آپ آف لائن ہیں
جمعرات6؍ صفر المظفّر 1442ھ24؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میاں نواز شریف کی علالت اور ہماری اقدار

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی شدید علالت پر ہماری اقدار اُسی طرح خستہ حال دکھائی دیں جس طرح کے مظاہر ہم نے بیگم کلثوم نواز کی کینسر کے دوران بستر مرگ پر دیکھے تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے ترجمانوں کو بیانات سے روکنے کے ساتھ، تمام تر طبی سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت کی ہے، جس کے بعد اس بیماری کو ڈرامہ بنانے کا سلسلہ تھم گیا، وگرنہ وزرا و مشیر خود کو عمران خان کا فدائی ظاہر کرنے کیلئے نجانے کس طرح ایک سے بڑھ کر ایک جھوٹ تراشنے کے فن کا مظاہرہ کر رہے ہوتے۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ ہماری سیاست، معیشت اور زندگی سے متعلق تمام شعبوں کی طرح ہماری اقدار بھی زوال پذیر ہیں۔ گزشتہ دو عشروں کے دوران پاکستان میں حصول زر کیلئے جو مستی، کرسی کیلئے جمہوری رویات کی جو پامالی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے جو اخلاقی پستی دیکھی گئی ہے، شاید ہی کبھی پاکستان کے در و بام نے اس سے قبل دیکھی ہو۔ ہم جو خود کو سب بڑا مسلمان، دنیا کی واحد نظریاتی مملکت کا باشندہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے، ہمارے اخلاقی پیمانے مگر اس قدر تہہ جام آگئے ہیں کہ ہم اپنے مخالف کی بیماری کو بھی اس لئے ڈرامہ بنانے پر تُل جاتے ہیں کہ مبادا اس سے کہیں مخالف کیلئے ہمدردی کے جذبات پیدا نہ ہو جائیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ کلثوم نواز مرحومہ کی بیماری کے وقت مخالفین نے کیا کیا ڈرامے تخلیق کئے تھے۔ ان ڈراموں کے کردار اپنی اداکاری کے تمام جوہر اس خاطر بروئے کار لاتے رہے کہ عوام کی نظر میں اس بیماری کو مصنوعی و سیاسی ظاہر کرکے یہ باور کرایا جائے کہ میاں صاحب اس سے سیاسی فائدہ یا عدالتی ریلیف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مشرقی و اسلامی اقدار میں سخت سے سخت مخالف کیلئے ایسے موقع پر ہمدردی اگر نہ بھی پائی جاتی ہو تو بھی تمسخر تو نہیں اُڑایا جاتا۔ یہ صرف ہماری اقدار نہیں ہیں، دنیا کے کسی بھی معاشرے میں ایسے نہیں ہوتا لیکن ہمارے ہاں اعتزاز احسن جیسے معتدل رہنما سے بھی اعتدال کا دامن ایسے چھوٹ گیا تھا کہ وہ بھی موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا خاتون کی بیماری کو سیاسی بنانے کی دوڑ میں نظر آئے۔ سید رند لکھنوی نے شاید ایسے ہی کسی موقع پر کہا ہوگا۔

کتنے دل تھے جو ہو گئے پتھر

کتنے پتھر تھے جو صنم ٹھہرے

ہمارے ہاں تاریخ خود کو دہراتی نہیں ہے بلکہ اب تو تکرار کرنے لگی ہے، لیکن مجال ہے کہ ہم کبھی تاریخ سے کچھ سیکھ پائیں۔ میاں صاحب کی علالت پر عمل نیک سے عاری گفتار کے غازیوں کو جواب دیتے ہوئے سابق وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے ’’انہیں سیاسی اقدار کا کوئی پاس نہیں، شرم و حیا حکومت کے پاس سے بھی نہیں گزری، بیمار شخص کے لیے جس طرح کے بیان دیے جا رہے ہیں ہم اسے نہیں بھولیں گے‘‘۔ کاش سیاسی و اخلاقی پستی کے واقعات کبھی پاکستان میں یاد رکھے جا سکیں۔

اگر ایسا ہوتا تو نہ تو ہماری مشرقی اقدار مغربی تہذیب کے آگے سرنگوں نظر آتیں اور نہ ہماری سیاسی پستی اقوام عالم میں ہماری بے اعتباری کا سبب بن پاتی۔ کاش معروضی سیاسی صورتحال کو اخلاقی، تہذیبی، شائستگی، رواداری، برداشت کے مسلمہ اسلامی و جمہوری اصولوں کی پامالی کا دور کہنے والے خواجہ آصف سمیت وہ تمام سیاستدان جو آج ماتم کناں نظر آتے ہیں، کم از کم یہ تو کریں کہ ایسے عناصر کیلئے اپنی اپنی جماعتوں کے در بند کر دیں۔ سیاسی اقدار کی پامالی کی جرات ہی اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی کو اپنے سیاسی و عوامی احتساب کی فکر نہ رہے۔ سیاسی اقدار کی سب سے بڑی پامالی تو یہ ہے کہ لوٹوں کو الیکٹ ایبل کہہ کر اپنی اپنی جماعتوں میں نہ صرف قبول کیا جاتا ہے بلکہ وہ جس جماعت سے آتے ہیں، اُس سے بھی بڑھ کر مسند پر بٹھایا جاتا ہے۔ موجودہ حکومت کے ایسے وزیروں، مشیروں کی تواتر کے ساتھ سوشل میڈیا پر تصاویر نظر آتی ہیں کہ جو پیپلز پارٹی کی کابینہ میں موجود تھے، یہ نصف سے زائد ہیں۔ ستم مگر یہ ہے کہ مستقبل میں بھی اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ کل کو اگر تحریک انصاف کی کشتی بیچ منجدھار ڈولنے لگتی ہے اور یہ موسمی پرندے اُڑ کر دوسری کشتی میں جا بیٹھنے کیلئے اُڑان بھرتے ہیں تو کوئی جماعت اس بنا پر انکار کر دےکہ یہ موقع پرست ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی تاریخ لوٹوں کو معتبر بنانے کے حوالے سے داغدار ہے، ایک بڑی وجہ یہی ہے جس کی وجہ سے ہمارے ہاں جمہوری روایات پنپنے نہیں پاتیں۔

کاش جو سیاستدان آج سیاسی و اخلاقی اقدار کی زبوں حالی پر ماتم کناں ہیں وہ کل ایسے ہی عناصر کی اپنی جماعتوں میں آمد کا جشن مناتے ہوئے نہ پائے جائیں۔ ہماری دعاہے کہ خداوند کریم میاں صاحب و مریم بی بی کو صحت کاملہ عطا فرمائے، سچ یہ ہے کہ میاں نواز شریف اور محترمہ مریم نواز دورِ موجود میں مزاحمتی سیاست کے ستارے ہیں، خدا کرے کہ یہ ستارے آسمانِ سیاست پر یونہی چمکتے رہیں۔