آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار20؍ صفرالمظفر 1441ھ 20؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

طالبان سے مذاکرات ختم ہونے کے بعد امریکی یوٹرن، صدارتی انتخاب سے ایک ہفتہ قبل کرپشن الزامات لگا کر افغان امداد روک لی، ڈرون حملوں میں 30 شہری مار دیئے

کراچی (نیوزڈیسک) طالبان سے مذاکرات ختم ہونے کے بعد امریکہ نے یوٹرن لیتے ہوئے افغان حکومت کی امداد روک لی،امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان حکومت کرپشن کیخلاف جنگ میں ناکام ہوگئی ہے۔ 

ادھر ننگر ہار میں امریکی ڈرون حملے میں 30 مزدور اور کسان ہلاک ہوگئے جبکہ افغان صوبے زابل میں طالبان کے ایک حملے میں 20 افراد ہلاک ہوگئے۔

ننگر ہار میں امریکی ڈرون حملے میں 30 مزدور اور کسان ہلاک ہوگئے


تفصیلات کے مطابق طالبان سے مذاکرات ختم ہونے کے بعد امریکا نے یوٹرن لیتے ہوئے صدارتی انتخابات سے محض ایک ہفتہ قبل ہی کرپشن الزامات لگا کر افغانستان کی 160 ملین ڈالرز(25ارب 7کروڑ 20لاکھ پاکستانی روپے) کی امداد روک لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا نے جمعرات کو افغان حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ کرپشن کیخلاف جنگ میں ناکام ہوگئی ہے اور اس کے بعد 160ملین ڈالرز کی امداد روک دی گئی، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ ہم ان کیخلاف ہیں جو اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں اور لوگوں کو ان کے حق سے محروم کرتے ہیں۔

پومپیو نے کہا کہ امریکا کرپشن الزامات کی روشنی میں افغان حکومت کے ساتھ کام نہیں کرے گا کیونکہ وہ شراکت داری کے قابل نہیں ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ افغان حکومت کرپشن کیخلاف جنگ کا مظاہرہ کرے اور افغان عوام کی خدمت کا اپنا عزم ظاہر کرے، افغان رہنما جو کام کرنے میں ناکام رہے ہیں ان کا احتساب ہونا چاہیے۔

پومپیو نے کہا کہ امریکا بڑے توانائی منصوبے کے 100 ملین ڈالرز واپس لے رہا ہے ،انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا اسے افغان حکام کے ذریعے دینے کی بجائے براہ راست دےگا۔

پومپیو نے مزید کہا کہ امریکا افغانستان کے پروکیورمنٹ حکام کی مدد کیلئے 60 ملین ڈالرز امداد کے منصوبے کو بھی روک رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی فضائیہ نے ننگر ہار میں ایک ڈرون حملے میں 30 مزدوروں اور کسانوں کو ہلاک کردیا ،یہ افراد کھیتوں سے چلغوزے چننے کے بعد آرام کر رہے تھے۔

افغانستان کی وزارتِ دفاع اور افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے ایک ترجمان نے علاقے میں ڈرون حملے کی تصدیق کی ہے لیکن اس میں شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی ہے۔

امریکی فوج کے ترجمان کرنل سونی لیگٹ نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ننگر ہار میں داعش کے دہشت گردوں پر ڈرون حملہ کیا تھا جس میں عام شہریوں کے ہلاک ہونے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ 

حملے کا نشانہ بننے والے چلغوزے کے کھیتوں کے مالک حیدر خان نے واقعے میں 30 افراد کے ہلاک اور 40 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اہم خبریں سے مزید