آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 22؍ صفر المظفّر1441ھ22؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اسکاٹ لینڈ کی آزادی کیلئے قانونی اورنئے ریفرنڈم کا راستہ اختیار کریں گے، نکولاسٹرجن

گلاسکو (طاہر انعام شیخ) سکاٹش حکومت کی سربراہ نکولا سٹرجن نے کہا ہے کہ سکاٹ لینڈ کی آزادی کا کوئی شارٹ کٹ روٹ نہیں، اس کے لئے ہم صرف قانونی راستہ اختیار کریں گے اور وہ صرف آزادی کے لئے نیا ریفرنڈم ہو گا۔ انہوں نے بعض ممبران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ اگر سکاٹش نیشنل پارٹی آئندہ جنرل الیکشن میں اسکا ٹ لینڈ سے اکثریت کے ساتھ نشستیں حاصل کرلیتی ہے تو آزادی کا اعلان کرنے کے لئے کافی ہے۔ ایبرڈین میں اپنی پارٹی کی تین روزہ کانفرنس کے آغاز سے قبل بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے نکولا سٹرجن نے کہا ہے کہ وہ اگلے سال آزادی کا دوسرا ریفرنڈم چاہتی ہیں لیکن برطانوی حکومت نے اس تجویز کومسترد کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ نکولا سٹرجن پر اپنی پارٹی کے ارکان ، ممبران پارلیمنٹ اور دیگر آزادی پسندوں کی طرف سے شدید دبائو ہے کہ اگر برطانوی حکومت آزادی کے دوسرے ریفرنڈم کی اجازت نہیں دیتی تو وہ پلان بی اختیار کریں اور اسی طر ح کا غیرسرکاری ریفرنڈم کرائیں جس طرح چین کے صوبے کیٹلونیا میں

کرایا گیا تھا۔ اسکاٹش نیشنل پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ اینگس لیکنل اور دیگر افراد کا کہنا ہے کہ ایک نئے ریفرنڈم کے بغیر ہی اگر مہم برطانوی پارلیمنٹ کے سکاٹ لینڈ سے اکثریت کے سات سیٹیں جیت جاتے ہیں تو یہ برطانوی حکومت آزادی کے مذاکرات شروع کرنے کے لئے کافی ہے۔ یہی ہماری ماضی کی پارٹی پالیسی تھی لیکن نکولا سٹرجن نے کہا کہ میں نے ساری زندگی آزادی کے لئے جدوجہد کی ہے۔ اس سلسلے میں اگر کوئی بھی شارٹ کٹ ہوتا تو میں اس کو اختیار کر چکی ہوتیں لیکن میں آزاد ی کو برطانیہ میں داخلی طورپر ہی نہیں پوری دنیا خصوصاً یورپ سے بھی تسلیم کرانے کی ضرورت ہے اور وہ صرف ریفرنڈم کا جائز اور قانونی راستہ ہے۔ اس بات کا واضح امکان ہے کہ موجودہ سال کے آخر تک نئے الیکشن منعقد ہوں گے اور یہ سکاٹش عوام کو موقع دیں گے کہ وہ ملک کے لئے نئے ریفرنڈم اورا ٓزادی کے لئے سپورٹ دیں۔ نکولا سٹرجن نے کہا کہ ہم ماضی میں بھی ویسٹ منسٹر کے الیکشن میں اکثریت کے ساتھ نشستیں حاصل کر چکے ہیں لیکن اس میں مجموعی طور پر ووٹوں کی اکثریت نہ تھی۔ اس صورت میں ہماری آزادی کو یورپ تسلیم نہیں کرے گا ہمیں ایسا طریقہ کار اختیار کرنا ہو گا جس سے ساری دنیا پر واضح ہو جائے کہ سکاٹش عوام کی اکثریت آزادی چاہتی ہے۔

یورپ سے سے مزید