے لئے بنائی گئی ہے،خود بہت سے بھیانک جرائم میں ملوث پائی جا رہی ہے۔گذشتہ دنوں ایک بچی کے ساتھ گینگ ریپ میں پولیس کے آدمی بھی شامل پائے گئے۔
میں ، سیمسن جاوید صاحب آپ کی وساطت سے حکومت پاکستان اور وزیراعظم عمران خان سے اپیل کرتا ہوں کہ مہربانی سے تعلیم سب کے لئے کا ایجنڈا بنائیں ۔پاکستان کی 80 فیصد آبادی ناخواندہ اور غریب ہے ۔جس کی وجہ سے غریب عوام طرح طرح کے مسائل میں گرفتار ہیں۔اور انہیں غربت کے اندھیروں سے نکالنے کے لئے کوئی ٹھوس اقدام کریں۔ اور محکمہ پولیس میں چھپی کالی بھیڑوں کو نکال باہر کریں۔خدارا اپنی عوام کو خوف کے اندھیرے سے باہر نکالیں ۔جس طرح دوسرے ممالک میں آدھی رات کو سٹرک پر جاتی عورت کو کسی درندے کا ڈر محسوس نہیں ہوتا اور نہ کسی کی جرات ہوتی ہے کہ اس سے مجرمانہ حرکت کرے۔اسی طرح اپنے ملک کی عورت کو بھی یہ تحفظ فراہم کیا جائے۔یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہو گا جب عوام کو تحفظ دینے والی ایجنسیاں پوری ایمانداری اور لگن سے کام کریں گی۔
شکریہ سیمسن جاوید صاحب، خدا آپ کے قلم کو اور زیادہ زور عطا فرمائے۔آپکا متمنی ۔پرویز مسیح کھوکھر۔
یہ نوجوان اپنے گاؤں اور ملک کی ترقی کا کتنا خیرخواہ ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ جب بندہ دوسرے ملک روز گا ر حاصل کرنے کیلئے جاتا ہے تو اس کو اپنے ملک اوردوسرے ملک کا فرق واضع محسوس ہوتا ہے۔ اور وہ اپنے مک کے لئے کچھ کرنے کاخواہاں ہوتا ہے۔یہ حقیت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ عمران خان کو سب سے زیادہ مورل اور مالی معاونت کی ضرورت ہے تو اوور سیز میں رہنے والے پاکستانیوں کی طرف سے انہیں مکمل سپورٹ حاصل ہے جو اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میںدیکھنا چاہتے ہیںتاکہ جب بھی وہ اپنے ملک پاکستان کا نام لیں تو ان کا سر فخر سے بلند ہو۔

یورپ سے سے مزید