آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 18؍ صفر المظفّر 1441ھ 18؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

امریکی ریاست جارجیا کے دارالحکومت اٹلانٹا سے تعلق رکھنے والی مونٹانا براؤن نامی لڑکی اُسی اسپتال میں نرس بن گئی ہے، جہاں سے اُس لڑکی نے اپنے کینسر کے مرض کا علاج کروایا تھا۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق مونٹا براؤن کا خواب تھا کہ وہ اُسی اسپتال میں نرس بنے جس نے اُس کو ایک نہیں بلکہ دو بار نئی زندگی دی تھی اور مریضوں کا خیال اُس طرح سے رکھے جیسے نرسوں نے دورانِ علاج اُس کا خیال رکھا تھا۔

مونٹا براؤن نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ’جب وہ 2 برس کی تھی تو اُس وقت تشخیص ہوئی کہ اسے’رابڈومیوسارکوما‘ ہے جو مربوط ٹشو کا ایک نایاب قسم کا بچپن کا کینسر ہوتاہے، جب اس کے والدین کو  اِس مرض کے بارے میں معلوم ہوا تو اُنہوں نے اٹلانٹا کے اے ایف ایل اے سی کیسنر سینٹر میں اس کا علاج کروانا شروع کیا جہاں ایک سال تک اس کی کیمو تھراپی کروائی گئی۔‘

براؤن نے بتایا کہ’جب میں اسپتال میں داخل تھی تو میرے والدین اور وہاں کی نرسیں معمول کی زندگی گزارنے میں میری مدد کرتے تھے، مجھے فلمیں دِکھاتے، میرے ساتھ کھیل کود کرتے اور اِسی عرصے میں میرا کینسر کا مرض ٹھیک ہوگیا تھا۔‘

اُنہوں نے بتایا کہ ’جب میں ہائی اسکول پہنچی تو اُس وقت میں 15 برس کی تھی، میں ہائی اسکول میں مسابقتی جمناسٹکس اور مسابقتی چیئرلیڈنگ جیسی سرگرمیوں میں آگے سے آگے سرگرم رہتی تھی لیکن اُسی دوران میرے والدین کو ایک چونکہ دینے والی خبر موصول ہوئی اور وہ خبر یہ تھی کہ مجھے دوبارہ سے کینسر ہوگیا ہے۔‘

اُنہوں نے مزید بتایا کہ ’میں نے اپنے ہائی اسکول کی چیئرلیڈنگ ٹیم کے لیے بہت کوشش کی تھی اور میں نے ایک میل کی دوڑ بھی لگائی تھی لیکن مجھے اُس وقت بلکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ مجھے کینسر ہے اور نہ ہی مجھے کینسر کی علامتیں معلوم تھی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میرے والدین کو اِس بارے میں معلوم تھا اور وہ بتا سکتے تھے کہ ایسی کون سی علامتیں ہیں جو میرے مرض کر ظاہر کررہی ہیں۔‘

اُنہوں نےکہا کہ ’اُس کے بعد میں ہر ہفتے اے ایف ایل اے سی کیسنر سینٹر میں کیموتھراپی اور ریڈی ایشن کروانے جاتی تھی، جہاں ڈاکٹروں نے مجھے جمناسٹکس اور چیئرلیڈنگ چھوڑنے کا مشورہ دیا۔‘

اُنہوں نے اپنی بات کو آگے برھاتے ہوئے کہا کہ ’اسپتال کی نرسیں اُس وقت بھی ویسی ہی قابلِ تعریف تھیں جیسے میرے بچپن میں تھیں، وہ انتہائی محبت اور دیکھ بھال کرنے والی تھیں، اور میرے ساتھ اِس قدر حسن و سلوک سے پیش آتی تھیں جیسے کوئی اپنا پیش آتا ہے، اور اُن کی اِسی ہمدردی نے ایک بار پھر مجھے نئی زندگی دی۔‘

مونٹانا براؤن نے اپنے ماضی کے بارے میں بات ختم کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں اب اُسی اسپتال میں ایک نرس کی حیثیت سے کام رہی ہوں، یہ میرا خواب تھا جو پُورا ہوگیا ہے، میں چاہتی تھی کہ کینسر سے لڑنے والے بچوں کے ساتھ ایک خاص ہمدردی کا تعلق قائم کروں جو اُن کے لیے نئی زندگی کی اُمید کا ذریعہ بنے، اور اب وقت گزرنے کے ساتھ میں سمجھ گئی ہوں کہ یہ اسپتال وہ جگہ ہے جہاں میں تھی اور اب اِس سے ہی میری پہچان ہے۔‘

آخر میں مونٹانا براؤن نے کہا کہ ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ 24 سال کی عُمر میں میرا یہ خواب پُورا ہوجائے گا اور میں اپنی ملازمت سے بےحد خُوش ہوں، میرا ہر دِن ایک نئے جذبے اور جوش و خروش کے ساتھ گُزرتا ہے۔‘

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید