A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: HTTP_REFERER

Filename: front/layout_front.php

Line Number: 246

Backtrace:

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/views/front/layout_front.php
Line: 246
Function: _error_handler

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/third_party/MX/Loader.php
Line: 351
Function: include

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/third_party/MX/Loader.php
Line: 294
Function: _ci_load

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/modules/frontend/controllers/Detail.php
Line: 464
Function: view

File: /var/www/js.jang.com.pk/html/index.php
Line: 333
Function: require_once

آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 15؍ صفرالمظفر 1441ھ 15؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

زلزلے میں ٹانگ سے محروم لڑکی کی عالمی مقابلوں تک رسائی

آزاد کشمیر میں 2005  کو آنے والے ہولناک زلزلے میں پاکستان کے شمالی علاقوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا تھا، انشا بھی اس زلزلے سے متاثر ہونے والے ہزاروں لوگوں میں سے ایک تھیں۔

تباہ کُن زلزلے میں اپنی دائیں ٹانگ گنوانے والی 18سالہ انشا رواں سال جنوبی کوریا میں ہونے والے پیرااولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔

2005 کے زلزلے میں ایک ٹانگ سے محروم ہونے والی انشا عالمی مقابلوں میں
انشا ایک ٹانگ پر برفانی پہاڑوں پر اسکیئنگ کرتی ہیں تو سب دیکھتے رہ جاتے ہیں

 زلزلے کے 6 ماہ بعد وہ امریکا مصنوعی ٹانگ لگوانے گئیں اور وہیں تعلیم کے حصول میں بھی مگن ہوگئیں۔

تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے اسکیئنگ کے شوق کو بھی نا صرف برقرار رکھا بلکہ اسے اپنا بھی لیا۔ انشا نے امریکی ریاست میساچیوسٹس کی برکشائر اکیڈمی میں داخلہ لیا جہاں وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ا سکیئنگ کی ٹریننگ بھی لینے لگیں۔

انشا نے عالمی میڈیا کی توجہ زلزلے کے کچھ عرصے بعد حاصل کی جب سال 2006 میں ایک مضمون امریکی جریدے ’ٹائمز میگزین‘ میں شائع ہوا تھا جس میں سرخ کوٹ میں ملبوس ایک سات سال کی لڑکی انشا کو دکھایا گیا تھا جوکشمیر کے زلزلے کے دوران اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہو گئی تھی۔

مضمون نے شائع ہوتے ہی قارئین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی اور ٹائمز کے عملے سمیت تمام حلقوں کو متاثر کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

5 فروری 2007 کی اشاعت میں ٹائمز کی مینیجنگ ایڈیٹر نے انشا کے بارے میں لکھا کہ ’اپریل2006 میں ہم نے تباہ کن زلزلے کے بعد کشمیر میں پناہ گزینوں کی حالت زار پر تین صفحوں پر مشتمل ایک تصویری مضمون شائع کیا تھا ۔

مضمون میں شائع تصاویر میں سے ایک سرخ جیکٹ پہنے ایک چھوٹی لڑکی کی تصویر بھی شامل تھی جس کی ایک ٹانگ زلزلے میں ضائع ہوگئی تھی۔

زلزلے میں ٹانگ سے محروم لڑکی کی عالمی مقابلوں تک رسائی
ٹائمز میگزین میں شائع ہونے والی انشا کی تصویر

میگزین کی اشاعت کے دو دن بعد ٹائمز کے نیوز ڈیسک کو ایک کال موصول ہوئی جن کا کہنا تھا کہ وہ اُ س لڑکی کی مدد کرنا چاہتے ہیں ۔

اس کال کے بعد ٹائمز میگزین نے اُس لڑکی کو تلاش کیا جو پاکستان میں مظفر آباد کے علاقے کامسور کے ایک کیمپ میں مقیم تھی ۔

اس وقت کے ٹائمز میگزین کے نیوز ڈائریکٹر نے لڑکی کے امریکا میں علاج اور والد سمیت سفری اخراجات ذاتی طور پر ادا کئے ۔

امریکا میں علاج کے دوران انشا نامی اس چھوٹی بچی کی مصنوعی ٹانگ لگا دی گئی تھی ۔

ہمت اور حوصلے کی مثال انشا نےزلزلے سے قبل پاکستان میں ہونے والے کئی ا سکیئنگ کے مقابلوں میں بھی شرکت کی لیکن2013 میں ہارڈ فورڈ اسکی مقابلوں میں حصہ لیا تو ان کی صلاحیتوں کے سب ہی معترف ہوگئے۔

مصنوعی ٹانگ رکھنے والی انشا نے 2015 میں امریکی پیرا اولمپک الپائن نیشنل چیمپئن شپ میں اسکیئنگ  کے مقابلے میں حصہ لیا اور لنکن، نیو ہیمپشائر میں لون ماؤنٹین کی ڈھالان سے پورے جوش سے نیچے اُتریں۔

خاص رپورٹ سے مزید