آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار15؍محرم الحرام 1441ھ 15؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس جدید دور میں سائنس دان ہر میدان میں نت نئی دریافتیں کرکے لوگوں کے ہر مشکل کام کو آسان بنا رہے ہیں ۔اس ضمن میں ماہرین نے صحت کے میدان میں بھی اہم چیزیں تیار کی ہے جو مستقبل میں مختلف بیماریوں کا باآسانی علاج کریں گی ۔

فالج کا حملہ روکنے کے لیے سونار استعمال کیا جارہا ہے ، مصنوعی مہرے،بایو چپس اور کینسر کے لیے ویکسین تیار کر کے ماہرین خطر ناک بیماریوں کو ہرانے کی کوشش کرر ہے ہیں

فالج کے لیے سونار (sonar)آلہ

پانی میں آواز کوبکھیرنے کے لیے عام طور پر سونار کا استعمال کیا جاتا ہے ،تا کہ پانی کے اندر چلنے والے دوسرے جہازوں کاسر اغ لگا یا جاسکے اور ان سے بچ کرچلاجاسکے ۔passive سونار کو آبی جہاز سے نکلنے والی آواز کو سننے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔بیماری پیدا کرنے والے مائیکرو آرگینزم (خردنی حیاتی اجسام)نے جنیاتی تغیر (mutation) اور دوسرے ذرائع سے خود کو زندہ رکھنے کا میکنیزم تعمیر کر لیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ یہ جراثیم اینٹی بائیو ٹک داوئوں سے مزاحمت کر کے زندہ رہتے ہیں ،چنانچہ سائنس دان مسلسل نئی اینٹی بائیوٹیک دوائوں کی تیاری میں مصروف ہیں ۔انسانی دماغ میں فالج کے مرض کی موجودگی کو معلوم کرنے کے لیے سونار کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اس میں آلے کو سر پرپہناجاتا ہے اور خون کی شریانوں سے گزرنے والے خون میں پیدا ہونے والی موجوں Pressure Waves کو اس انتہائی حساس آلے کی مدد سے شناخت کر لیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں بننے والے خون کی مدد سے خون کی روانی میں کسی بھی غیر معمولی شے مثلاً لوتھڑا( Clot )یا شریان کا پھٹنا شناخت کر لیا جاتا ہے۔اس وقت دنیا میں اموات کی ایک بڑی وجہ فالج یا اسٹروک( Stroke )ہے، اس کی ابتدائی مرحلے میں شناخت مریض کی بحالی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سونا رآلہ ایک اہم آلہ ہے جوفالج کی نوعیت اور اس کے لیے درکار دوائیں تجویز کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا ۔

نینو فائبر گولیوں کی مدد سے نرم ہڈیوں (Cartilage) کا علاج

ایک زمانے میں نرم ہڈیوں(Cartilage )میں آنے والے زخموں کا علاج مشکل ہوتا تھا اور عام طور پر ان کو خود ہی ٹھیک ہونے کے لیے چھوڑ دیا جاتا تھا لیکن اگر نئی بننے والی ہڈی صحیح طر ح سے نہ بنے تو وہ پہلے کی طر ح کام نہیں کرتی ۔اکثر زخم بھرنے کے عمل کو شروع کرنے کے لیے مریض کے اپنے خلیات انجکشن کی مدد ہموار انداز سے داخل کردئیے جاتے ہیں ۔

اسی لیے امریکا کے سائنس دانوں نے ایک چھوٹا ساگو لہ تیار کیا ہے جو ایک خاص ریشے (فائبر ) سے بنتا ہے ۔یہ مریض کے خلیات کوانجکشن کے ذریعے داخل کرکے بالکل ہموار انداز میں پھیلا دیتا ہے ۔ اس نینو گولے کے اندر غذائیت بھی بند ہوتی ہے جو زخم کے بھرنے کے عمل کو تیز کرتی ہے یہ چھوٹی سی گول شے ایسے مادّے سے تیار کی جاتی ہے جو ازخود انحطاط پذیر ہے یہ کوئی مضر اثرات مرتب کیے بغیر خود گھل جاتی ہے۔

ٹوٹے ہوئے دل کی مرمت

دل کے دورے کے بعد دل کے متاثر ہ حصوں کے بعض ٹشوز ہلاک ہو جاتے ہیں۔ یہ ٹشوز عام طور پر ناقابل مرمت ہوتے ہیں تاہم اسٹیم سیل کو استعمال کر کے یا دوسرے طریقوں سیان ٹشوز کی مرمت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اب برائو ن یونیورسٹی کے انجینئرزنے اس نقصان کی مرمت کے لیے کاربن نینو فائبر اور ایک منظور شدہ پولی مر کا استعمال کیا ہے۔

یہ جوڑ جالی کی طرح بنا یا گیاہے جو اس کو نرمی دیتی ہے چنانچہ اس کو دل کے اوپررکھ کر پھیلایا اور سکیڑا جا سکتا ہے۔ جب اس کو دل کے متاثرہ ٹشوز پر لگایا جاتا ہے تو یہ برقی سگنل کو گزرنے دیتا ہے کیوں کہ یہ بجلی کا بہت اچھا موصل ہے۔ اس پیوند کو دل کے خلیات (Cardiomyocytes)کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے جو کہ پیوند پر تیزی سے نمو پذیر ہو جاتے ہیں اس کے ساتھ نیورونز کی نشوونما بھی ہوتی ہے۔ اب وہ وقت دور نہیں جب سرجنز کے ہاتھ میں ٹوٹے ہوئے دل جوڑنے کا آلہ ہو گا۔

کینسر کے علاج کے لیے نیا نظریہ

ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں ہونے والی 13 فی صد اموات کا سبب کینسر ہے۔ مختلف اقسام کے کینسر کے علاج کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں جن میں سے بعض کو نمایاں کامیابی بھی نصیب ہوئی ہے۔ کینسر کے علاج کے اختیار کیے جانے والے طریقے کار میں ایک طریقہ کینسر کے خلیات تک براہ راست دوا کو پہنچانا ہے، تاکہ جسم کے دوسرے صحت مند خلیات کو ان دوائوں کے زہریلے اثرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔ مارک( Ostermen (Whiting School of Engineering) میں جان ہاپکنز کیمیکل اینڈ بایو مالیکیولر انجینئرنگ کے پروفیسر اور جان ہاپکنز اسکول آف میڈیسن میں ارضیات اور کینسر کے پروفیسر Ames R.Etshmanاس بات کی تحقیق کررہے ہیں کہ کینسر کے خلیات میں ہی ان کے علاج کی صلاحیت پیدا کردی جائے۔ اس طرح دوسرے صحت مند خلیات کو نقصان پہنچائے بغیر کینسر کے خلیات اپنے آپ کو خود تباہ کرلیں گے۔

اس نظریے کے تحت دو مختلف پروٹین کو ملا کر ایک "Protein Switch" تیار کیا جائے گا۔ ان پروٹین میں سے ایک کینسر کے خلیات کی شناخت کرے گا اور دوسرے میںغیرفعال Prodring کو کینسر کے لیے مہلک مادّے میں تبدیل کرنے کی صلاحیت ہوگی۔ پہلے مرحلے میں کینسر کے خلیات میں "Switch" داخل کیا جائے گا۔ پھر مریض کو غیر فعال Prodrug استعمال کروائی جائے گی۔ جب یہ Prodrug کینسر کے خلیات کے قریب آئے گی توپروٹین کینسر کے خلیات کی شناخت کرکے اس غیر فعال Prodrug کو فعال دوا میں تبدیل کردے گا۔ جس کے بعد کینسر کے خلیات ہلاک کردیے جائیں گے۔

کئی اقسام کے وائرس کے خلاف ایک ہی دوا

اس وقت دنیا میں لاکھوں اقسام کے وائرس موجود ہیں،جن کے لیے سائنس دان کئی طرح کے کام کرنے والی ضدوائرس دوا تیار کرنے کی کوشش میں لگے ہوئےہیں مثلاً پنسلین، کئی اقسام کے بیکٹیریا کے خلاف ایک موثر دوا ثابت ہوتی ہے۔ مخصوص وائرس کے خلاف کام کرنے والی چند دوائیں موجود ہیں، مگر یہ وائرس جلد ہی ان سے مزاحمت پیدا کرلیتے ہیں اور یہ دوائیں اپنے اثرات سے محروم ہوجاتی ہیں۔

اب MIT کے سائنس دانوں نے Todd Rider جن کا تعلق لنکن لیبارٹری، کیمیا، حیاتیات اور نینو اسکیل ٹیکنالوجی گروپ سے ہے،انہوں نے اس مسئلے کا حل تلاش کرلیا ہے۔ یہ ایسی دوا تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو بڑی تعداد میں وائرس کے خلاف موثر ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ دوا صرف ان خلیات پر اثرانداز ہوتی ہے جو مختلف وائرس سے متاثر ہوتی ہیں اور پھر ان کو ہلاک کردیتی ہے۔

آخرکار کینسر کے خلاف ویکسین دریافت ہوگئی

ایک تحقیق کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں 13ملین افراد میں کینسر کی شناخت ہوتی ہے اور ان میں سے ہر سال 8ملین افراد اس مرض سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ کینسر دراصل کینسر پیدا کرنے والے کیمیائی مرکبات سے ٹکرائو، جسمانی غیر فعالیت اور موٹاپے، زخم پیدا کرنے والی بیماریوں، تابکار شعاعوں اور وراثتی جینیاتی بیماریوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کینسر کا سبب بنے والے کئی وائرس (Oncoviruses) کی شناخت ہوچکی ہے، تاہم ابھی تک اس کی ویکسین تیار نہیں کی جاسکی ہے

اور اس حوالے سے کی جانے والی کوششیں ابھی تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئی ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کینسر کے خلاف تیار کی جانے والی ابتدائی ویکسین صرف ایک وائرس کے خلاف جسم کے مدافعتی نظام کو تحریک دیتی تھی، جس سے بہت جلد یہ خلیات سے مطابقت پیدا کرلیتے ہیں۔Leads Institute of Molecular Medicine کے پروفیسرAlan Melcher اور ان کے ساتھیوں نے اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے مدافعتی ردعمل کو شروع کرنے کے لیے جین کے ٹکڑوں Gene Frogment کی لائبریری کا استعمال کیا ہے ،تاہم انہوں نے ٹشو (بافتوں) کی اسی قسم سے جین کو حاصل کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی سپاہی (antigens)تشکیل پاتے ہیں جو کینسر کے خلاف جنگ بھی کرتے ہیں اور جسم کے مدافعتی نظام Immune Systemکو حد سے زیادہ تحریک (Stimulate) نہیں دیتے۔ ایک صحت مند Prostrateسے DNAنکالا جاتا ہے اور اس کے حصوں کو وائرس میں داخل کردیا جاتا ہے۔

اس عمل سے تیار ہونے والی ویکسین کو پروسٹیٹ کینسر کا شکار چوہوں کے علاج پر استعمال کیا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں صحت کی مکمل بحالی عمل میں آئی۔ اب اس طریقے کو انسانوں پر استعمال کیا جارہا ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ جین تھراپی کے ذریعے انسانوں میں کینسر کی بعض اقسام کا علاج کیا جاسکے گا۔

کمر کے درد کے لیے مصنوعی مہروں کی ڈسک

ہمارے مہروں میں قدرتی طور پر جھٹکا برداشت کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ ہماری ریڑھ کی ہڈی کو ایک دوسرے میں گھسنے سے محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ قدرتی کشن عمر کے ساتھ فرسودہ ہوجاتےہیں یا چوٹ کے نتیجے میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں جو کہ بعد میں کمر میںشدید درد کا باعث بنتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق صرف امریکا میں کمر کے درد کے علاج کے لیے سالانہ 100 بلین ڈالرز سے زائد رقم خرچ کی جاتی ہے۔ اس کا ایک حل Spinal Fusionآپریشن ہے لیکن اس کے نتیجے میں ریڑھ کی ہڈی کی لچک ختم ہوجاتی ہے۔ ایک اور طریقہ ڈسک کو تبدیل کرنے کا ہے۔ Brigham Youngیونیورسٹی کے انجینئرنگ کے پروفیسر Anton Bowdon, Lany Howell اور سابق طالب علم Peter Halversonنے ایک مصنوعی ڈسک تیار کی ہے جو کمر کے درد کے لاکھوں مریضوں کو سکون کا سانس فراہم کرے گی۔ نئی مصنوعی ڈسک (مہرہ) لچکدار اور پائیدار ہے اور یہ ریڑھ کی ہڈی کے مہروں پر پڑنے والے انتہائی دبائو کو برداشت کرنے کی صلاحیت کی حامل ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو Crocker Spinal Technologies جو کہ امریکا Utah میں قائم کمپنی ہے۔کمر کے درد کے مریضوں کے لیے بڑی امید پیدا ہوگئی ہے او راس کی طویل مشکل اب حل ہونے جارہی ہے۔مستقبل کے کمپیوٹر حیاتیاتی کمپیوٹر ہوسکتے ہیںجن کوانسان اپنی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کرسکتے ہیں۔

ذیابیطس کے علاج کے لیے بایوچپس

جسم میں شکر کی سطح کو معلوم کرنا ایک تکلیف دہ عمل ہے جس میں انگلیوں میں سوئی سے سوراخ کیا جاتا ہے او ربعض اوقات یہ عمل دن میں کئی بارکرنا پڑتا ہے۔اب Rhod Island کی برائون یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ایک نئی ٹیکنالوجی تیار کی ہے ،جس کے بعد اس چھیدنے والے آلے سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی۔ اس میں انتہائی حساس بائیو سنسرز کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس طریقہ کار کے ذریعے انسانی تھوک میں شکر کی سطح معلوم کی جاسکے گی۔ 2004 ء میں جاپانی کمپنی آر ایف سسٹم لیب نے کیمرے سے لیس ایسی گولیاں تیار کیں جو کہ آپ کے جسم کے اندر سے تصویر کھینچ کر لاسکتی ہیں۔اب ناروے کی ایک کمپنی نے اوسلو یونیورسٹی اسپتال ،یونیورسٹی آف اوسلو ،ناروے جین یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی noiwaygian ڈیفنس ریسرچ ادارے کے مشتر کہ پر وجیکٹ کے تحت اس ٹیکنالوجی میں مزید پیش رفت کی ہے۔یہ کیپسول ایک چھوٹے سے ویڈیو کیمرہ، روشنی کے ماخذ، ریڈیو ٹرانسمیٹربیٹری اور مائیکرو پروسیسر پرمشتمل ہے جو کہ HD ویڈیوز کو مختلف اندرونی اعضاء پر بھیجیں گے جن پر کیپسول سفر کرے گا۔ 

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید