آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار15؍محرم الحرام 1441ھ 15؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان، فری لانس مارکیٹ میں ترقی کرنے والا چوتھا ملک

فری لانس مارکیٹ میں ترقی کرنے والے ممالک میں پاکستان کا چوتھا نمبر


پاکستان دنیا میں فری لانس مارکیٹ میں تیزی سے ترقی کرنے والا چوتھا ملک بن گیا۔ دنیا بھر سے فری لانس مارکیٹ میں تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں امریکا 78 فیصد ترقی کے ساتھ سرفہرست ہے۔

امریکی جریدے فوربز میں شائع گلوبل پیمنٹ پلیٹ فارم کی ’پایونیر گلوبل گگ اکانومی‘ فہرست کے مطابق پاکستان فری لانس مارکیٹ میں بھارت، بنگلا دیش اور روس کے مقابلے میں آگے ہے۔

فوربز رپورٹ کے مطابق فری لانس مارکیٹ میں پاکستان نے گزشتہ برس کی دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں رواں برس 47 فیصد ترقی کی ہے۔ شائع ہونے والی فہرست کی تحقیق 3 لاکھ سے زائد فری لانسرز کے ریکارڈ پر مبنی تھی جو پایونیر نیٹ ورک سے منسلک ہیں۔

فوربز کی فری لانس مارکیٹ میں تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔

امریکا:

امریکا 78فیصد ترقی کے ساتھ سر فہرست ہے۔

برطانیہ:

برطانیہ 59 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

برازیل:

برازیل48 فیصد ترقی کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

پاکستان :

پاکستان 47 فیصد ترقی کے ساتھ چوتھی پوزیشن لینے میں کامیاب رہا۔

یوکرین:

یوکرین نے 36 فیصدترقی کے ساتھ پانچواں نمبر حاصل کیا۔

دی فلپائنس:

دی فلپائنس کا نمبر چھٹا رہا۔ اس نےفری لانس مارکیٹ میں گزشتہ برس 35 فیصد ترقی کی۔

بھارت:

بھارت 29 فیصد ترقی کے ساتھ ساتویں نمبر پر رہا۔

بنگلہ دیش:

بنگلادیش 27 فیصد ترقی کے ساتھ آٹھویں نمبر پر رہا۔

روس:

روس کا نمبر نواں رہا اس نےفری لانس مارکیٹ میں 20 فیصد ترقی کی۔

سربیا:

فری لانس مارکیٹ میں ترقی کرنے والوں کی فہرست میں سربیا کا نمبر آخری رہا۔ اس نے گزشتہ سال 19 فیصد ترقی کی۔

رپورٹ کے مطابق تحقیق سے معلوم ہوا کہ معیشت کو فروغ دینے میں متعدد فری لانسرز وہ ہیں جو اپنے کیرئیر کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

پایونیر کی جنرل مینیجر ایال مولڈووین کا پاکستانی فری لانسرز کے حوالے سے کہنا ہے کہ پاکستان میں نوجوان نسل زیادہ سے زیادہ مواقع حاصل کر رہی ہے، وہاں کے متعدد فری لانسرز کی عمر 30 برس کے اندر ہے جو کہ ایک زبردست مثال ہے۔

ایال مولڈووین کا کہنا تھا کہ ماضی میں دیکھا جائے تو صرف امریکا اور برطانیہ سے ہی بیرونی کام لے کر ترقی پزیر ممالک کے لیے کیا جاتا تھا لیکن اب ایشیاء بھی اس میں تیزی سے ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اب ایشیاء کے ایسے بہت سے ممالک دیکھ رہے ہیں جو ایک دوسرے سے آوٹ سورسنگ یعنی کام کا لین دین کر رہے ہیں، تاہم قوموں کے درمیان کسی بھی اشیاء کی خریدای اور سہولت کا طریقہ کار تبدیل ہو رہا ہے۔

تجارتی خبریں سے مزید