آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 22؍ صفر المظفّر1441ھ22؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

قاسم سوری ڈی سیٹ: الیکشن کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ گیا

عبد الخاق، کوئٹہ

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے حلقہ این اے 265 کوئٹہ 2 سے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دئے دیا گیا ہے، بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس عبداللہ بلوچ پر مشتمل الیکشن ٹریبونل نے حلقہ این اے 265 کوئٹہ II پر پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا ہے، ٹریبونل نے یہ حکم حلقہ این اے 265 پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے امیدوار نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کی جانب سے دائر انتخابی عذرداری پر فیصلہ سناتے ہوئے دیا۔ قاسم سوری کا ڈی سیٹ ہوناالیکشن کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے ۔

واضح رہے کہ اس سے قبل الیکشن ٹربیونل نے 29 جون کو نادرا کو نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کی درخواست پر ووٹوں کی تصدیق کا حکم دیا تھا، جس پر نادرا نے حلقہ کے ووٹوں سے متعلق رپورٹس ٹربیونل میں پیش کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق 52756 کاونٹر فائلز پر انگوٹھوں کے نشان غیر واضح جبکہ 49042 پر واضح ہیں،15پولنگ اسٹیشنوں کے تھیلے غائب جبکہ 1533کاونٹر فائلز پر درج شناختی کارڈ نمبر؎ غلط ہیں۔ 

123کانٹر فائلز پر شناختی کارڈ نمبر 2، 2 بار درج ہیں، 333کاونٹر فائلز پر ایسے شناختی کارڈ نمبر درج ہیں جو اس حلقے میں رجسٹرڈ ہی نہیں جس کے بعد 14 ستمبر کو فریقین کے وکلا ء کے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن ٹریبونل نے انتخابی عذرداری پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا اور گزشتہ روز قاسم سوری کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن منسوخ اور حلقہ میں دوبارہ الیکشن کرانیکا حکم دیا۔

 یاد رہے کہ ماضی میں کوئٹہ سے قومی اسمبلی کی دو نشستیں ہوا کرتی تھیں تاہم گزشتہ عام انتخابات سے قبل قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی ازسر نو حلقہ بندی کے بعد کوئٹہ سے قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کیا گیا جس کے بعد اب کوئٹہ سے قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد تین ہوگئی ہے، جن میں سے دو نشستیں شہر و اس کے گرد و نواح کی ہیں جبکہ ایک نشت شہر کے مرکزی حصوں پر مشتمل ہے اور یہی حلقہ این اے 265 کوئٹہ 2 ہے جس پر گزشتہ عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے قاسم سوری نے کامیابی حاصل کی تھی۔

 گزشتہ عام انتخابات میں مذکورہ حلقے سے پشتونخوامیپ کے سربراہ اور حلقے سے متعدد بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے محمود خان اچکزئی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی، جمعیت علما اسلام کے سابق سینیٹر حافظ حمداللہ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید خان درانی سمیت دیگر مضبوط امیدوار بھی میدان میں موجود تھے، مذکورہ حلقہ جو کوئٹہ کے شہری علاقوں پر مشتمل ہے۔ 

اس نشست سے کامیابی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے قاسم سوری کو پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے ڈپٹی اسمبلی قومی اسمبلی منتخب کیا گیا تھا اور وہ 25 جولائی 2018 کے انتخابات کے بعد بنے والی قومی اسمبلی میں اپنی کامیابی کالعدم قرار دیئے جانے تک بطور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی خدمات انجام دئے رہے تھے۔

دوسری جانب الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ آنے کے بعد بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے سراوان ہاوس کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ وزیراعظم نے 2013 میں انتخابی نتائج کے خلاف احتجاج کیا تھا ہم ان سے امید رکھتے ہیں کہ حلقہ 265 پر وہ الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو من و عن تسلیم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے انصاف پر مبنی فیصلہ سنایا جس سے انصاف کا بول بالا ہوا ہے اور جو لوگ جمہوری اداروں سے آس لگائے بیٹھے ہیں انہیں بھی امید کی نئی کرن نظر آئی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ حلقہ این اے 265 میں 1 لاکھ 14ہزار ووٹ کاسٹ ہوئے جن میں سے 52 ہزار ووٹ غیر تصدیق شدہ ثابت ہوئے جس پر این اے 265 پر دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دیا گیا ہے جو تمام سیاسی جمہوری قوتوں کی جیت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر یہ معاملہ سپریم کورٹ میں جاتا ہے تو توقع ہے کہ سپریم کورٹ بھی بلوچستان میں ہونے والی سیاسی، معاشی، سماجی ناانصافیوں کے انبار کو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف پر مبنی فیصلہ کریگی۔

انہوں نے کہا کہ 2013 کے الیکشن کے نتائج آنے کے بعد موجودہ وزیراعظم نے نتائج کے خلاف احتجاج کیا تھا، انصاف کے دروازے کھٹکٹائے، دھرنے دئیے اور مارچ کیے تھے ہم ان سے بھی امید رکھتے ہیں کہ وہ الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو من و عن تسلیم کرتے ہوئے جمہوری تقاضوں کے مطابق دوبارہ انتخاب لڑنے کی تیاری کریں گے اور اخلاقی طور پر پی ٹی آئی اور انکے امیدوار فیصلہ تسلیم کرکے فیصلہ عوام پر چھوڑیں گے کہ وہ کس کو اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ 25 جولائی 2018 کے عام انتخابات کے بعد بی این پی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے انتخابی نتائج پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، ہم نے مختلف حلقوں میں ہونے والی دھاندلی کے شواہد اور تنائج کو عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا اور کیسز داخل کئے تھے، این اے 265 پر جو نتائج 25 جولائی کو دئیے گئے تھے اس پر ہمارے امیدوار نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے وکلاء اور پارٹی دوستوں کی جدوجہد کی سے یہ بات ثابت کردی کہ جو دعوے ہم نے 26 جولائی 2018 کو کیے تھے وہ صیح ثابت ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں عوام نے دھوپ میں کھڑے ہوکر ووٹ ڈالے جن میں سے 50 فیصد بوگس نکلے اس حوالے سے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے کہ غیر جمہوری طریقے سے جسے منتخب کیا گیا اور اہم عہدے پر بیٹھاکر مراعات دی گئیں اس دوران سرکار اور عوام کا پیسہ خرچ ہوا اس کا حساب کون دے گا، عوام کے جمہوری حق کو روندا گیا اس کا حساب کون دئے گا، چاہے جو بھی اس عمل میں ملوث تھا ان سب سے اس حوالے سے پوچھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ این اے 265 کا نتیجہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ جب کوئٹہ میں یہ سب کچھ ہوسکتا ہے تو اندورنِ بلوچستان اور ملک کے مختلف علاقوں میں کیا ہوسکتا ہے اس سے اپوزیشن کے موقف کو بھی تقویت ملے گی۔دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنمانوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نےپارٹی قیادت اور کوئٹہ کے شہریوں کا شکریہ ادا کیا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید