آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کیا امریکا چین تجارتی مذاکرات سے سرمایہ کاروں کو اطمینان حاصل ہوگا؟

فنانشل ٹائمز رپورٹرز

کیا امریکا اور چین کے تجارتی مذاکرات سے سرمایہ کاروں کو اطمینا ن حاصل ہوگا؟

مایوس کن اقتصادی مطالعات کی گردش اور جغرافیائی سیاسی خدشات کے مابین حالیہ دنوں میں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔لہٰذا سب کی نگاہیں اب واشنگٹن پر ہی ہوں گی، جہاں تجارتی مذاکرات کے ایک اور دور کیلئے امریکی اور چینی مذاکرات کار طلب کیے گئے ہیں،جس سے تاجروں کے اعصابی تناؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خیرسگالی کی علامت کے طور پر چین سے 250 ارب ڈالر مالیت کی درآمدات پر 5 فیصد پوائنٹ ٹیرف اضافے کو ملتوی کیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ التوا چینی نائب وزیراعظم لیو ہی کی درخواست پر اور یکم اکتوبر کو عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 70 ویں سالگرہ کے حوالے سے احترام میں کیا گیا۔

چینی نائب وزیراعظم جو چین کے اعلیٰ تجارتی مذاکرات کار بھی ہیں، واشنگٹن جانے والے وفد کی قیادت کریں گے۔تاہم ابھی تک دونوں جانب کی حمایت کرنے کے بارے میں کافی کم اشارے ہیں۔

چینی نائب وزیراعظم جو چین کے اعلیٰ تجارتی مذاکرات کار بھی ہیں ،واشنگٹن جانے والے وفد کی قیادت کریں گے۔تاہم ابھی تک دونوں جانب کی حمایت کرنے کے بارے میں کافی کم اشارے ہیں۔

دریں اثناء مینوفیکچرنگ ڈیٹا اور نجی تنخواہوں دونوں کے مایو س کن اعدادوشمار کے بعد گزشتہ ہفتے کے وسط میں ایس اینڈ پی 500 کے تقریباََ 2 فیصد گرجانے کے ساتھ عالمی نمو کے نقطہ نظر کے بارے میں سرمایہ کاروں کے خدشات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ملازمتوں کے حوالے سے ملی جلی رپورٹ نے خدشات کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔اگر ایک ایسی چیز ہے جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے ارادے پر مجبور کیا،یہ وال اسٹریٹ پر تمسکات یا ضمانتوں کی قیمت میں کمی ہے۔فنانشل ٹائمز کے ہانگ کانگ کے رپورٹر ہڈسن لاکیٹ کے مطابق اگر مذاکرات ناکام ہونا شروع ہوتے ہیں،تو ایکوئٹی کاتیزی سے گرنے کا امریکی صدر کو دوبارہ سوچنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔

مزید سازگار مالیاتی پالیسی کیلئے مسٹر بلارڈ کا کیس طویل عرصے سے حقائق پر مبنی ہے جیسا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ تجارت پر بڑھتی ہوئی غیریقینی اور عالمی سطح پر کمزور طلب کے دوران امریکی معیشت سست ہوگی۔

کیا عالمی بانڈ ریلی دوبارہ پٹری پر آگئی ہے؟

ریکارڈ توڑ موسم گرما کی ریلی کے بعد،دو ہفتوں کی تمسکات کی قیمت میں کمی سے عالمی بانڈ کی قدر میں 1 ٹریلین ڈالر کی کمی ہونے کے ساتھ سرکاری بانڈ کی مارکیٹوں نے مجروح ستمبر کا بہادری سے مقابلہ کیا۔تاہم اس کے بعد سے،سرمایہ کاروں نے ایک بار پھر سب سے محفوظ سرکاری قرضوں کے انبار لگانا شروع کردیے ہیں،جس سےیہ سوالات پیدا ہورہے ہیں کہ عالمی سطح پر کم پیداوار کیسے جاری رہ سکتی ہے۔

امریکی دس سالہ بانڈ کا منافع جو زیادہ سے زیادہ 9.1 فیصد پر پہنچ گیا تھا،واپس 52.1 فیصد پر آگیا ہے اوروہ اپنی کم ترین سطح 46.1 پر بند ہوا۔جاپان اور یوروزون میں پیداوار کی اسی طرح بحالی نظر آئی ہے،جو گزشتہ دو ہفتوں میں کمزور اقتصادی اعدادوشمار کے باعث سرمایہ کاروں کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کے بعد صفر سے بھی نیچے گرگیا تھا۔

دنیا کی دو بڑی معیشتوں کی جانب سے کمزور اعدادوشمار کے جارحانہ مالیاتی محرک پر اندازوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ مارکیٹ موسم گرما کی کاروباری حکمت عملی کی جانب واپس آگئی ہے۔یورپی مرکزی بینک نے سود کی شرحوں میں کمی کی ہے اور اپنے بانڈ خریداری کے پروگرام کو بحال کیا ہے، جبکہ فیڈرل ریزرو سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ اپنی شرح میں کمی کے ساتھ ردعمل دے ۔

ایبسولوٹ اسٹریٹجی ریسرچ کے فکسڈ انکم شعبے کے سربراہ اسٹئفانو ڈی ڈومیزیو نے کہا کہ اگر آپ کوآئندہ سال بھی امریکی کم مندی کی توقع ہے تو آپ 10 سال کی پیداوار 1 فیصد ہونے کی توقع کریں گے۔فنانشل ٹائمز رپورٹر ٹومی اسٹبنگٹن کے مطابق اس کا واضح طورر پر باقی دنیا پر بالواسطہ اثرات مرتب ہوں گے۔

فیڈرل ریزرو میں کتنی وسیع تقسیم ہے؟

بدھ کے روز،فیڈرل ریزرو کی شرح مرتب کرنے والی کمیٹی کے قریب ترین اجلاس سے منٹس جاری کیے جائیں گے،جو عہدیدار مالیاتی پالیسی کے مستقبل کی راہ کے حوالے سےابھی بھی کتنے منقسم ہیں، اس پر روشنی ڈالیں گے۔

ستمبر میں کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے تین ارکان نے مالیاتی بحران کے بعد سے دوسری سہ ماہی کے شرح سود پوائنٹ میں کٹوتی کے ساتھ آگے بڑھنے کے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا۔سینٹ لوئس فیڈ کے صدر بلارڈ نے اپنا زور جارحانہ نصف پوائنٹ کٹوتی کے پر لگایا،جبکہ کنساس سٹی فیڈ کے ایسٹر جارج اور بوسٹن فیڈ کے ایرک روزون گرین نے شرح کو برقرار رکھنے کیلئے ووٹ دیا،جیسا کہ انہوں نے جولائی میں کیا تھا۔

مسٹر بلارڈ کا کیس طویل عرصے سے حقائق پر مبنی مزید سازگار مالیاتی پالیسی کیلئے ہے جیسا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ تجارت پر بڑھتی ہوئی غیریقینی اور عالمی سطح پر کمزور طلب کے دوران امریکی معیشت سست ہوگی۔انہوں نے ستمبر کے اجلاس کے بعد کہا کہ شرحوں میں زیادہ تیز رفتاری سے کمی کرنا محض ’’محتاط رسک مینجمنٹ‘‘ تھی۔

محترمہ جارج اور مسٹر روزون گرین مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں سے کم بیروزگاری کی شرح اور صارفین کے مستحکم اخراجات کے ساتھ امریکی معیشت مستحکم بنیادوں پر ہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ بہت زیادہ تیزی سے کٹوتی اپنے خطرات خود ساتھ لائے گی۔جب اگلی مندی آئے گی تو نہ صرف فیڈرل ریزرو کی فیصلہ کن انداز میں عمل کرنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچاسکتی ہے، بلکہ عاقبت نا اندیش قرضوں کی حوصلہ افزائی کرسکتی ہے۔

فنانشل ٹائمز کے رپورٹر کولبی اسمتھ کے مطابق مارکیٹوں کو فیڈرل ریزرو سے اس ماہ کے آخر تک ایک بار پھر چوتھائی پوائنٹ تک شرح میں کمی کرنے کی توقع ہے۔جو میز کے گرد ایک اور تقسیم کا اشارہ ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید