آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’حضرت خواجہ محمد زماں اول لواری‘ خانقاہ لواری شریف کے بانی اور بلند پایہ بزرگ

خواجہ مخدوم محمد زماں اول لواری والے کامل ولی ، خانقاہ لواری شریف کے بانی اور سلسلۂ نقشبندیہ کے بلند مرتبہ صوفی بزرگ تھے۔ان کا اسمِ گرامی محمد زماں ہے اورخواجہ کلاں کے لقب سے مشہور ہیں۔ ان کے والد کا اسم گرامی شیخ عبد اللطیف نقشبندی ہے جب کہ و الدہ محترمہ خواجہ عبد السلام ساکن جون کی صاحبزادی تھیں۔ 

خواجہ زماں کا سلسلہ نسب خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے جاکر ملتا ہے۔ان کا خاندان عباسی خلیفہ مہدی یا ہارون الرشید کے زمانے میں سندھ میں آکر بس گیا۔ حضرت مخدوم کے والد شیخ عبد اللطیف خود بھی صاحبِ زہد و ورع، عالم و فاضل اور بلندپایہ بزرگ تھے اور مخدوم آدم نقشبندی کے صاحبزادے خواجہ فیض اللہ سے بیعت اور مخدوم ابو القاسم نقشبندی ٹھٹھوی سے بھی غیر معمولی عقیدت و محبت رکھتے تھے۔

مخدوم محمد زماں اول کی ولادت باسعادت 21 رمضان البارک 1125ھ بمطابق 11 اکتوبر 1713ء کو سندھ کے ضلع بدین کے ایک قصبے لواری میں ہوئی۔انہوں نے علومِ ظاہری کی تعلیم ٹھٹھہ میں مولانا محمد صادق سے حاصل کی جو ایک معتبرعالم تھے، ابھی توضیح ختم نہ کر پائے تھے کہ اتفاقاً ان کی ملاقات ٹھٹھہ کے مشہور بزرگ حضرت ابو المساکین محمد ٹھٹھوی سے ہوگئی، آپ تعلیم ترک کر کے ان کے حلقہ بگوش ہوئے اور بیعت کے بعد مجاہدات اور ریاضتوں میں مشغول ہو گئے۔ 

صرف چھ ماہ کی تربیت کے بعد شیخ طریقت حضرت ابوالمساکین نےانہیں خلافت عطا کی اور اپنی دستار مبارک ان کے سر پر رکھی اور اپنے مریدوں کو ان سے بیعت کرایا۔ 1150ھ میں وہ اپنے آبائی وطن لواری میں آ کر مسند ارشاد پر فائز ہوئے۔ پرانا لواری زمین کی شوریدگی کے باعث جب تباہ ہو گیا تو انہوں نے جدید شہر کی بنیاد رکھی اور اس کا نام بھی لواری رکھا۔سندھ کے نامور صوفی شاعر حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی کو آپ سے بڑی عقیدت و مودت تھی، شاہ عبد اللطیف بھٹائی اکثر آپ سے ملاقات کے لیے لواری تشریف لاتے تھے۔

حضرت مخدوم مریدین کی دینی و روحانی تربیت کا خاص خیال رکھتے تھے۔ موسم گرما میں صبح کے حلقہ کے بعد دالان میں تشریف فرما ہوتے، لوگ کھچا کھچ بھر جاتے، پھروہ اوران کے مرید مراقبے میں مشغول ہو جاتے۔ اس دوران محویت کا یہ عالم ہوتا کہ ان حضرات کو دھوپ کی سخت تمازت بھی استغراق کی کیفیت سے واپس نہیں لا سکتی تھی۔ 

جب لوگ چاشت کے وقت مراقبہ ختم کرتے تو زمین پسینہ سے تر ہوتی تھی۔ خواجہ مخدوم زماں کی خانقاہ میں شب بیداری کا خاص اہتمام ہوتا تھا، اس کے لیے ایک شخص مقرر تھا جو لوگوں کو عبادت کے لیے بیدار کیا کرتا تھا۔ 

حضرت مخدوم اتباعِ شریعت کا خاص خیال رکھتے تھے اور مریدوں کی تربیت میں بھی ہمیشہ اس کی کوشش فرماتے کہ احکامِ شریعہ اور سنتِ نبویؐ پر کامل عمل کیا جائے۔ ان کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ حضرت مخدوم نے کبھی گھر میں کچھ بچا کر نہیں رکھا، جو کچھ ہوتا وہ غربا و مساکین میں تقسیم کر دیتے تھے۔ جس روز انہوں نے وصال فرمایا، اس روز بھی ان کے گھر میں کچھ نہ تھا، ان کے پاس جو کچھ تھا وہ اللہ کی راہ میں دے دیا۔ ان کے خلفاء و مریدین کی تعداد کثیر ہے۔ 

ان میں شیخ عبد الرحیم گرہوڑی، شیخ محمد صالح، شیخ شعیب، حافظ عبد المالک، حافظ صدر الدین اور حافظ کبیر مشہور ہیں۔ حضرت مخدوم محمد زماں 63 سال کی عمر میں بروز جمعہ 4 ذو القعد 1188ھ بمطابق 6 جنوری 1775ء کو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ان کا مزار لواری میں مرجعِ خاص و عام ہے۔

وادی مہران سے مزید