آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 14؍ربیع الاوّل 1441ھ 12؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

گزشتہ جمعرات کی شام اسلام آباد کے تھنک ٹینک ’پاکستان ہاؤس‘ نے راقم الحروف کی تصنیف ’جنگِ ستمبر کی یادیں‘ کی تعارفی تقریب کا اہتمام کیا جس میں سیاستدانوں، فوج کے ریٹائرڈ اعلیٰ عہدیداروں، یونیورسٹی کے پروفیسروں اور بلند پایہ قلم کاروں نے حصہ لیا۔ یہ کتاب میرے پوتے ایقان حسن نے مرتب کی ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رانا جاوید اظہر نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ یہ کتاب عام قاری نے بھی بہت پسند کی ہے۔ سابق ایئر چیف مارشل کلیم سعادت نے کہا کہ پاکستان نے بھارت سے تنازع کشمیر پر تین جنگیں لڑی ہیں جن میں پاکستان ایئرفورس نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا زبردست مظاہرہ کیا۔ قریشی صاحب نے اپنی کتاب میں ہماری مسلح افواج کے عظیم کارناموں کی نہایت مؤثر انداز میں تصویر کشی کی ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ قوم کے اندر پوری ہم آہنگی ہو، تو بڑی سے بڑی قوت کو شکست دی جا سکتی ہے۔ 27فروری 2019کو پاکستان ایئرفورس نے دشمن کے دو طیارے مار گرا کر دنیا کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان ناقابلِ تسخیر ہے۔

وائس ایڈمرل جناب فاروق رشید نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا ’جنگِ ستمبر کی یادیں‘ اِس اعتبار سے ایک تاریخی دستاویز ہے کہ اس میں 1965کی جنگ کے واقعات صحیح تاریخی تناظر میں پیش کیے گئے ہیں۔ معرکۂ دوارکا کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ اس نے بھارتی نیوی کا غرور خاک میں ملا دیا جو پورے بحرِہند پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے خواب دیکھ رہی تھی۔ یہ تصنیف اِس قابل ہے کہ ہر فوجی افسر اِس کا مطالعہ کرے اور اپنی تاریخ سے پیوستہ رہے۔ معروف کالم نگار جناب محمد مہدی کی رائے میں ’جنگِ ستمبر کی یادیں‘ کی تقریب ایک ایسے وقت منعقد ہو رہی ہے جب اَسّی لاکھ کشمیری بھارت کی کربلا میں محصور ہیں۔ قریشی صاحب نے اپنے بیش قیمت مقدمے میں 1965کی جنگ کی جڑیں تاریخ میں تلاش کی ہیں اور قوم پر بھارتی ذہنیت پوری طرح آشکار کر دی ہے۔

ڈاکٹر طلعت فاروق نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جب سے شعور کی آنکھ کھولی، تو اپنے گھر میں تھری بلوچ رجمنٹ کا چرچا سنتی رہی ہوں۔ میرے والد، میرے بھائی اور میرا بھتیجا اِسی رجمنٹ سے تعلق رکھتے ہیں جس نے 1965میں بی آر بی کا دفاع کیا تھا۔ الطاف صاحب نے جنگِ ستمبر کا آنکھوں دیکھا حال لکھا ہے اور نثر میں شعری لطافت پیدا کر دی ہے۔ سابق وفاقی وزیر اعجاز الحق نے تقریب کے منتظمین کو مبارک باد پیش کی اور کہا ہم اِس اعتبار سے بہت خوش نصیب ہیں کہ قریشی صاحب نے 1965کی جنگ کے واقعات محفوظ کر لیے ہیں۔ آج ہمارے اندر سیاسی انتشار اور معاشی زوال حددرجہ تشویش ناک ہے جبکہ بھارت کے ناپاک عزائم کو شکست دینے کے لئے ہمیں پوری طرح متحد ہونا اور معیشت کو سنبھالا دینا ہو گا۔ میں قریشی صاحب کو ایک سچا اور جرأت مند صحافی سمجھتا ہوں اور اُن کی تخلیقات کو بڑی اہمیت دیتا ہوں۔

راقم الحروف نے کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا اِس میں ہر محاذِ جنگ کا آنکھوں دیکھا حال اور عوام اور فوج کے مابین بےمثال ہم آہنگی کے ایمان افروز واقعات درج ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ قیامِ پاکستان کے بعد بھارت نے کشمیر کے حوالے سے جس مکاری اور دغابازی سے عالمی طاقتوں کو فریب دیا، اسے تفصیل سے بےنقاب کیا ہے۔ بھارتی حکومت نے 26؍اکتوبر 1947کی رات جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کر دیا تھا کہ وی پی مینن 26؍اکتوبر کی صبح جموں گیا جہاں مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ نے بھارت سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے اور بھارت سے امداد طلب کی۔ اِس گمراہ کُن پروپیگنڈے کی بنیاد پر بھارت نے برطانوی جنگی طیاروں اور پائلٹوں کے ذریعے سرینگر میں فوج اُتاری تھی۔ قائدِاعظم نے اپنی فوج کے قائم مقام کمانڈر اِن چیف جنرل گریسی کو بھارت کی پیش قدمی روکنے کا حکم دیا مگر اس نے سپریم کمانڈر آکنلک سے رابطہ کیا جو اگلے روز پاکستان آیا اور اس نے کذب بیانی سے کام لیتے ہوئے قائدِاعظم کو اپنا حکم واپس لینے کی درخواست کی کہ جنگ کی صورت میں پاکستان کی فوج سے انگریز افسران فوری طور پر واپس بلا لیے جائیں گے۔ اسی وقت فیصلہ ہوا کہ یکم نومبر کو گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور وزیرِاعظم نہرو کراچی آئیں گے مگر کشمیر پر اپنی فوجی گرفت مضبوط کرنے کے لئے نہرو نے بیماری کا ڈھونگ رچایا اور وہ کراچی نہیں آیا۔

بھارت نے وی پی مینن کے جموں جانے اور مہاراجہ کی طرف سے دستاویزِ الحاق پر دستخط کرنے کی جو کہانی گھڑی تھی، اس کا پول معروف برطانوی مصنف Alastair Lambنے اپنی تصنیف Incomplete Partitionمیں ناقابلِ تردید شہادتوں کے ساتھ کھول دیا ہے۔ اُنہوں نے دہلی میں تعینات برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر الیگزنڈر سائمن کی ڈائری کا حوالہ دیا ہے جس میں 26؍اکتوبر کےواقعات درج ہیں۔ اس کی ایک نیم سرکاری نقل دولتِ مشترکہ کے پبلک ریلیشنز آفیسر آرچبالڈ کارٹر کو بھیجی گئی تھی جو برٹش آرکائیوز میں آج بھی محفوظ ہے۔ سائمن نے ریکارڈ کیا ہے کہ میں نے 26؍اکتوبر کی دوپہر ایک ضروری ملاقات کے لئے وی پی مینن کو فون کیا۔ اس نے کہا آج ملاقات اِس لیے ناممکن ہے کہ میں جموں جانے کے لئے ایئرپورٹ پر بیٹھا ہوں۔ سائمن پالم ایئرپورٹ پر پہنچا جہاں وی پی مینن واپس دہلی آنے کے لئے تیار بیٹھا تھا کہ ہوائی جہاز رات سے پہلے جموں ایئرپورٹ پر اُتر نہیں سکتا تھا۔ وہ دونوں اپنی اپنی کاروں میں واپس دہلی آ گئے مگر بھارتی حکومت دنیا کو یہ غلط تاثر دینے میں کامیاب رہی کہ وی پی مینن 26؍اکتوبر کو جموں گیا اور مہاراجہ سے دستاویز الحاق پر دستخط کرانے میں کامیاب رہا۔ اِس جھوٹ نے جو فساد برپا کیا، اس کے خطرناک نتائج ہمارا پورا خِطہ بھگت رہا ہے جبکہ مودی کے حالیہ فاشسٹ اقدامات سے عالمی امن کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ پاکستان کو مسٹر لیمب کی تحقیق کی بنیاد پر بھارت کے بدترین فراڈ کو ہر فورم پر چیلنج کرنا اور اس کے خلاف عالمی اداروں میں 27؍اکتوبر کو ہونے والی ریاستی دہشت گردی کے خلاف مقدمہ چلانے کے معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔

ادارتی صفحہ سے مزید