آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

یورپی یونین کے مانع ارتکاز معیشت کی سربراہ نے امریکی ٹیک کمپنیوں پر مزید پابندیوں کا اشارہ دے دیا

برسلز: جیویر ایسپوینوزا

یورپی یونین مانع ارتکاز معیشت کی نافذ کنندہ مارگریٹ وسٹاگر چپ میکر براڈکام پر اس کے طرز عمل کے خلاف تحقیقات مکمل ہونے سے قبل مبینہ مسابقت مخالف طریقوں کو ترک کرنے کیلئے عبوری حکم عائد کرکے امریکی ٹیکنالوجی جائنٹس پر مزید پابندیوں کا اشارہ دیں گی۔

تقریبا دو عشروں میں نام نہاد عبوری اقدامات کے پہلی بار استعمال میں یورپی یونین مسابقتی کمشنر ،جو دوسری مدت کیلئے طاقتور کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں،امریکی کمپنی کو خریداروں پر کہیں اور سے چپس کی خریداری سے روکنے کی شرائط عائد کرنے سے رکنے کا کہے گا۔برسلز کا دعویٰ ہے کہ یہ غالب حیثیت کا غلط استعمال ہے۔

ڈالر کے استحکام سے وابستہ دہرا نتیجہ قابل ذکر نئے حالات کی مثال ہے جو نہ صرف معاشیات اور مالیاتی معاملات میں بلکہ ادارہ جاتی ، سیاسی اور معاشرتی طور پر بھی کام کررہاہے۔یہ صورت حال کے تسلسل کیلئے امکانات کو کم ، اور صورتحال کے دونوں رخ پر انتہائی نتائج کیلئے زیادہ امکانات پیدا کرتا ہے۔

اس کیس کے بارے میں براہ راست معلومات رکھنے والے افراد کے مطابق امید ہے کہ براڈ کام اس فیصلے کے خلاف فوری اپیل دائر کرے گی اور یورپی عدالت انصاف تک ہر طرح سےمقابلہ کرے گی۔

کمپنی نے اس پر تبصرے کیلئے فوری ردعمل نہیں دیا تاہم ماضی میں اس نے کہا تھا کہ یہ مسابقتی قوانین پر عمل کرتی ہے اور کہ کمیشن کے خدشات میں اہلیت کا فقدان ہے۔

مارگریٹ وسٹاگر،جن کے پاس کمیشن کی ایگزیکٹو نائب صدر کی حیثیت سے اضافی اختیارات ہوں گے،یکم نومبر کو ایک غیرمعمولی دوسری پانچ سالہ میعاد کا آغاز کریں گی،یہ فرض کیا جارہا ہے کہ منگل کے روز یورپی پارلیمنٹ کی سماعت میں اس کی تصدیق کی گئی ہے۔ ڈیجیٹل پالیسی کی سربراہی اور مسابقتی کمیشن قوانین کے نافذ کنندہ کی حیثیت سے ان کے نئے دہرے کردار کے ذریعے ارکان یورپی پارلیمان کی جانب سے ان کا امتحان لینے کی توقع ہے۔

عبوری احکامات کے استعمال سے پتہ چلتا ہے کہ کمیشن سرگرم ٹیک کمپنیوں کے ذریعے مسابقت کو ناقابل تلافی نقصان کو کم کرنے یا روکنے میں مزید جارحانہ ہونے کی تیاری کررہا ہے۔

اگر براڈکام مقدمے میں عدالتوں نے اسے برقرار رکھا،اس تنقید کے بعد کہ برسلز تیزرفتار متحرک ڈیجیٹل مارکیٹ میں رجعت ناپذیرمسابقت مخالف رویے کو روکنے کے لئے کافی سست روی کا مظاہرہ کررہا ہے، یورپی یونین کے ریگیولیٹرز کی جانب سے طویل عرصے سے فراموش ٹول کو گوگل اور فیس بک جیسی بڑی کمپنیوں کے تعاقب کیلئے استعمال کرنے کی امید ہے۔

1980 میں قائم ہونے والے یورپی یونین کے قوانین،عبوری اقدامات کو 2001 کے بعد سے بروئے کار نہیں لایا گیا،2001 میں ان کے استعمال کی حد قائم کی گئی تھی۔ مارگریٹ وسٹاگر چند مقامی مانع ارتکاز معیشت مقدمات میں فرانسیسی ریگولیٹرز کی زیرقیادت مقدمات کے سلسلے کے بعد ان کے مؤثر ہونے کو جانچنے کی خواہاں ہیں۔

برسلز کی بین الاقوامی لاء فرم ڈیکرٹ میں مسابقتی مقدمات کے وکیل الیک برنسائیڈ نے کہا کہ مارگریٹ وسٹاگر سخت نفاذ کی خواہشمند ہیں کیونکہ گزشتہ پانچ سال میں کیے گئے تمام کاموں کے باوجود یہ تکلیف دہ ادراک پایا جاتا ہے کہ یہ گوگل کو اس کا طریقہ کار تبدیل کرنے کا سبب بننے کیلئے ناکافی ہیں۔

اپنے عہدے کی پہلی مدت کے دوران مارگریٹ ویسٹاگر نے گو گل پر تین مختلف کیسز میں 8 ارب ڈالرسے زائدجرمانہ عائد کیا۔گوگل پر ایڈ سینس کمیشن کو اپنی تحقیقات کے آغاز کے بعد جرمانہ عائد کرنے میں لگ بھگ سات برس کا عرصہ لگا۔

الیک برنسائیڈ نے مزید کہا کہ جرمانے اگرچہ نمبرز میں متاثر کن ہیں لیکن یہ پارکنگ ٹکٹس چننے والی ڈلیوری وین جیسے کاروبار کرنے والوں کی لاگت سے زیادہ نہیں۔اس سے ان کے گاڑی پارک کرنے والوں کا انداز نہیں بدلتا۔

برسلز کے ایک مانع ارتکاز معیشت کے ایک وکیل نے اس اقدام کو’’ہائی وائر ایکٹ‘‘( وقت طلب اور محتاط انداز میں کام کرنا) کہا جس سے مارگریٹ ویسٹاگر کے امریکی کمپنیوں کی مخالف کی شبیہ کو تقویت ملے گیا ،جس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی یونین کے مابین کشیدگی دوبارہ جنم لے سکتی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایمیزون،گوگل اور فیس بک جیسی امریکی کمپنیوں کے خلاف جرمانے کے بعد مارگریٹ ویسٹاگر پر امریکا سے نفرت کا الزام لگایا ہے کہ وہ اس بدتر شخص سے بھی بدتر ہیں جس سے میں نے کبھی ملاقات کی ہو۔

دی ڈین کو توقع ہے کہ طاقتور ڈیجیٹل کمپنیوں کے ان کےکریک ڈاؤن میں زیادہ سختی آجائے گی جیسا کہ وہ نیا مضبوط کردار ادا کررہی ہیں، جس میں ریگولیشن تیار کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نفاذ کے لئے ایک نیا مینڈیٹ بھی شامل ہوگا۔

فنانشل ٹائمز سے مزید