آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک وڈیو وائرل ہوئی جس میں بے بس اسٹوڈنٹس سڑک پر کھڑے احتجاج کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دیگر لوگوں کی طرح یہ کوئی سیاسی احتجاج نہیں تھا بلکہ مجبوری اور بے بسی کا عالم تھا اور تمام بچے سخت پریشان تھے۔ اسلام آباد میں 25سے زائد یونیورسٹیاں ہیں جن میں لاکھوں طالبعلم زیرِ تعلیم ہیں۔ ان میں سے بیشتر اسلام آباد کے مقامی نہیں اور جیسے پوری دنیا میں ہوتا ہے، اعلیٰ تعلیم کیلئے طالب علم اپنے گھروں سے دور جاتے ہیں تاکہ اپنے لئے ایک اچھا مستقبل تلاش کر سکیں، ان طالبعلموں کے بھی کچھ ایسے ہی ارمان تھے۔

چونکہ اسلام آباد کی زیادہ تر یونیورسٹیوں میں رہائش یا ہوسٹلز کی سہولت نہیں ہے لہٰذا اسٹوڈنٹس اپنی مدد آپ کے تحت پرائیویٹ ہوسٹلز کا رخ کرتے ہیں۔ طالب علموں کو جب مالک مکان فلیٹ یا گھر کرائے پر نہیں دیتے تو ان کو ہاسٹلز میں ہی رہنا پڑتا ہے۔ اور ان لاکھوں اسٹوڈنٹس کے لئے ویسے ہی اسلام آباد میں ہوسٹلز کی کمی ہے۔ محض چند یونیورسٹیز کے اپنے ہاسٹلز ہیں، جن پر ویسے ہی دیگر طریقوں سے قبضے کیے گئے ہیں۔ چند سال پہلے اسلام آباد کی انتظامیہ نے تقریباً تمام سیکٹرز میں ہوسٹلز کو ختم کر دیا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق ان علاقوں میں گھر صرف رہنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ معلوم نہیں ان کی نظر میں ہوسٹلز میں رہنے کے علاوہ اور کیا کِیا جاتا ہے۔ اب صرف چند ہی علاقے باقی تھے جہاں ہوسٹلز چل رہے تھے لیکن ایک دن اسلام آباد کی انتظامیہ نے ان سٹوڈنٹس کو بستروں سے نکالا، ان کا سامان سڑک پر پھینکا اور ان کے ہوسٹلز بند کر دیے۔ کسی نے یہ نہیں سوچا کہ یہ بچے رات کو کہاں رہیں گے۔ ایک وزیرستان سے آئے ہوئے طالب علم جس نے پڑھائی جاری رکھنے کیساتھ ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ بھی کیا ہوگا اور جو محنت کرکے اسلام آباد پہنچا ہے، نے جب پوچھا کہ میں اب کیا کروں تو ایک سینئر افسر نے جواب دیا کہ ’’جا کر اپنے گاؤں میں پڑھو، ادھر کیوں آئے ہو؟‘‘ ایک اور بچے کا کہنا تھا کہ اب احتجاج ہی واحد راستہ رہ گیا ہے اور یہ راستہ ہمیں اس حکومت نے دکھایا ہے۔

یہ بچے جو پاکستان کا مستقبل ہیں، ان کے ساتھ انتہائی بُرا سلوک کیا جا رہا ہے۔ یہ تو محض ایک واقعہ ہے، صرف پچھلے چند ماہ میں ہم نے اپنے طالبعلموں کے ساتھ کیا کِیا ہے، ملاحظہ فرمائیے؛ حکومت نے یونیورسٹیز کا بجٹ کم کیا جس کے بعد یونیورسٹیوں نے فیسیں تین گنا سے بھی زیادہ تک بڑھا دی ہیں۔ پتا نہیں ماں باپ نے کیسے پیٹ کاٹ کے فیسیں ادا کی ہوں گی اور بچوں نے کیسے گزارا کیا ہوگا۔ میں کئی ایسے طالب علموں کو جانتا ہوں جن کا آخری سال تھا مگر فیس نہ دینے کی وجہ سے ان کی ساری تعلیم ضائع ہوگئی۔ پچھلے ماہ ایک زخمی طالب علم اس لیے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا کیونکہ اس کی یونیورسٹی نے ایمبولینس کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ وہ تڑپتا رہا اور ایمبولینس کو سیکورٹی والوں نے باہر ہی روکے رکھا۔ ایک بڑی پرائیوٹ یونیورسٹی میں زیرِ تعمیر عمارت مکمل ہونے سے پہلے کھول دی گئی اور ایک لڑکی وہاں سے گر کر جان سے چلی گئی۔ یونیورسٹی کی طرف سے یہ جواز پیش کیا گیا کہ لڑکی سیلفی لیتے ہوئے گری مگر وہاں موجود تمام طلبہ کا کہنا تھا کہ ایسا کچھ نہیں تھا۔ پھر بولان میڈیکل یونیورسٹی کے گرلز ہوسٹل میں رات کے وقت خواتین ڈاکٹرز کو جس طرح بیدخل کیا گیا اور طالبات کو سڑک پر بٹھایا گیا یہ سب کچھ انتہائی ذلت آمیز تھا، سرکاری افسر کی طرف سے یہ ایک انتہائی غلط اقدام تھا جس پر ابھی تک کوئی کارروائی، کوئی ایکشن سامنے نہیں آیا۔ والدین ویسے ہی لڑکیوں کو کم پڑھاتے ہیں اور ایسا سلوک دیکھ کے ان کے دماغ میں کیا کچھ نہ آیا ہوگا۔ میرا ایک عزیز اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں پڑھتا تھا، گزشتہ رات جب اچانک تمام ہاسٹلز کے بچوں کو نکال دیا گیا تو وہ اور اس کے دوست مارے مارے میرے گھر پہنچے کہ رات گزارنے کیلئے ان کے پاس کوئی جگہ نہ تھی۔ اس کے علاوہ بے شمار ایسے واقعات ہیں جو لکھنے کی نہ تو جگہ ہے اور نہ ہی ہمت۔

اسلام آباد کے طلبہ سوچتے ہوں گے کہ بنی گالہ کی ساری چیزیں ایکدم ریگولرائز ہو جاتی ہیں، اسلام آباد کی بڑی بڑی غیر قانونی بلڈنگز قانونی قرار پاتی ہیں لیکن غریب طالبعلموں کے ہوسٹلز کو انتظامیہ غیر قانونی قرار دیدیتی ہے۔ انتظامیہ کو سوچنا چاہئے کہ کیا انہوں نے بڑھتی ہوئی ڈکیتیوں، چوریوں اور کروڑوں کے گھپلوں کو پکڑ لیا اور اب بس یہی ’’غیر قانونی کام‘‘ بچا تھا جس پر ہاتھ ڈالنا باقی رہ گیا تھا؟

ان تمام واقعات کے بعد بہت سے اسٹوڈنٹس نے مجھے ای میلز اور میسجز کیے ہیں۔ ان سب کا کہنا ہے کہ وہ اب سوچ رہے ہیں کہ پاکستان سے کسی نہ کسی طرح نکل جائیں۔ پڑھنے یا کام کے لیے باہر چلے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس ملک میں ان کے ساتھ ایسا سلوک ہو رہا ہے وہ وہاں نہیں رہنا چاہتے۔ چند سال بعد ہم سب یہی شور مچا رہے ہوں گے کہ پاکستان میں اتنا برین ڈرین کیوں ہو رہا ہے؟

یہ حکومت یوتھ ووٹ پر آئی تھی، اس کے زیادہ تر سپورٹرز نوجوان ہیں، اس کو سوچنا چاہئے کہ اس کے ہی دور میں یوتھ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور ہم اپنے ملک کے مستقبل کے ساتھ کیسا سلوک کر رہے ہیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ادارتی صفحہ سے مزید