آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سلیکٹرز کے مرہون منت سلیکٹ ہونے والے حکمران کیا جانیں کہ جمہوریت کن پُرآشوب، کٹھن مراحل اور جانوں کی قربانیاں دے کر حاصل کی گئی ہے۔ جن کی 22سالہ جدوجہد صرف جلسے جلوس ہوں وہ کیا جانیں کہ شہدائے کارساز کا غم کیا ہے! 12سال قبل کراچی انسانوں کے سمندر کا سماں پیش کر رہا تھا، جوش و ولولہ، عشق و جنون سے سرشار لاکھوں لوگ جذبۂ امید میں رقصاں تھے۔ پسِ منظر یقیناً مختلف تھا لیکن جذبہ ایک سا تھا اور سب یک زبان تھے ’’بینظیر آئے گی، انقلاب لائے گی‘‘۔

بھٹوز اور عوام کے درمیان امید و عشق کا یہ رشتہ دیرینہ ہے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو نے ان بے زبانوں کی آواز بن کر ان محروم طبقات کو عزت دی یہیں سے اس رشتہ کا آغاز ہوا اور اسی جرم کی پاداش میں وہ سرِدار جا پہنچے مگر بھٹو شہید نے اپنی سب سے اہم میراث اپنی بینظیر بیٹی کے سپرد کرتے ہوئے کہا ’’میری پیاری بیٹی صرف عوام پر بھروسہ کرو، ان کی بھلائی اور مساوات کیلئے کام کرو۔ خُدا کی جنت ماں کے قدموں تلے ہے اور سیاست کی جنت عوام کے قدموں تلے ہے‘‘۔بی بی نے اس رشتے کو مزید مضبوط کیا اور اپنی ساری زندگی اس عہد کی تکمیل کیلئے وقف کر دی۔ قید و بند کی صعوبتیں، آمرانہ حکومتوں کے ظالمانہ ہتھکنڈے، باپ اور بھائیوں کی شہادتیں، شوہر کی جوانی کے 12سال قید، ماں کی بیماری اور بچوں کی محرومیاں بھی بی بی کو اپنے مقصد سے ہٹا نہ سکیں۔ جنرل مشرف آٹھ سال سے اقتدار پر قابض تھا، کوئی سیاسی قوت اس کے سامنے ٹھہر نہ سکی تھی۔ صرف آصف علی زرداری جرأت و بہادری سے قید کی تکالیف برداشت کرتے رہے اور محترمہ نے دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ گفت و شنید کے ذریعے سب کو اس بات پر قائل کیا کہ پاکستان کا مقدر جمہوریت سے وابستہ ہے اور جمہورت کے بغیر امن ناممکن ہے لہٰذا محترمہ نے اپنی حکمت اور تدبر سے ملک میں ازسرنو جمہوریت کی بنیاد رکھی اور پھر آج کے بہت سے نام نہاد سیاستدانوں کو سیاست کے مواقع حاصل ہوئے۔ محترمہ نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا تو غیر جمہوری قوتیں اور دہشت گرد انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے لگے مگر بی بی کا جواب کچھ یوں تھا؎

مشکل ہیں اگر حالات وہاں، دل بیچ آئیں جاں دے آئیں

دل والوں کوچۂ جاناں میں کیا ایسے بھی حالات نہیں

بی بی نے تمام خدشات کے باوجود عوام کے درمیان آنے کا فیصلہ کیا، اپنی آخری کتاب’’ری کنسلی ایشن‘‘میں وہ لکھتی ہیں ’’میں آمروں اور انتہا پسندوں کے خلاف جمہوریت کی بحالی کیلئے جدو جہد میں اپنا مثبت کردار ادا کروں گی، یہی میری تقدیر ہے، میں اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹوں گی‘‘۔ بی بی کے واپسی کے اعلان نے آمروں اور دہشت پسند عناصر پر لرزہ طاری کر دیا۔ وہ اور اُن کے حواری بی بی کے خلاف شدید پروپیگنڈا کرنے لگے اور ڈیل کے الزامات لگانے لگے حالانکہ جان بخشی کروا کر ملک سے بھاگنا ڈیل ہوتا ہے ناکہ جان ہتھیلی پر رکھ کر وطن واپس آنا۔ جمہور نے بھی اس پروپیگنڈا کو یکسر مسترد کر دیا کہ محروم عوام بھٹو ہی کو اپنا نجات دہندہ اور امید گردانتے ہیں۔ پاکستان کے عوام اس منظر کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے جب بی بی نے اپنی سرزمین پر قدم رکھا۔ بی بی اپنے جذبات کو یوں بیان کرتی ہیں ’’آخرکار میں اپنے گھر میں واپس آگئی ہوں، میں جانتی ہوں مجھے کیا کرنا ہے، بہت پہلے میں یہ انتخاب کر چکی ہوں کہ عوام میرے لئے معتبر ہیں اور سب سے معتبر رہیں گے‘‘۔

بی بی لاکھوں لوگوں کے ساتھ مزارِ قائد کی طرف رواں دواں تھیں، ہر چہرہ خُوشی سے دمک رہا تھا ’’چاروں صوبوں کی زنجیر بینطیر، بینظیر‘‘ ایسی زنجیر جس نے ہر قومیت، مذہب، مسلک اور علاقہ کے لوگوں کو ’’میں بھٹو ہوں‘‘ کی لڑی میں پرو رکھا تھا۔ لاکھوں عوام اس جلوس میں شریک تھے اور کروڑوں لوگ ان مناظر کو ٹیلی وژن کے ذریعے دیکھ رہے تھے کہ یکایک یہ جشن خون کی ہولی میں تبدیل ہو گیا اور پاکستان کی تاریخ کے بدترین دھماکوں سے صفِ ماتم بچھ گئی۔ اس بدترین صورتحال میں جیالے اپنی قائد کے ٹرک کی طرف دوڑنے لگے کیونکہ انہیں اپنی جانون سے زیادہ اپنی قائد کی جان عزیز تھی۔ روزِ ازل سے فساد پر عمل پیرا لوگ ہمیشہ سے امن کے پیامبروں کے دشمن رہے ہیں۔ یہ جہل والے ہمیشہ اُجالے سے گھبراتے ہیں۔ یہ مردہ ضمیر ہمیشہ زندگی کے درپے رہتے ہیں کیونکہ نااہل کبھی صاحبِ کردار سے مسابقت نہیں کر سکتا۔ یہ گروہ ظلم کی راہ پر گامزن ہیں، ان بزدل ظالموں نے امید کو ناامیدی میں بدلنے کی کوشش کی۔ 177افراد ان دھماکوں میں شہید ہو گئے اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ کئی شہداء کی شناخت نہ ہو سکی اور جب انہیں لاوارث قرار دیا جانے لگا تو ان کی وارث بی بی آگے بڑھیں اور کہا یہ میرے بھائی اور بھٹو کے بیٹے ہیں لہٰذا ان سب کو گڑھی خُدا بخش میں دفن کیا گیا۔ ان کی قبروں پر نصب کتبوں پر کنندہ ہے ’’میں بھٹو ہوں‘‘ بھٹو کسی ذات یا قبیلے کا نام نہیں رہا، یہ ایک نظریہ اور فلسفے کا روپ دھار چکا ہے۔ امیدوں کا وہ قافلہ جو مزارِ قائد کی طرف رواں دواں تھا، وہ آج بھی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں محروم عوام کے انسانی، جمہوری اور معاشی حقوق کے حصول کیلئے پُرعزم ہے۔

قتل گاہوں سے چُن کر ہمارے عَلم

اور نکلیں گے عشاق کے قافلے