آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 22؍ صفر المظفّر1441ھ22؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ڈاکٹرز اور انتظامیہ آمنے سامنے: پختونخوا کے اسپتالوں میں مریض رُل گئے

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیر اعظم عمران خان کے خطاب کو ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی بے حد سراہا جارہا ہے اور اسے عالم اسلام کی حقیقی ترجمانی قرار دیا جارہا ہے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا خطاب نہ صرف پاکستا ن بلکہ امت مسلمہ کے دلوں کی حقیقی آواز ہے۔

وزیر اعظم نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے حوالے سے عالمی سطح پر ہونیوالے پروپیگنڈے سے متعلق تصویر کا حقیقی رخ پیش کیا ہےخیبر پختونخوا اسمبلی نے ریجنل وڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز بلز کی منظور ی دیدی ، بل میں اپوزیشن ارکان کے کئی ترامیم بھی شامل کرلی گئیں،بل کے تحت وزیر صحت پالیسی بورڈ کے چیئرمین ہونگے۔

ریجنل سطح کے علاوہ ضلعی سطح ہیلتھ اتھارٹیز قائم کی جائیں گی ،وزیر صحت ہیلتھ اتھارٹی کو تحلیل کرنے کے مجاز ہونگے ، ہیلتھ اتھارٹیز کی وفاق، صوبائی حکومت کی جانب سے مالی معاونت کی جائے گی، طبی آلات کی خریداری صوبائی حکومت کریگی، نئی بھرتیوں میں ڈاکٹرز سول سرونٹ نہیں ہونگے ، صوبائی حکومت قواعد وضوابط میں تبدیلی کی مجاز ہوگی ،ہر ریجنل ہیلتھ اتھارٹی سالانہ رپورٹ مرتب کرے گی۔

اتھارٹی کیلئے سکروٹنی کمیٹی کے چیئرمین بھی وزیر صحت ہونگے ،بل کی منظوری سے قبل پی پی کی نگہت یاسمین اورکزئی نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال مقبوضہ کشمیر بن چکا ہے ، بعدازاں جب وقفہ نمازکے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس پینل آف چیئرمین ظاہر شاہ طورو کی زیر صدارت دوبارہ شروع ہوا تواپوزیشن ارکان نگہت اورکزئی،سردار حسین بابک اوراکرم درانی نے کہاکہ ڈاکٹروں پر تشدد کی ایف آئی آر وزیر صحت کیخلاف درج کی جائے ۔وزیرصحت ہشام انعام اللہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں پر تشدد کا ہمیں بھی بہت افسوس ہے۔

اگر اس بل میں ہسپتالوں کی نجکاری ہو تو میں استعفیٰ دے دوں گا واضح رہے کہ بلز کے خلاف صوبہ بھر میں ڈاکٹروں کی طرف سے احتجاج شروع کردیاگیا ہے اس سلسلے میں پشاور میں ڈاکٹروں کی طرف سے اسمبلی ہال کے سامنے دھرنا دیاگیا جبکہ پولیس کی طرف سے احتجاج کرنیوالے ڈاکٹروں پر تشدد و شیلنگ کے علاوہ گرفتاریاں بھی کی گئیں صوبہ بھر کے ڈاکٹروں کی طر ف سے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ ہسپتالوں کی نجکاری نہیں ہونے دی جائیگی۔

صوبے کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں گزشتہ دنوں پیش آنیوالا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال کو میدان جنگ میں تبدیل کیاگیا جس کی وجہ سے ہسپتال آنیوالے بچوں ٗضعیف العمرافراد اور خواتین کو شدید مشکلات کے ساتھ ساتھ علاج سے محروم ہونا پڑاحکومت کو اس قسم کے اقدامات سے قبل سوچنا چاہیے اور مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک کرنا چاہیے جبکہ ڈاکٹروں کو بھی چاہیے کہ وہ بھی ہسپتالوں کو اپنے مقاصد اور مطالبات کے لئے استعمال کرنے سے قبل انہیں مریضوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔

کیونکہ مریضوں اور انکے لواحقین کو درپیش مشکلات اورذہنی کوفت کا جواب کون دیگا اپوزیشن کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے ڈاکٹر برادری کے ساتھ طے کئے جانے والے معاہدوں کی خلاف ورزی افسوسناک ہےڈسٹرکٹ و ریجنل ہیلتھ اتھارٹیز بلزسرکاری ہسپتالوں کو نجی ہسپتالوں کے سفاک ما حول میں بدلنے کی سازش ہو رہی ہےبل عوام دشمن منصوبہ ہے علاج عوام کی پہنچ سے دور ہوچکا ہےاو پی ڈی، ایکسرے اور لیبارٹری ٹیسٹوں کی فیسوں میں اضافہ کرکے غریبوں سے زندہ رہنے کا حق بھی چھینا جارہا ہے۔

ہسپتالوں میں دوائیاں ناپید ہوچکی ہیں اور یہ بل ہسپتالوں کی نجکاری کی جانب ایک اور قدم ہے، ڈاکٹر برادری کو درپیش مسائل کا احاطہ کرنے کی بجائے انہیں سڑکوں پر لانے والے حکمران حکومت کرنے کے اہل نہیں حکومت مختلف بلز اور ایکٹ کی آڑ میں ہسپتالوں کی نجکاری کے عمل سے باز رہےاپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ڈاکٹروں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے ڈاکٹروں پر ہونیوالے وحشیانہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے۔

جبکہ پشاور میں ڈاکٹروں پر وحشیانہ تشدد کرکے آمرانہ دور کی یاد تازہ کردی گئی ہے سول سوسائٹی کے مطابق اسمبلی رولز کے مطابق اسمبلی میں پیش ہونیوالے ہر بل کو اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجنا چاہیے تاکہ اس پر بحث مباحثہ کرکے حتمی شکل دی جاسکے لیکن یہاں نرالہ طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے اور رولز کو فالو نہیں کیا جاتا اور اسی طرح ڈسٹرکٹ اینڈ ریجنل ہیلتھ اتھارٹیز بل کو بھی سٹینڈنگ کمیٹی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔

اسمبلی کی کارروائی کو عوامی امنگوں کے مطابق شفاف بنانے کیلئے سول سوسائٹی کی طرف سے 108 ترامیم تجویز کی گئی ہیں اس مقصد کے لئے خیبر پختونخوا میں لیجسلٹیو گورننس میں بہتری کیلئے صوبائی گورننس سپورٹ گروپ ( پی جی ایس جی )کا قیام عمل میں لایا گیا ہےگروپ کے قیام کا بنیادی مقصد خیبر پختونخوا میں لیجسلیٹو گورننس میں بہتری کیلئے شہریوں سے انکی آراء اور مطالبات حاصل کرکے انکی ایڈووکیسی کیلئے ایڈووکیسی ایجنڈا کی تیاری او ایڈووکیسی کرنا ہے گروپ سٹیزن وائس پراجیکٹ کے زیراہتمام قائم کیاگیا ہے۔

 گروپ لیجسلٹیو گورننس میں اصلاحات کیلئے شہری گروپس کی آراء اور مطالبات کی اراکین صوبائی اسمبلی اور متعلقہ حکام تک رسائی کیلئے مواقع کی فراہمی کیلئے ایڈووکیسی اور لابنگ کریگی یہ گروپ خیبر پختونخوا اسمبلی کے رولز آف بزنس میں جہاں پر ترامیم کی ضرورت ہے ترامیم تجویز کریگی تاکہ گڈ گورننس کو یقینی بنایاجاسکے۔

 اس حوالے سے گروپ نے ترامیم تجویز کی ہے اور اس حوالے سے اراکین صوبائی اسمبلی سے ملاقاتیں کرکے اسمبلی سیشن کا دورہ بھی کیا سپورٹ گروپ کے قیام کا مقصد اسمبلی کارروائی کو مزید شفاف بنانا ہے تاکہ عوام کو بھی اسمبلی کی کارروائی اور اراکین اسمبلی کی کارکردگی کے حوالے سے آگاہی حاصل ہو خیبر پختونخوا اسمبلی کے رولز آف بزنس میں ترا میم بہتر طرز حکمرانی کیلئے وقت کی ضرورت ہے ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید