تحریر: سرفراز تبسم۔لندن مظہر الاسلام سے میرا پہلا تعارف 90کے اوال میں ہوا اور جب میں نے ان کی کتابیں پڑھنا شروع کیں تو جیسے جیسے میں انہیں پڑھنے لگا ایک پراسراریت اور حیرت کا جہاں مجھ پر کھُلتا گیا اور میں نے ان کی ساری کتابیں پڑھ ڈالیں انہوں نے جس خوبصورتی سے کہانی کو افسانہ سے الگ کرکے کہانی کو اپنی الگ پہچان دی وہ ان کا ہی حصہ ہے میری کم فہمی و کم علمی کہ اس سے پہلے میں نے ایسے اسلوب و طرزبیاں کی کہانی کہیں نہیں پڑھی جس انداز سے مظہر الاسلام نے بے جان چیزوں کو اپنی کہانیوں میں بھرتا اور زندگی کی جودوگری بخشی ہے شاید ہی اس کی کہیں کوئی مثال ملتی ہو۔ مظہر السلام کی کہانی کا مطالعہ قاری کو ایک ایسے جہاں میں لے جاتا ہے جہاں انسان کائنات کے عرض و سماں سے باہر ہوجاتا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے میں قاری کا واپس لوٹنے کو دل ہی نہیں چاہتا کیونکہ قاری کا وجود اس مکاشفاتی جہان میںاک نئے سانچے میں ڈھل جاتا ہے ،اچانک بے جان اشیاء باتیں کرنے لگتی ہیںجہاں خوف تجسس میں ڈھل جاتا ہے اور قاری کی دلچسپی بڑھ جاتی ہے ۔ مظہر اسلام کی کہانی پڑھتے ہوئے کبھی کبھی لاطینی امریکی ناول وافسانہ نگار گیبرئیل گارسیا مارکیز کے افسانوی جہاں کا خیال بھی ذہن کو چھونے لگتا ہے تاہم حیرت اور خوشی کی بات یہ ہے کہ لکھاری کی مضمون پرگرفت آپ کو کہیں بھٹکنے نہیں دیتے۔مظہر اسلام کی کہانی کا ورد کرتے ہوئے ایک دن مجھے انہیں خط لکھنے کا خیال آیا اور میں نے اپنے جذبات اور عقیدت بھرے الفاظ کا ایک لفظی مجموعہ ان کو ارسال کردیا تو جواب پا کر مجھے از حد خوشی ہوئی جوابی خط میں ایک فقرہ آج بھی مجھے یاد ہے جو کچھ یوں تھا ‘‘سرفراز آپ کا تعلق یقیناًمحبت کرنے والے چرواہوں کے قبیلے سے ہے‘‘مظہر الاسلام 4 اگست، 1949ء پیرو، ضلع خانیوال، پاکستان میں پیدا ہوئے جہاں اس وقت ان کے والد محکمہ جنگلات میں تعینات تھے۔ مظہر الاسلام نے بچپن اپنے آبائی شہر وزیر آباد میں گزارا اور مشن ہائی اسکول سے میٹرک پاس کیا۔ کچھ عرصہ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ میں زیر تعلیم رہے مگر پھر والد کی وفات کے بعد 1967ء میں مستقل طور پر اسلام آباد میں رہائش اختیار کر لی جہاں سے انہوں نے اردو ادب میں ایم اے کیا۔ کچھ عرصہ ٹی وی، وزارت تعلیم اور ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہنے کے بعد لوک ورثہ کے قومی ادارے میں ملازمت اختیار کر لی۔ اس کے علاوہ اکادمی ادبیات پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات بھی سر انجام دے چکے ہیں۔مظہر الاسلام ایک بے چین، پُر درد، دلچسپ اور حیران کن کہانی کار ہے۔ مظہر الاسلام کی کہانیوں کا موضوع محبت، انتظار، موت اور جدائی ہے۔ وہ محبت کی تلاش میں بھٹکنے والوں، بچھڑے ہوئے لوگوں، آزادی ڈھونڈنے والوں اور روٹھے ہوئے کرداروں کی کہانیاں لکھتا ہے۔ انہوں نے خاکروبوں، چٹھی رسانوں، کلرکوں، مدرسوں، مزدوروں، کسانوں اور خانہ بدوشوں جیسے بے لوث کرداروں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اپنے عہد کے سماجی، سیاسی اور نفسیاتی پس منظر میں ناقابل برداشت سچائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ مظہر الاسلام کی کہانیاں انگریزی، جرمن، چینی، فارسی، ہندی، گرمکھی اور سندھی زبان میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ ان کی چند مشہور کتابوں میں محبت مردہ پھولوں کی سمفنی، باتوں کی بارش میں بھیگتی لڑکی، میں آپ اور وہ، خط میں پوسٹ کی ہوئی دوپہر، گھوڑوں کے شہر میں اکیلا آدمی، گڑیا کی آنکھ سے شہر کو دیکھو اور اے خدا شامل ہیں۔ مظہر الاسلام۔ آؤ بچھڑ جائیں (افسانہ،) اور وہ جدا ہونے سے پہلے اپنی زندگی کے اثاثے بانٹ رہے تھے سب سے پہلے انہوں نے ہنسی آدھی آدھی بانٹ لی۔تو وہ بولی‘‘تم اپنے حصے کی ہنسی کا کیا کرو گے‘‘ ’’یتیم خانے کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو دے دونگا‘‘ اس نے جواب دیا۔ وہ بڑی فراخ دل نکلی اور جب اداسی بانٹنے کا وقت آیا تو کہنے لگی‘‘میں اس میں سے کچھ نہیں لیتی ساری اداسی تم رکھ لو‘‘ اس طرح اس نے سارا سفر، سارا انتظار، خزاں کے سارے موسم، سردیوں کی تنہا شامیں اسے دے دیں اور کہنے لگی ’’آج تو تمہیں اندازہ ہو گیا ہو گا کہ میں کنجوس نہیں ہوں‘‘ وہ بہت خوش ہوا اور بولا‘‘وہ دوپہر بھی ساری مجھے دے دو جب ہم پہلی بار ملے تھے‘‘ وہ مان گئی تو س نے وہ دوپہر بھی، اداسی، خزاں کے موسموں، تنہائی اور سفر کے ڈھیر پر رکھ دی۔ اتنے میں اس نے فراخدلانہ لہجے میں پوچھا‘‘ان سب کا کیا کرو گے‘‘ وہ بڑے مطمئن لہجے میں بولا‘‘اپنی اداسی کو جو حصہ تم نے مجھے دیا ہے اسے زندگی بھر اپنے ساتھ رکھونگا۔ شامیں بوڑھے لائیبریرین کے نام کر دونگا، انتظار منڈیر پر رکھے اس دیئے میں ڈال دونگا جسے سرِ شام جلا کر کوئی لڑکی کسی کی چاپ کی منتظر ہو گی، سارا سفر خط میں ڈال کر پوسٹ کر دونگا، جنکا محبوب دور ہو گا اور اس سے ملنے کے لیئے بے چین ہو گا‘‘ ریت پر انگلی سے ایک لمبی لکیت کھینچ کر وہ بولی‘‘ سارا ماضی بھی تم رکھ لو‘‘ یکدم خوشی کی ایک لہر اسکے چہرے پر اٹھی اور آنکھوں میں اکر ٹھہر گئی۔ اس نے سگریٹ سلگایا اور بولا ’’تم نے اپنا سارا ماضی بھی مجھے دیکر بہت اچھا کیا‘‘ ‘‘اسکا کیا کرو گے‘‘ اس نے پوچھا ‘‘اسے اوڑھ کر پھرونگا آنے والی گرم تنہا دوپہروں اور سرد شاموں میں۔۔۔۔‘‘ وہ مسکرائی ’’سارے لفظ بھی تم لے لو‘‘ وہ ممنون سا ہو گیا اور بولا ’’میں سارے لفظ بھی پوسٹ مینوں میں بانٹ دوں گا۔ مگر ہمارے درمیان کچھ گیتوں کی سانجھ بھی ہے‘‘ ہاں وہ بھی تم لے لو ٹھیک ہے‘‘ وہ مطمئن سا ہو گیا ’’انکا کیا کرو گے‘‘ ’’ملاحوں، ساربانوں اور چرواہوں میں بانٹ دونگا۔ کسی سے ٹوٹ کر محبت کرنے والی لڑکی کو دے دونگا‘‘ یونہی وہ کتنی دیر اپنے اثاثے بانٹتے رہے۔