آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار15؍محرم الحرام 1441ھ 15؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ برس ترکی کے دارالحکومت استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں قتل کئے گئے سعودی صحافی جمال خاشقجی سے متعلق ایک ریکارڈنگ کی نئی تفصیلات جاری کی گئی ہیں، خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ریکارڈنگ ان کی موت سے چند لمحوں قبل کی ہے اور اس میں ان کے آخری الفاظ موجود ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق ترک اخبار کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تفصیلات ایک ایسی ریکارڈنگ سے لی گئی ہیں جن کو سعودی قونصل خانےکے اندر ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کو بعد میں ترک انٹیلیجنس نے حاصل کیا۔

ترک اخبار کی اس نئی رپورٹ میں مبینہ طور پر جمال خاشقجی کے آخری الفاظ سے متعلق معلومات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سعودی قونصل خانے میں داخلے کے بعد جمال خاشقجی کو بتایا گیا کہ انٹر پول نے ان کے لئے حکم دیا ہے کہ انہیں ریاض واپس جانا ہو گا۔

خاشقجی نے مبینہ طور پر یہ احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد انہیں کوئی نشہ آور چیز دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق سعودی صحافی نے مبینہ طور پر اپنے آخری الفاظ میں اپنے قاتلوں کو ان کا منہ بند نہ کرنے کی درخواست کی کیونکہ ان کو دمے کا مرض لاحق تھا لیکن اس کے بعد وہ اپنے ہوش میں نہیں رہے۔

ترک اخبار میں شائع اس رپورٹ کے مطابق خاشقجی کے سر پر تھیلا چڑھا کر ان کا دم گھو ٹا گیا۔اس ریکارڈنگ میں مبینہ طور پر ہاتھا پائی کی آوازیں بھی موجود ہیں۔

واضح رہے کہ جمال خاشقجی کی ہلاکت کی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہونے کے بارے میں رپورٹس گزشتہ ایک سال سے گردش کر رہی ہیں۔

ترک حکام کا دعویٰ رہا ہے کہ یہ آڈیو موجود ہے اور انہوں نے یہ عالمی برادری میں مختلف اہم حکومتوں کو دی بھی ہیں تاہم اب یہ واضح نہیں کہ ترک اخبار کے پاس یہ ریکارڈنگ کہاں سے آئی۔

عالمی دباؤ کے باوجود جمال خاشقجی کی لاش ان کی ہلاکت کے ایک سال بعد بھی نہیں ملی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید