آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ24؍ ربیع الاوّل 1441ھ 22؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بھوک اور افلاس کے شکار نوجوان کرکٹر کا ریکارڈ

بھوک اور افلاس کا شکار اور ٹینٹ میں زندگی گزارنے والے بھارت کے 17 سالہ یاساشوی جیسوال نے گزشتہ روز لسٹ اے کرکٹ (فرسٹ کلاس کرکٹ) میں وجے ہزارے ٹرافی کے ایک میچ میں جھاڑکھنڈ کے خلاف پچاس اوورز کے میچ میں 203 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر کم عمرترین ڈبل سنچری بنانے کا ریکارڈ توڑ ڈالا اور ثابت کردیا کہ غربت اور پریشانی انسان کے عزم و استقامت کے آگے کچھ نہیں۔

جیسوال نے اس اہم ون ڈے ٹورنامنٹ میں جوکہ انکا ڈیبیو ٹورنامنٹ تھا، انہوں نے پانچ اننگز میں تین سنچریاں اسکور کیں۔

ایک بھارتی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے جیسوال نے بتایا کہ انہوں نے فیلڈنگ کے دوران کبھی گوگلز نہیں پہنے، کبھی سلپ میں فیلڈنگ کے دوران وکٹ کیپر یا پھر کسی دوسرے کھلاڑی کے گوگلز اپنے ہیٹ پر تو رکھ لیتا تھا مگر کبھی پہنا نہیں۔

میرے بچپن سے کرکٹ کے استاد جوالا سنگھ نے مجھے کھبی گوگلز پہننے کی اجازت نہیں دی مگر آج جب میں نے ڈبل سنچری اسکور کی تو انہوں نے بالآخر مجھے اسکی اجازت دیدی۔

جیسوال نے اپنی ڈبل سنچری (203) رنز 154گیندوں پر بھارتی ریاست کرناٹک کے علاقے الور میں بنائی۔ جیسوال کے اس اہم کارنامے کو سمجھنے کے لیے کرکٹ شائقین کو چھ برس پیچھے جانا ہوگا جب شمالی بھارتی ریاست اترپردیشں کے قصبے بھادھوئی سے ایک گیارہ سالہ بچہ اعلیٰ درجے کی کرکٹ کھیلنے کا خواب لیے ممبئی پہنچتا ہے۔

کم عمر جیسوال کی زندگی نہایت کسمپرسی کی حالت میں گزری۔ فاقہ کشی کا مارا یہ نوجوان کرکٹر  تین برس تک ایک ٹینٹ میں گزر بسر کرتا رہا، کیونکہ اسکے پاس ممبئی میں رہنے کو کوئی گھر نہیں تھا۔

جیسوال نے اس حوالے سے بتایا کہ شروع میں وہ ایک ڈیری فارم میں سوتا تھا، تاہم جب میں ان کے روزمرہ کے کام کاج میں زیادہ ہاتھ نہ بٹا سکا تو انہوں نے مجھے وہاں سے نکال دیا۔ جس پر میرے والدین نے میرے ایک انکل سے میری مدد کی درخواست کی، وہاں بھی چند دن ہی رہ سکا، لیکن میں نے ہمت نہ ہاری اور اپنی کوششیں جاری رکھیں۔

انکل نے ایک اچھا کام یہ کیا  کہ مجھے انہوں نے مسلم یونائیٹڈ کلب کے پاس بھجوادیا، جہاں پر رہنے کو ٹینٹ موجود تھے، اگلے تین برس وہاں گزرے۔ جہاں شدید گرمیوں میں گزارہ کرنا انتہائی مشکل ہوجاتا تھا۔ لیکن ٹینٹ میں رہنا ہی مسئلہ نہ تھا، جیسوال کے پاس کھانے کو رقم بھی نہیں تھی۔لہٰذا اس نے  پانی پوری بیچنا شروع کردی۔

جبکہ کرکٹ میچز کے دوران اسکورنگ کی اور بال بوائے کے فرائض بھی انجام دیئے تاکہ کچھ پیسے کما سکے۔ دسمبر 2013 میں جیسوال کی ممبئی کے آزاد میدان میں سابق جونیئر کرکٹر اور کوچ جوالا سنگھ سے ملاقات ہوئی، جوالا سنگھ ، یاساشوی جیسوال کی اسٹروک پلیئنگ سے خاصے متاثر تھے، وہ خود بھی یوپی سے چوبیس برس قبل کرکٹ کھیلنے کے خواب لیکر آئے تھے، لیکن  انجری کی وجہ سے انکے خواب بکھر گئے۔

جوالا سنگھ کی محنت سے یاساشوی جیسوال نے اسکول کرکٹ میں شاندار پرفارمنس دی جس پر پہلے تو وہ ممبئی جونیئر کرکٹ کا حصہ بنا اور پھر اسے دورہ سری لنکا پر جانے والی بھارتی انڈر۔19 ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔

جہاں پہلے دو میچز میں تو وہ کچھ نہ کرسکا لیکن تیسرے میچ میں اس نے 114 رنز کی شاندار باری کھیلی، بعدازاں اس نے ایشیا کپ میں بھی اچھی پرفارمنس دکھائی اور ٹورنامنٹ کا بہترین پلیئر کا اعزاز حاصل کیا، جس کے بعد اس نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید