• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

دنیائے ادب کی تشنگی

حسبِ معمول سنڈے میگزین بہت سی دل چسپیاں لیے ہوئے ہے۔ عیدِقرباں اور عید آزادیٔ پاکستان ایک ساتھ منائے جانا پاکستانیوں کے لیے اچھی نوید ہے۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ بھی باقاعدگی سے شایع ہورہا ہے۔ مفتی مسعود الرحمٰن کی نگارش میں قربانی کی غرض و غایت کا بخوبی احاطہ کیا گیا۔ ڈاکٹر قمر عباس کے’’سنڈے اسپیشل‘‘ نےماضی کی حسین نگری یاد کروا دی۔ ویسے اِن صفحات سے ادبی ذوق کی حامل دنیا کی تشنگی میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ کہی ان کہی میں خُوب صُورت فن کارہ، فلم ساز، حریم فاروق کےدل کی باتوں تک رسائی ہوگئی۔ اس کے بعد آپ کی تحریر پڑھی۔ یہی کہوں گا کہ ’’کیا کہنے…؟؟‘‘ پروفیسر ڈاکٹر راشدہ علی کی ہیلتھ اینڈ فٹنس کے ٹائٹل تلے لکھی تحریر موقع محل کی مناسبت سے نہایت مفید ثابت ہوئی۔ پُرتجسّس ناول منزل بہ منزل کام یاب جارہا ہے ۔ پیارا گھر اور ڈائجسٹ کے صفحات بھی پڑھنے کے لائق تھے۔ ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ بھی خاصے سلیقے سے پیش کیا گیا اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ تو دن بہ دن مقبولیت ہی پارہا ہے۔ (صدیق فنکار، کلمہ چوک، دھمیال روڈ، جھاورہ، راول پنڈی کینٹ)

ج:اور ایک عمومی جریدے کی اس سے بڑی کام یابی کیا ہو سکتی ہے کہ وہ دنیائے ادب کی تشنگی مٹانے کا سبب بن جائے۔

80روپے کس خوشی میں؟

اس بار ’’اشاعت ِخصوصی‘‘ میں محمود میاں نجمی نے’’حجِ بیت اللہ‘‘ سے متعلق انتہائی معلوماتی تحریر ہماری نذر کی۔ ’’انٹرویو‘‘ میں ڈاکٹر نور محمّد اعوان کی گفتگو اچھی لگی، مگر جوابات کچھ زیادہ ہی طویل دیئے گئے۔ ہمارے خیال میں مختصر سوال اور مختصر ہی جوابات ہونے چاہئیں۔ ’’فیچر ‘‘ میں منور راج پوت ہمیشہ کی طرح ایک نیا ہی موضوع لے کر آئے۔ خواتین کے لیے سائبان کی تلاش پر اس سے پہلے شاید ہی لکھا گیا ہو۔ ہاشم ندیم کا ناول بہت اچھا جارہا ہے، پیارا گھر میں لہسن پر مضمون معلوماتی تھا۔ ’’عالمی افق‘‘  میں ہردل عزیز منور مرزا، بورس جانسن کے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے ایک اور بہت عُمدہ تحریر عنایت فرمائی۔ اور ہاں اس بار اسماء خان کی چٹھی اوّل نمبر پر آئی۔ مگر انہوں نے لکھا ہے کہ خط پوسٹ کرنے میں اُن کے 80روپے خرچ ہورہے ہیں۔ لفافہ تو آٹھ روپے سے بیس روپے کا ہوا ہے، تو یہ 80روپے کس خوشی میں خرچ کیے جارہے ہیں۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)

ج:آپ کو کیا لگتا ہے کہ وہ ہرخط کے ساتھ ہمیں 60 روپے کی جلیبیاں لے کے بھیجتی ہیں۔ ارے بھئی، لازمی سی بات ہے کہ پوسٹ بکس یا پوسٹ آفس اُن کے گھر سے کچھ فاصلے پر ہوگا، تو کرائے کی مَد میں بھی کچھ رقم خرچ ہوتی ہوگی،تو وہ اُسے بھی خط ہی کے کھاتے میں ڈالتی ہوں گی۔

بےہدایتوں کو ہدایت

آپ کا اتنا خُوب صُورت جریدہ دیکھتے ہی آنکھیں جگمگا گئیں۔ الحمدُللہ، ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ انتہائی خُوب صُورتی سے رواں دواں ہے۔ آپ اُسے جس صفحے پر بھی شایع کر رہی ہیں، بالکل ٹھیک کر رہی ہیں۔ ویسے ہدایت کا صفحہ پڑھ کر بھی بے ہدایتوں کو ہدایت نہیں آتی۔ بس بےوجہ اعتراضات کرنا اس قوم کی عادت بن چُکی ہے۔ سو، پلیز یو ڈونٹ ٹیک ٹینشن۔ ناول ’’عبداللہIII‘‘ زبردست جارہا ہے۔ آپ کو پتا ہے، مَیں نے زندگی کاپہلا ناول ’’عبداللہ‘‘ ہی پڑھا تھا۔ ناقابلِ فراموش شان دار، اسٹائل بس سو سو ہے(ہاں مگر تحریر آپ کی ہو تو پھر چار چاند لگ جاتے ہیں)۔ آپ کا صفحہ، ملک صاحب کے بغیر ادھورا سا لگتا ہے (ہمیں ان کی بونگیوں کی عادت جو ہوچُکی ہے) ویسے وہ نواب زادہ ہوکر بے روزگار ہیں، حیرت ہے۔ محمّد سلیم راجا کا خط بہت انٹرسٹنگ ہوتا ہے(تبصرہ کرنا تو کوئی راجا صاحب سے سیکھے، بائی دی وے اب ان کو راجا نہیں، مہاراجا کہنا چاہیے)۔ پروفیسر صاحب اس بار محفل سے مِس ہوگئے (تھینکس گاڈ)چاچا چھکن پلیز، اب آپ بھی اپنا اصل نام بتا ہی دیں۔ حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ ہم لڑکیاں ہیں، مگر پھر بھی ہمیں اسٹائل اتنا اٹریکٹ نہیں کرتا، جتنا اِن بابائوں، چاچائوں کو کرتا ہے اور وہ حرا اقبال کہاں غائب ہے۔ باقی یہ کہ ’’ایڈیٹر صاحبہ! تُسی گریٹ او‘‘۔ (سونیا رائے)

ج: بے ہدایتوں کو آپ کی ہدایات ہی سے ہدایت آجائے، تو آجائے، ہم میں تو اتنے گٹس اور اسٹیمنا نہیں کہ ایک ہی بات پر مسلسل مغز ماری کرتے رہیں۔ ویسے بائی دی وے یہ ’’تُسی گریٹ او‘‘ والی بٹرنگ کی کوئی خاص وجہ…؟ خط تو تمہارا شایع ہو ہی جاتا ہے۔

کوئی کاؤنٹ ڈاؤن، قطار، نہ انتظار

شمارہ انجمن آراء ہوا۔ مہکتے مصرعے ’’دھوپ میں اِستعارہ بادل کا…‘‘ اور بیک گرائونڈ کے ہلکے سبز رنگ نے سرورق کو خوب خُوش نما بنایا۔ ’’ناول‘‘ کے آغاز کا پڑھ کر تھوڑی دیر بے یقینی کی سی کیفیت میں رہے، پھر بالآخر یقین آہی گیا۔ منور مرزا نے ٹرمپ کے بےلچک رویّے اور ایران کے مضبوط جوہری عزائم سے متعلق مفصّل تحریر لکھی۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں محمود میاں نجمی نے حضرت الیاس علیہ السلام کی حیاتِ مطّہرہ پر ایک باوقار تحریر میگزین کی زینت بنائی۔ ناول شروع کر کے تو آپ نے بس اخیر ہی کردی ہے۔ پیشگی اطلاع کے بغیر، کوئی کاؤنٹ ڈاؤن نہیں۔ نہ قطار، نہ انتظار، براہِ راست تبرک دے کر کہا کہ ’’لو جی، مستفید ہو‘‘ ،تو یہ تو کمال ہی ہوگیا۔ ویسے ناول ’’عبداللہ‘‘ جیسی شہرت و نام وری صرف ’’پَری زاد‘‘ ہی کو ملی، کسی اور کو نہیں۔ کم صفحات کے باوجود ناول کا آغاز، یقیناًقارئین سے آپ کی بے لوث محبت ہی کا ثبوت ہے۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘میں ڈاکٹر شکیل احمد نے فریضہ ٔ حج کے تناظر میں ذیابطیس پر ایک افادیت بھری تحریر مرتّب کی۔ بروقت آگاہی سے یقیناً کئی حُجّاجِ کرام مستفیض ہوئے ہوں گے۔ ’’سینڑ اسپریڈ‘‘ میں نفیس سن گلاسز پر عالیہ کاشف نے اچھی تحریر قلم بند کی۔ پیارا گھر میں ’’نسلِ نو اور فحش گوئی‘‘ بہترین، قابلِ اصلاح تحریر تھی۔ خوش مزاج فن کارہ، رباب ہاشم کی کہی ان کہی دل چسپ رہی۔ فائلر، نان فائلر پر مختصر مضمون لاجواب تھا۔ لگتا ہے، تبدیلی سرکار کی تبدیلی کابھٹا بس بیٹھنے ہی والا ہے۔ ناقابلِ فراموش کےدونوں واقعات بھی عُمدہ تھے۔ (ملک محمد رضوان، محلہ نشیمن اقبال، واپڈا ٹاؤن لاہور)

ج:تبدیلی کےبھٹے کا تو نہیں پتا، کئی اداروں کا بھٹا ضرور بیٹھ گیا ہے۔

تین شخصیات کا اندازِ تحریر

سلام خاص، نرجس جی کے نام۔ سب سے پہلے تو ناول شروع کرنے کا بہت بہت شکریہ۔ اس چھوٹے سے ہفتہ وار میگزین میں ناول وہ بھی ہاشم ندیم کا پڑھ کر اور دیکھ کر یقین ہی نہیں آرہا تھا۔ خیر، جب سے آپ کو خط لکھنا شروع کیا ہے، تب سے یہی طے ہوا تھا کہ جب تک ایک خط شایع نہیں ہوتا، دوسرا نہیں لکھوں گی، مگر ناول دیکھ کر خود کو روک نہ پائی۔ اب آتے ہیں تبصرے کی طرف۔ محمود میاں نجمی کو پہلے صفحے پر دیکھ کر آنکھوں اور دل کی تشنگی مٹ گئی، کیا زبردست تحریر تھی۔ ہر سال حج کے بارے میں کچھ نہ کچھ پڑھتے ہی ہیں، لیکن نجمی صاحب کا اندازِ بیاں جدا ہے۔ ’’انٹرویو‘‘ میں معروف ریاضی دان، ڈاکٹر نور محمد اعوان کی باتیں بھی لاجواب تھیں۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ کو چھوڑ دیں کہ اب ہم نہیں پڑھتے۔ ہمارے اس ننّھے دماغ میں فِٹ ہی نہیں ہوتا۔ ہاں کبھی مائگرین(دردِ شقیقہ)کے بارے میں تفصیلاً کچھ شایع کردیں، بڑی مہربانی ہوگی۔ اسٹائل میں آپ کی تحریر پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ مَیں آج تک جن تین شخصیات کے اندازِ تحریر سے متاثر ہوئی ہوں، اُن میں آپ بھی شامل ہیں۔ ’’کہی اَن کہی‘‘ میں رمشا خان کی باتیں بھی اچھی لگیں۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں فرحی نعیم اپنی چھوٹی سی تحریر میں بہت کچھ کہہ گئیں۔ ’’نئی کتابیں‘‘ میں آج سلطان محمد فاتح موجود تھے۔ ’’ناقابل فراموش‘‘ اور ’’ڈائجسٹ‘‘ غیر حاضر رہے، لیکن 16صفحات کا یہ میگزین بھی ڈھیر ساری معلومات سے بھرا پڑا تھا۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں قدم رکھتے ہی آپی اُمِ حبیبہ نور کو دیکھ کر حیرت کا ایک جھٹکا سا لگا اور خوشی بھی ہوئی۔ مَیں انہیں چار سالوں سےجانتی ہوں، مگر وہ مجھ سے ناواقف ہیں۔ اسماء خان بھی منہگائی کا رونا رو رہی تھی اور اِک ہم ہیں، 120روپے میں خط پوسٹ کروانے کے باوجود بھی کچھ نہیں کہہ سکتے، کیوں کہ اس تبدیلی خان کا ایک ہم نوا ہمارے گھر میں بھی موجود ہے۔ چلتے چلتے ایک پیغام حِرا اقبال کے نام کہ ’’کہاں ہو حرا… اچانک ہی غائب ہوگئی ہو، وجہ منہگائی ہے یا کچھ اور…؟‘‘ (سعدیہ خان زہری، خاردان قلّات، بلوچستان)

ج: باقی دو شخصیات کے نام تو بتا دیتیں۔ اور یہ ’’ہم نوائی‘‘ والا المیہ اِک تمھارے ساتھ ہی نہیں، بہتیرے بُھگت رہے ہیں، اک تو ’’تبدیلی‘‘ کا عذاب اور پھر تبدیلی کے فضائل و مناقب کے بیان کا عذاب۔

اجر و ثواب کما رہے ہیں

اللہ تعالیٰ آپ کو اور محمود میاں نجمی کو ’’سرچشمہ ٔ ہدایت‘‘ کا دنیا اور آخرت میں ضرور اجر عطا فرمائے۔ یہ ایک صدقہ ٔ جاریہ ہے، جس کو لکھنے، میگزین میں شامل کرنے اور پڑھنے والے سب اجر و ثواب کما رہے ہیں۔ اور میگزین میں ’’آپ کا صفحہ‘‘ شامل کرنے پر مَیں آپ کی بہت قدر کرتا ہوں۔ یہ وہ صفحہ ہے، جس میں شامل ہونے والا ہر بڑا چھوٹا، امیر غریب سب یک ساں ہیں۔ آپ کے کھٹےمیٹھے، علمیت سے بھرپور جوابات اس صفحے کو چار چاند لگاتے ہیں۔ اگر ہو سکے تو ’’میکینکل ٹیکنالوجی‘‘ کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور شایع کردیں۔ (محمّد ہناسل،میاں چنوں،خانیوال)

ج:جی ہناسل… ہم پوری کوشش کریں گے۔

کوئی ثانی نہیں!!

میڈم! آپ کے سنڈے میگزین کے تمام سلسلے بہت اچھے ہیں، خاص طور پر ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں قصص الانبیاء بہت ہی دل چسپی اور توجّہ سے پڑھتا ہوں۔ میڈم! ایک مشورہ ہے کہ آپ ’’قصص الانبیاء‘‘ سنڈے میگزین کے درمیانی صفحات پر شایع کرنا شروع کردیں۔ میڈم! آپ نے میرے پچھلے خط کا جواب دیا، آپ کی بڑی مہربانی۔ محمّد حسین ناز اور محمود میاں نجمی کو میرا سلام کہیے گا۔ ویسے میگزین کا کوئی ثانی نہیں، یہ اپنی مثال آپ ہے۔ اِسی لیے ہر گھر کی زینت ہے اور یہ سب کمال آپ اور آپ کی ٹیم کا ہے۔ میڈم! میں آپ لوگوں کا بےحد شُکر گزار ہوں کہ ہمیں ہر ہفتےایساشان دار جریدہ مطالعے کے لیے مہیّا کر رہے ہیں۔ (حسن شیرازی، نارتھ کراچی، کراچی)

ج: میڈم کے شاگرد صاحب! ثانی تو آپ کی تجویز کا بھی کوئی نہیں۔ اور ویسے ایسی شاہ کار تجویز آ بھی آپ ہی کی طرف سےسکتی تھی۔

کھونٹا مضبوط ہوتا ہے

اس بار بھی دو ہی شماروں پر تبصرہ کروں گا۔ ’’ہائے یہ بے زباں…‘‘ منور راجپوت کی تحریر اور موضوع دونوں ہی بہت شان دار تھے۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ سے متعلق نگارش کا چوتھا اور آخری حصّہ پڑھ کر دلی سُکون پایا۔ ’’گفتگو‘‘ میں حکیم محمد سعید مرحوم کی اکلوتی بیٹی، سعدیہ راشد سے مفصّل گفتگو بھی خُوب رہی۔ ’’اسٹائل‘‘ میں کافی عرصے بعد کوئی معروف اداکارہ نظر آئیں، یعنی نرما، ورنہ تو عموماً غیر معروف ماڈلز ہی ہوتی ہیں۔ اپنا خط دیکھ کر بھی بہت خوشی ہوئی۔ ’’سیاست کی ہنگامہ خیزی اور قیاس آرائیاں‘‘ اچھا تجزیہ تھا۔ جو حکومت میں ہو، اس کا کھونٹا مضبوط ہی ہوتا ہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ میثاقِ معیشت کے بغیرکوئی چارہ نہیں۔ ’’لازم و ملزوم‘‘ میں معروف نام پریم چند کے بارے میں پڑھا اور ’’کہی اَن کہی‘‘ میں سلجھی ہوئی میزبان نصرت حارث سے سوال و جواب بھی خوب رہے۔ (پرنس افضل شاہین، ڈھاباں بازار، بہاول نگر)

ج: بھائی! پاکستان میں جو حکومت میں ہو، اُس کا کھونٹا مضبوط نہیں ہوتا۔ یہ بات تو اب بچّے بچّے کو پتا ہے۔

یادیں تازہ ہوجائیں

سرِورق پر ماڈل کی تصویر شایع نہ کیا کریں، ماڈل کی تصویر کے بغیر بھی میگزین بِک جائے گا۔ آخر مڈویک میگزین بھی تو ایک عرصے تک بغیر تصویر کے بِکتا ہی رہا ناں۔ آپ کہتی ہیں، آپ کی رائے ہمارے لیے مقدّم ہے، تو اب ہماری رائے کو مقدّم جانیں اور سنڈے میگزین میں فوراً وسیم انصاری کا انٹرویو شایع کریں۔ اور ہاں، اگست 2005ء کے سنڈے میگزین میں ہیلتھ اینڈ فٹنس کے صفحے پر ڈاکٹر سیّد امجد علی جعفری کا ایک آرٹیکل شایع ہوا تھا، وہ آرٹیکل بھی دوبارہ شایع کریں۔ تاکہ پرانی یادیں تازہ ہوجائیں۔ (نواب زادہ خادم ملک، سعید آباد، کراچی)

ج: ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ کے صفحے پر شایع ہونے والے آرٹیکل سے آپ کی یادیں تازہ ہوں گی.....؟؟ کیا آرٹیکل کسی دماغی، نفسیاتی بیماری سے متعلق تھا۔ آپ بہ نفسِ نفیس کسی ماہرِ نفسیات کے پاس تشریف لے جائیں کہ آپ کی ذہنی حالت دن بہ دن بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے۔ رہی بات مڈویک میگزین کی، تو وہ تو اشتہارات کی کمی ہی کے سبب بند ہوگیا اور اگر آپ کی بات کو مقدّم جان لیا تو پھر سنڈے میگزین کا بھی اللہ ہی حافظ ہے۔ ہاں، یہ جو آپ بِکنے وِکنے کے بھاشن دیتے ہیں ناں، تو بھائی صاحب!آپ کے 25,20 روپے سے اخباری صنعت نہیں چل رہی۔ اخبار کی قیمت سے تو چند سطریں کمپوز نہیں کروائی جاسکتیں، کُجا کہ پورا میگزین تیار ہو۔

                                                                                              فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

جب یہ بات طے ہی ہے کہ ایک خط پر چاہے دو سو روپے خرچہ بھی آئے، ہم میگزین نہیں چھوڑنے والے، تو پھر کیوں دل پرجبرکرکے اس نصف ملاقات سے خود کو روکا جائے۔ سو، ایک بار پھر حاضر ہیں اپنے ’’کلیوال‘‘ (ویلیج اسٹائل) طرزِ تحریر کے ساتھ کہ ہمیں نہ تو فلسفہ بولنا آتا ہے، نہ ہی فیروز اللغات سے ہمالیہ جتنے وزنی الفاظ نکال نکال کر خط میں ٹانک سکتے ہیں۔ رہا نوک پلک سنوارنے کا کام، تو اس کےلیےنرجس جی ہیں ناں۔ تازہ شمارے میں معروف ریاضی دان، ڈاکٹر نور محمد اعوان کی سچّی، کھری اور فکر انگیز گفتگو پڑھ کر اس ’’شیرِنر‘‘ کی ہمّت کو داد دینی پڑی۔ ’’خواتین کو چاہیے اِک سائبان‘‘ منور راجپوت نے ملازمت پیشہ خواتین کی مشکلات سے بہ خوبی آگاہ کیا۔ ہم تو پہلے ہی خواتین پر کمانے کا بوجھ ڈالنے کے قطعاً ہامی نہیں تھے، اب تو باقاعدہ کان پکڑ کر توبہ کرلی۔ واہ بھئی واہ، ’’اسٹائل‘‘ کے کیا ہی کہنے۔ ہم صنفِ نازک ہوتے ہوئے بھی کئی گھنٹے بزم کو تکتے رہے۔ حسین، دل نشین منہدی سےسجے کومل کومل ہاتھ دیکھ کر ہمارےچہار سُو جیسےمنہدی کی خوشبو سی بِکھر گئی، تو صنفِ کرخت کا تو اللہ ہی مالک ہے۔ اور سونے پر سہاگا، تحریر بھی نرجس ملک کی۔ بندہ خوشی سے مر نہ جائے، تو کیا کرے۔ اس پر طرفہ تماشا، آپ کا ’’سرپرائز…‘‘ جیسے اماوس کی رات میں کہیں روشنی کی تیز کرن سی لہرا جائے۔ ہاشم ندیم سے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ خدارا! اس بار عبداللہ اور زہرا کے ساتھ کچھ بُرا مت کیجیے گا۔ بہت تھکا دیا ہے آپ نے ان دونوں کو اور ان کی محبّت کو بھی۔ اور اب ذکر ہوجائے ’’راج دھانی‘‘ کا، جس پر براجمان ہوئے اس بار ہم، تو نرجس جی، بس یہ آپ کا حُسنِ نظر ہے، ورنہ پروفیسر مجیب ظفر ہی کیا، ہم تو خود بھی اپنے آپ کو اس لائق نہیں سمجھتے۔ ویسے پروفیسر صاحب کی بے جا تنقید پڑھ کر ہمیں ہنسی بہت آئی کہ بھلا ایسا بھی کیا تھا، ہماری معصوم سی تحریر میں، جو آپ کو سمجھ نہ آیا۔ ارے بھئی، اگر ایڈیٹر صاحبہ نے نوازا ہے، تو کچھ سوچ سمجھ ہی کر نوازا ہوگا، وگرنہ ہماری تو ان سے بہت دور پار کی بھی کوئی تعلق داری نہیں۔ (پر چھڈو جی، پروفیسر صاحب نوں، اُنھیں نرجس جی نہ سمجھا سکیں، تو ہم کیا، ہماری بساط کیا)۔ اور ہاں، ہم نے تو مذاقاً چاچی سے شکایت کرنے کو کہا تھا، چاچا جی نے باقاعدہ بُرا منالیا۔ ارے چاچاجی… اگر ہم کراچی آبھی گئے، تو اتنے بڑے گلشنِ اقبال میں آپ کا گھر کہاں ڈھونڈتے پھریں گے۔ اس لیے جی بھر کے دیکھا کیجیے ماڈل صاحبہ کو۔ ویسے آپس کی بات ہے، انسان میں اتنی برداشت تو ہونی چاہیے کہ ہلکی پھلکی تنقید پر صرف متبسّم ہونے ہی پر اکتفا کرے۔ ہیپاٹائٹس کے عالمی یوم کی مناسبت سے ڈاکٹر غلام علی کا مضمون بہت امید افزا اور معلومات سے بھرپور تھا۔ بہ غور پڑھا، کیوں کہ ہمارے بلوچستان میں یہ مرض بہت عام ہوگیا ہے۔ محمود میاں نجمی کے شان دار بلکہ معرکتہ الآرا طرزِ تحریر کی تعریف نہ کرنا، تو ازحد زیادتی ہے۔ بہت ہی عُمدگی سے حج کے فرائض بیان کیے۔ شکریہ سر۔ اور ایڈیٹر صاحبہ! آپ کے حوصلے، ہمّت کو بھی سلام ہے، کیسے کیسے لوگوں کی بے جا تنقید سہ رہی ہیں۔ کبھی کہتے ہیں ’’سرچشمہ ٔ ہدایت‘‘ کا صفحہ آگے کردو، کبھی پیچھے کرواتے ہیں، شُکر ہے، آپ نے بند نہیں کردیا۔ اللہ کرے، یہ گل دستہ ٔ ہدایت سدا یوں ہی مہکتا، شاداب و شگفتہ رہے، آمین۔ (اسماء خان دمڑ، سنجاوی، بلوچستان)

ج:تم اپنا کام کرتی رہو۔ یہ چاچوں، بابوں کی باتیں دل پر لینے لگی ناں تو پھر کسی کام کی نہیں رہوگی۔ وہ کیا ہے ناں ؎ وہ اپنا کام کرتی ہے، ہوا شمعیں بُجھاتی ہے… ہم اپنا کام کرتے ہیں، نئی شمعیں جلاتے ہیں۔

گوشہ برقہ خُطوط
  • 14 جولائی کا شمارہ دیکھ کر آنکھوں کو یقین نہیں آیا۔ او مائی گاڈ! نرجس جی، آپ نے تو سرپرائز کردیا۔ ’’عبداللہ …پھر سے‘‘ میں تو دوبارہ اپنے میٹرک کے دَور میں چلی گئی۔ جب میں نے اچانک ہی ایک رشتے دار کے گھر ’’عبداللہ‘‘ ناول کی ایک قسط پڑھی اور اس کی دیوانی ہوگئی۔ بخدا ، تب سے لے کر آج تک آپ کا ایک جریدہ مِس نہیں کیا۔ یہاں امریکا کی زندگی بہت ٹف ہے۔ جاب، پھر گھر کے سب کام بھی خود کرنا، مگر میگزین سے رشتہ نہیں ٹوٹا۔ ہاں بس ایک درخواست ہے، پلیز، پلیز، پلیز اس بار ساحر اور زہرا کی شادی ضرور کروا دیجیے گا۔ ہاشم ندیم نہ بھی کروائیں، آپ زبردستی کروادیں۔(قرأت نقوی، ٹیکساس، یو ایس اے)

ج: ارے…ہمیں ’’مسز خان‘‘ سمجھ رکھا ہے کیا۔ کیا پتا ہاشم ندیم نے عبداللہ کا چوتھا حصّہ لکھنے کا ارادہ بھی باندھ رکھا ہو۔ ہیرو، ہیروئن کی شادی ہوگئی تو پھر کیا بچے گا۔

  • کسی کام یاب ٹرانس جینڈر کا بھی تفصیلی انٹرویو ہونا چاہیے۔ اُن کے مسائل بھی سامنے آنے چاہئیں۔ (عائشہ طارق)

ج: ہم اُن سے متعلق کئی رپورٹس، فیچرز شایع کرچُکے ہیں۔ اب انٹرویو بھی کروالیں گے۔

  • مَیں آپ کے میگزین کا مستقل قاری ہوں۔ جریدہ متعدد حوالوں سے معلومات فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ میری ایک تجویز ہے کہ کچھ تخلیقی ٹیکنیکل مضامین بھی شایع کیا کریں، جن سے نسلِ نو کی بھی کچھ رہنمائی ہو اور انہیں اپنی تخلیقی صلاحیتیں اُجاگر کرنے کا موقع ملے۔ (انجینئر عمران خان، اندھر، واپڈا، لاہور)

ج: آپ کی تجویز بہت اچھی ہے۔ کچھ ایسے ماہرین تلاشنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو اچھا لکھنا بھی جانتے ہوں۔

  • پلیز میری غزل اگلے ہفتے شایع کردیں۔ (ثناء یونس)

ج: پہلے غزل کی اشاعت کی ضمانت تو لے لو، پھر اگلے، پچھلے ہفتوں کی فرمایشیں بھی کرتی رہنا۔

  • مجھے لکھنے کابہت شوق ہے۔ نثر، شعر و شاعری ہر میدان میں طبع آزمائی کرسکتی ہوں۔ (سحر احمد)

ج: آپ تحریر (نثر و نظم جو بھی بھیجنا چاہیں) بھیجیں تو سہی، مناسب ہوگی تو شایع کردی جائے گی۔

قارئینِ کرام!

ہمارے ہر صفحے ، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk

تازہ ترین