A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: HTTP_REFERER

Filename: front/layout_front.php

Line Number: 246

Backtrace:

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/views/front/layout_front.php
Line: 246
Function: _error_handler

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/third_party/MX/Loader.php
Line: 351
Function: include

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/third_party/MX/Loader.php
Line: 294
Function: _ci_load

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/modules/frontend/controllers/Detail.php
Line: 464
Function: view

File: /var/www/js.jang.com.pk/html/index.php
Line: 333
Function: require_once

آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 15؍ صفرالمظفر 1441ھ 15؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ڈسکائونٹ ریٹ 13.25فیصد پر برقرار رکھنا بجٹ خسارہ بڑھائیگا

اسلام آباد(مہتاب حیدر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سےڈسکائونٹ ریٹ کو 13.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ بجٹ خسارے کو مزید بڑھا دیگاکیوں کہ ایک فیصد پالیسی ریٹ 130ارب روپے سالانہ خسارے میں اضافہ کرتا ہے۔وزارت خزانہ نے تخمینہ لگایاہےکہ پالیسی ریٹ میں ایک فیصد اضافہ بجٹ خسارے کو 130 ارب روپے سالانہ بڑھا دیگا۔دی نیوز سے گفتگو میں ایک اعلیٰ سطح کے افسر کاکہناتھاکہ جب حقیقی شرح سود 8فیصد ہے تو پالیسی ریٹ کو 13.25فیصد پر برقرار رکھنے کا کیا جواز ہے؟ سابق سیکریٹری خزانہ اور معروف اکنامسٹ ڈاکٹر وقار مسعود نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کو 13.25پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہےکہ مذکورہ مستقبل پالیسی معیشت کی بحالی کےپلان پر شدید اثرات مرتب کرے گی اور اس کا بجٹ خسارے پر بھی منفی اثر پڑیگا۔ ان کےمطابق کہ کوئی بھی حیرت زدہ ہوگا کہ بلند شرح سود بغیر کسی معاشی جواز کےکیوں 4ماہ تک مستقل جاری رہا اور اس پالیسی کے باعث معیشت کو پہنچنے والے شدید نقصان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ 2ماہ(جون اور جولائی2019) میں 20کھرب روپے کا قرض لیا تاکہ مالی سال میں جب ضرورت پڑے خسارے کو پورا کیا جاسکے ۔ دی نیوز کو اعلیٰ افسر نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک سے قرض لینے پر پابندی کے بعد

وفاقی حکومت نے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کیلئے 10کھرب روپے کا قرض لیا۔ سرکاری ذرائع نے کہاہےکہ قرض کی صورتحال کو ماہانہ بنیاد پر مطالعہ کرنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ حکومت نے اسٹیٹ بینک سے قرض لینا بند کردیا ہے اورمختصر المیعاد بنیاد پر ڈیٹ میچورٹی بفر اسٹاکس کے ذریعے کی جائیگی،حکومت نے ٹی بلز کے ذریعے 2 ارب روپے قرض لیا اور اگست 2019میں مذکورہ رقم واپس بھی کردی۔انہوں نے کہاکہ قرض کی صورتحال کا سالانہ بنیاد پر جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیوں کہ ڈیٹ اسٹاک میں اضافہ مالی سال کے اختتام پر بجٹ خسارے کو پورا کرنے کی ضرورت کے تقریباً برابر ہوگا۔افسر کا کہناہے کہ آئندہ اکتوبر میں حکومت کو 22کھرب روپے کے مختصر المیعاد قرض کی میچورٹی یقینی بنانا ہوگی، بینکوں کی ڈکٹیشن سے بچنے کیلئے حکومت بفر اسٹاک کی پالیسی جاری رکھے گی اور ٹی بلز کے ذریعے بڑھائے گئے پیسے کوآہستہ آہستہ کم کرکے 500سے 700ارب روپے کے درمیان لایا جائیگا۔

اہم خبریں سے مزید