آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍ صفر المظفر 1441ھ 21؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کاش 500 کرپٹ جیل بھیج سکتا، چینی صدر نے وزارتی سطح کے 400 افراد کو سزا دلوائی، ہمارا نظام مشکل، پاکستان میں کرپشن، سرمایہ کاری نہیں آتی، عمران خان

بیجنگ (ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے وزارتی سطح کے 400 افرادکو سزائیں دیکر جیل بھجوایا، کاش میں بھی پاکستان میں 500 کرپٹ لوگوں کو جیل بھیج سکتا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے نظام میں کرپشن روکنا ایک مشکل اور پیچیدہ عمل ہے لیکن حکومت اس پر کام کر رہی ہے، پاکستان میں کرپشن ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں آتی جبکہ سرخ فیتہ کاروبار اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، پاکستان سرمایہ کاری کے لئے محفوظ ترین ملک ہے۔

ہم ہاؤسنگ ‘ تیل ‘کوئلے ‘ٹیکسٹائل، آئی ٹی‘ فنانس‘ زراعت ‘سیاحت‘کوئلے کی صنعت اور دیگر سیکٹرز میں چینی سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں ‘ چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ کرنے جا رہے ہیں، راہداری منصوبے میں وزارتوں کا عمل دخل روکنے کیلئے سی پیک اتھارٹی قائم کی گئی ہے۔ 

بیجنگ: وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کا دورہ چین


ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیجنگ میں عالمی تجارت کے فروغ کے لئے قائم چائنا کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پہلے چین نے پاکستان سے سیکھا اب پاکستان چین سے سیکھ رہا ہے۔ چین نے گزشتہ پانچ سال میں کرپشن کے خاتمہ کے لئے وزارتی سطح کے400 افراد کو سزائیں دے کر جیلوں میں ڈالا، ہم بھی بدعنوان افراد کے خلاف ایسی کارروائی کر نا چاہتے ہیں لیکن ہمارا نظام سست ہے، سرخ فیتے کی رکاوٹ بھی کرپشن کی وجہ سے ہوتی ہے، امید ہے کہ آہستہ آہستہ صورتحال بہتر ہو جائے گی۔

پاکستان میں کرپشن پر قابو پانے میں کچھ وقت لگے گا‘ملک میں سرمایہ کاری نہ آنے کی سب سے بڑی وجہ کرپشن ہے اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کی کامیابیوں سے سیکھ رہے ہیں۔

قبل ازیں عمران خان کا عظیم عوامی ہال آمد پر چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے پرتپاک استقبال کیا‘ عمران خان کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب عظیم عوامی ہال میں منعقد ہوئی‘اس موقع پر دونوں وزرائے اعظم نے پر تپاک مصافحہ کیا اور بعد ازاں پاکستانی وفد کا چین کے وزیراعظم کے ساتھ تعارف کرایا گیا۔

اس موقع پر دونوں ممالک کے ترانے بھی بجائے گئے اور چین کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے وزیراعظم کو سلامی پیش کی اور وزیراعظم عمران خان نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ بعدازاں دونوں رہنماؤں کے مابین گریٹ ہال میں تفصیلی دوطرفہ مذاکرات ہوئے۔

یہاں جاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں وزیراعظم نے کہاکہ سی پیک کے منصوبوں کی تیز رفتاری سے تکمیل ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے ‘لی کی چیانگ نے علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے پاکستان کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے سی پیک منصوبوں میں پیش رفت کے لیے اقدامات پر عمران خان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اقتصادی راہداری کا دوسرا مرحلہ پاکستان کی مستحکم معاشی ترقی کا اہم ذریعہ ثابت ہوگا اور پاکستان میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ کے لیے راہ ہموار کرے گا۔

فریقین نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال اور انسانی بحران سمیت علاقائی سلامتی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے کئی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی چینی کمپنیوں کےسربراہان نے منگل کو یہاں علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم سے ملاقاتیں کرنے والوں میں گژوبا گروپ کے چیئرمین لیوزی ژیانگ، لانگ مارچ ٹائر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر لی کنگ وین، اورینٹ ہولڈنگز گروپ لمیٹڈ کے بورڈ کے چیئرمین جیانگ ژومنگ اورمیٹلرجیکل گروپ کارپوریشن کے چیئرمین گاؤ وین کنگ شامل تھے۔

اہم خبریں سے مزید