آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍ صفر المظفر 1441ھ 21؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وزیراعظم عمران خان کے دورئہ چین کے موقع پر ان کے پرتپاک خیرمقدم سمیت بیجنگ میں ان کی مصروفیات، طے پانے والے معاہدوں و مفاہمتی یادداشتوں اور اعلانات و بیانات کی تفصیلات پاک چین تعاون کی نئی جہتوں کی نشاندہی کرتی نظر آ رہی ہیں۔ چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کا یہ تبصرہ ان حلقوں کیلئے یقیناً مایوس کن ہوگا جو توقع کر رہے تھے کہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضوں کے مسئلے کے باعث اسلام آباد اور بیجنگ سی پیک منصوبے کا حجم کم کر دیں گے۔ بیجنگ سے جاری اعلامیہ میں عمران خان کا یہ عزم واضح ہے کہ سی پیک منصوبوں کی تیز رفتاری سے تکمیل عمران حکومت کی اولین ترجیح ہے جبکہ وزیراعظم لی کی چیانگ کا کہنا تھا کہ اقتصادی راہداری کا دوسرا مرحلہ پاکستان کی مستحکم معاشی ترقی کا اہم زینہ اور چینی سرمایہ کاری میں اضافے کا بڑا ذریعہ ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان نے چائنا کونسل میں خطاب کے دوران سی پیک اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے جو باتیں کیں ان سے بھی واضح ہے کہ سی پیک پروجیکٹ کو کسی بھی وجہ سے سست روی کا شکار نہیں ہونے دیا جائیگا۔ اسلام آباد کے ذرائع پاکستان اسٹیل مل چین کے حوالے کرنے سمیت کئی فیصلوں کے جو اشارے دے رہے ہیں وہ علامت ہیں اس بات کی کہ پاک چین تعاون ہر میدان میں بڑھ رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے چائنا کونسل کے اجلاس

میں پاکستان کو تجارت و سرمایہ کاری کے لئے محفوظ ملک قرار دیتے ہوئے جہاں کئی شعبوں میں چینی سرمایہ کاری کے حصول کی خواہش ظاہر کی وہاں اسلام آباد اور بیجنگ کے آزادانہ تجارت کی طرف بڑھنے کا اشارہ بھی دیا۔ گونا گوں مسائل میں گھرے ہوئے ملک پاکستان کے وزیراعظم جب عالمی تجارت کے فروغ کیلئے قائم ادارے چائنا کونسل سے خطاب یا عظیم عوامی ہال میں استقبالیہ تقریب یا چینی قیادت سے گفتگو میں صدر شی جن پنگ کی زیرِقیادت چینی قوم کی اقتصادی میدان میں ترقی، کرپشن پر قابو پانے میں کامیابیوں اور 70کروڑ انسانوں کو 30برس میں غربت سے نکالنے کی بات کرتے ہیں تو ان کا مفہوم یہی ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے سیاسی ڈھانچے میں رہتے ہوئے ان مسائل کا حل نکالنے کیلئے چین سمیت دوست ملکوں کے تجربات سے استفادہ کی خواہش رکھتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے برسراقتدار آنے کے بعد ان کا بیجنگ کا یہ تیسرا دورہ ایسے منظرنامے میں ہوا ہے جس میں پڑوسی ملک بھارت کے حکمرانوں کے جنونی اقدامات کے باعث جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سمیت وسیع علاقے پر ایٹمی جنگ کے مہیب بادل منڈلاتے محسوس ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے بیجنگ پہنچنے سے پہلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی چینی فوجی قیادت سے مشاورت کی وجہ بھی یہی صورتحال ہو سکتی ہے۔ 5؍اگست کو مقبوضہ کشمیر میں کئے گئے بھارتی اقدام سے 80لاکھ سے زیادہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق ہی نہیں زندگیاں بھی خطرے میں نظر آرہی ہیں۔ جبکہ کشمیر کی کنٹرول لائن کے علاوہ لداخ سے ملنے والی جنگ بندی لائن پر بھارتی اشتعال انگیزیاں مزید خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ اس کیفیت میں چینی وزیراعظم لی کی چیانگ کی طرف سے پاکستان کی علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ بھارت سمیت پوری عالمی برادری کے لئے یہ پیغام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چینی صدر کے پہلے سے طے شدہ دورۂ بھارت کا شیڈول سامنے ہی ہے۔ چین کے اس پیغام پر عالمی برادری کو فوری توجہ دینی چاہئے اور کچھ عرصے قبل چین کی تحریک پر بلائے گئے سلامتی کونسل کے اجلاس کو ہنگامی بنیاد پر دوبارہ طلب کیا جانا چاہئے۔ تاکہ دنیا کو ایٹمی جنگ کی تباہ کاری سے بچانے کی موثر کوششیں کی جا سکیں۔