آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 22؍محرم الحرام 1441ھ 22؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وڈیو اصلی ہے، مریم نواز کے FIA کو 41 سخت سوالات کے جوابات

اسلام آباد (زاہد گشکوری) جج ارشد ملک کی وڈیو کے حوالے سے ایف آئی اے کو 41 سخت سوالات کے جوابات دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا ہے کہ وڈیو اصلی ہے، اصل آڈیو ریکارڈنگ ناصر بٹ کے پاس ہے، جج ارشد ملک کی ملاقاتوں کو ریکارڈ کرنے کی ہدایت کبھی نہیں کی، ججوں پر فیصلے دینے کیلئے دباؤ ڈالنے والوں کا اشارہ ریکارڈنگ سے ملتا ہے مجھے بتانے کی ضرورت نہیں، ارشد ملک کی کوئی قابل اعتراض وڈیو نہیں دیکھی جبکہ ناصر بٹ نے جج کی وڈیو اپنی مرضی سے ریکارڈ کی۔ تفصیلات کے مطابق جج ارشد ملک کی وڈیو کے حوالے سے قیاس آرائیوں کے دوران پاکستان مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز شریف نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے انکشاف کیا ہے کہ جج ارشد ملک کی وڈیو اصلی ہے، ناہی اسے ایڈٹ کیا گیا ہے اور نا ہی اس کی ٹیمپرنگ کی گئی ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو بھیجے گئے اپنے تحریری جواب میں مریم نواز نے جج ارشد ملک کی وڈیوکے حوالے سے کئی انکشافات کئے۔ انہوں نے بتایا کہ وڈیو کو ایڈٹ نہیں کیابلکہ اسکرین پر ایک جانب وڈیو چلائی گئی جبکہ

باقی آدھی اسکرین پر اردو ٹرانسکرپٹ چلائی گئی، ناصر بٹ نے انہیں بتایا کہ ایک آڈیو کم وڈیو (audio-cum-video) ہے اور ایک آڈیو ہے اور انہیں دو مختلف ڈیوائسز میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ناصر بٹ نے یہ بھی بتایا کہ آڈیو کم وڈیو جس ڈیوائس میں ریکارڈ ہوئی وہ ناصر بٹ کے ساتھ والے شخص کی جیب میں تھی تاہم اس دوسرے شخص کا نام اور کوائف معلوم نہیں۔ مریم نواز نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کے 41 سخت سوالات کے جوابات دئیے جو جج ارشد ملک کی درخواست پر مریم نواز اور نون لیگ کے دیگر رہنماؤں کے خلاف شکایت کی تحقیقات کر رہا ہے۔ مریم کا کہنا تھا کہ ناصر بٹ نے ان سے رائیونڈ میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور وہ وڈیو دکھائی جسے پریس کانفرنس کے دوران چلایا گیا تھا۔ 10 مئی کو انہوں نے ایک بغیر سم کا موبائل بھیجا جس میں مذکورہ وڈیو کی نقل تھی۔ مریم نواز نے بتایا کہ ناصر بٹ کے مطابق وڈیو ریکارڈ کرنے کا مقصد ان حقائق اور حالات کو ریکارڈ کرنا تھا جو نواز شریف کو مجرم ٹھہرانے اور سزا دلوانے کی بنیاد بنے جن کا انکشاف جج ارشد ملک نے کیا۔ 6 جولائی کو اپنی پریس کانفرنس کا مقصد بتاتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد عوام کے نوٹس میں بڑی نا انصافی کو لانا تھا جس کا ارتکاب العزیزیہ ریفرنسز میں نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیتے وقت کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر مضبوطی سے یقین رکھتی ہیں کہ انصاف تک رسائی بنیادی حق ہے جس کی ضمانت پاکستان کے تمام شہریوں کو دی گئی اور کسی بھی شہری کو انصاف دینے سے انکار اس کی زندگی، آزادی، عظمت، مساوات وغیرہ کے حق سے انکار کے مترادف ہے۔ یہ تمام کے تمام بنیادی حقوق ہیں جن کی ضمانت اسلامی جمہوریہ پاکستان کا 1973 کا آئین دیتا ہے۔ مریم نواز نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ناصر بٹ ان کی جماعت کے وفادار کارکن ہیں جنہوں نے جج ارشد ملک کے ساتھ ملاقاتیں ریکارڈ کی تھیں۔ انہو ں نے ایف آئی اے ٹیم کو بتایا کہ انہوں نے کبھی بھی ناصر بٹ کو جج ارشد ملک سے ملاقاتوں کو ریکارڈ کرنے کی ہدایت نہیں کی۔ مریم کا کہنا تھا کہ ناصر بٹ کے مطابق وڈیو کا مختصر سا حصہ گھر سے باہر ریکارڈ کیا گیا اور بقیہ حصہ جج کے گھر میں ریکارڈ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ناصر بٹ نے اپنی مرضی سے وہ وڈیو ریکارڈ کی اور اس کا منصوبہ بھی انہوں نے خود ہی بنایا تھا۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ اصل آڈیو ریکارڈنگ ناصر بٹ کے پاس ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اصل ڈیوائس جس میں وڈیو ہے وہ ان کے پاس نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کے ملاقات کی آڈیو ریکارڈنگ کیلئے کونسی ڈیوائس کا استعمال کیا گیا۔ مریم نے بتایا کہ وہ کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ جس پر وڈیو دکھائی گئی تھی اسے ناصر بٹ کی جانب سے بھیجا گیا شخص پریزنٹیشن کے روز ہی لایا تھا۔ تاہم مذکورہ شخص پریس کانفرنس کے بعد وہ کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ واپس لے گیا تھا، لہٰذا میرے پاس وہ کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ نہیں۔ ایف آئی اے ٹیم کی جانب سے مریم نواز کے اس دعوے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہ ’ادارے فیصلے دینے کیلئے ججوں کو بلیک میل نہ کریں، مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان اداروں کا اشارہ خود اس ریکارڈنگ کے مندرجات سے ملتا ہے، مجھے آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ مریم نواز نے جج ارشد ملک کی قابل اعتراض وڈیو حاصل کرنے کی تردید کی اور کہا کہ انہیں کسی نے بھی جج ارشد ملک کی قابل اعتراض وڈیو فراہم نہیں کی اور نا ہی انہو ں نے ارشد ملک کی کوئی قابل اعتراض وڈیو دیکھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ناصر بٹ کی جانب سے فراہم کی گئی آڈیو کم وڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ میں جج ارشد ملک نے خود ہی اپنی قابل اعتراض وڈیو کا تذکرہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دکھائی گئی ارشد ملک کی وڈیو نا تو انہوں نے ریکارڈ کی اور نا ہی ان کے کہنے پر ریکارڈ کی گئی بلکہ اسے ناصر بٹ نے اپنی مرضی سے ریکارڈ کیا۔ نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے کیلئے دباؤ دالنے والوں کے نام بتانے والوں کی وڈیوز کے حوالے سے مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ وڈیوز ان کے پاس نہیں۔

اہم خبریں سے مزید