آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 18؍محرم الحرام 1441ھ 18؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

توانائی کے دس بڑے چینی منصوبے، 8 پاکستان میں جاری

چین کےاس صدی کے سب سے بڑے توانائی کے منصوبوں میں پاکستان میں 8 پراجیکٹس شامل ہیں۔

چین کے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبوں میں 2019کے 10بڑے پاور پراجیکٹس سامنے آگئے جس میں پاکستان میں پاور پراجیکٹس کی تعداد 8 ہے۔

10 بڑے بی آر آئی پاور پراجیکٹس کی مشترکہ صلاحیت 20 اعشاریہ 97 گیگا واٹس ہے جس میں پاکستان کا حصہ 9اعشاریہ 57 گیگا واٹس یعنی 45 فیصد ہے ۔

پاور ٹیکنالوجی کی فہرست بڑے پاور پراجیکٹس کی صلاحیت پر مبنی ہے۔

بی آر ٹی کی جاری کردہ سب سے بڑے پاور پراجیکٹس کی فہرست میں انڈونیشیا کا پاور پراجیکٹ کا نمبر پہلا جبکہ متحدہ عرب امارات کا دوسرا نمبر ہے۔

ابوظہبی میں چین-متحدہ عرب امارات کے مشترکہ منصوبے سے بننے والے حسیان کلین کول پاور پلانٹ زیر تعمیر ہے

اس کے علاوہ فہرست میں باقی بڑے پراجیکٹس پاکستان کے نام ہیں۔

چین کے مشترکہ منصوبے سے بننے والے پورٹ قاسم پاور پراجیکٹ تیسرے، ساہیوال کول فائیرڈ پاور پلانٹ کا نمبر چوتھا رہا۔

پانچویں، چھٹے اور ساتویں نمبر پر چائنہ پاور حب جنریشن کمپنی، تھر پاور پلانٹ، تھر مائن ماؤتھ پاور پلانٹ شامل ہیں۔

کوہالہ ہائیڈل پاور پراجیکٹ آٹھویں اور قائد اعظم سولر پارک نویں نمبر پر ہے۔

چین پاک اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا نمبر دسواں رہا۔اس پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد ہر سال 3.221 بلین کلوواٹ بجلی پیدا ہوگی۔

بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کیا ہے؟

'بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو' یعنی بی آر آئی جسے 'ون بیلٹ ون روڈ' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے چین کی طرف سے رواں صدی کا سب سے بڑا ترقیاتی منصوبہ ہے جس کے تحت 66 سے زائد ممالک کو تجارتی سطح پر جوڑا جا رہا ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ دنیا کی دو تہائی آبادی کو ملائے گا جس میں کم از کم ایک تہائی مجموعی ملکی پیداوار بھی شامل ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں کا مقصد اقتصادی راہداریوں میں تجارت، نقل و حمل، توانائی، سرمایہ کاری، ثقافتی تبادلہ اور دیگر بنیادی معاشی ڈھانچے شامل ہیں۔

چین کی معیشت اس وقت امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے لیکن اگر قوت خرید کے حساب سے تولا جائے تو سب سے بڑی ہے۔

جن ممالک کو چین بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل ہیں ان میں اکثریت ترقی پذیر ممالک کی ہے جو اس منصوبے کو مقامی معیشت میں ترقی کے لیے نہایت اہم موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔

بزنس سے مزید