آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کےذریعے یہ خبر کئی دن سے سنائی دے رہی تھی کہ وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر کراچی آ رہے ہیں۔ اہل کراچی اور یہاں سے تعلق رکھنے والے اہل سیاست کو امید بندھ گئی تھی کہ وزیراعظم کے آنے پر کراچی اور اہل کراچی کو درپیش مشکلات و مسائل کا ازالہ ہو سکے گا۔ اہل سندھ نہ سہی اہل کراچی کے درد کا مداوا ہو سکےگا۔ وزیراعظم کی آمد کی منتظر ایم کیو ایم کی قیادت اور ارکانِ تحریک انصاف نے وزیراعظم کو سنانے بتانے کے لئے اپنی سی تیاری کر رکھی تھی۔ وہ جس کام سے آئے تھے، حب پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے، جس کا ذکر ذرائع ابلاغ نے اس طرح نہیں کیا تھا جس طرح اُن کے کراچی آنے کا ڈھنڈورا پیٹا گیا تھا۔ اہل کراچی بے چارے اس غلط فہمی میں رہے کہ جناب وزیراعظم کراچی والوں کے دکھ درد کو محسوس کرکے انہیں راحت پہنچانے، ان کو درپیش مشکلات کے حل کے لئے تشریف لا رہے ہیں۔ اُنہوں نے تحریک انصاف کے کارکنان کو وقت دیا، اُن کے دکھ درد سنے، اُن کی سندھ حکومت سے شکایات سنیں، ایم کیو ایم چونکہ وفاق میں شامل ہے، اُس کی بھی داد فریاد سنی، کچھ یقین دہانیاں بھی کرائیں اور واپس چلے گئے۔ آئے بھی وہ، گئے بھی وہ، ختم فسانہ ہو گیا۔ کچھ کام ہوا، نہیں ہوا لیکن کچھ لوگوں کی تسلی ہوگئی۔ وزیراعظم سے مل کر اُن کے دل کی بھڑاس نکل گئی ہوگی۔ اعلانات تو ہوتے رہتے ہیں اب بھی کئی ارب کے اعلانات تو کئے گئے ہیں، کیا واقعی اُن پر عمل درآمد ہو سکے گا؟ سندھ حکومت سے جو کشمکش چل رہی ہے کیا وہ ان کے کئے گئے اعلانات میں حائل نہ ہوگی؟ پھر ویسے بھی تبدیلی والی سرکار کی تبدیلی کی ہوا چلنے کو ہے، دیکھیں تبدیلی کا اونٹ کب اور کس کروٹ بیٹھے گا یا بلبلاتا ہی رہ جائے گا۔

وطن عزیز جسے اب تک اپنے پیروں پر کھڑا ہو جانا چاہئے تھا، وہ اہل سیاست کی رسہ کشی کے باعث آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے رہ گیا ہے۔ ہمارا، ہمارے وطن پاکستان کا قصور صرف اتنا ہے کہ ہم مسلمان ہیں، ہم نے اپنی قوت سے ایٹم بم بنا لیا ہے، ہم نے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی موہوم سی کوشش کی ہے۔ جنرل ایوب خان نے بہت سے کام ایسے کیے جن سے پاکستان خودکفیل ہو سکتا تھا لیکن کلیسائی دنیا کے تاجداروں نے اسے ناپسند کیا، اسے درپردہ رہ کر بظاہر عوامی ہجوم کی طاقت کے ذریعے گھر بھیج دیا گیا۔ ان کے تسلسل میں ذوالفقار علی بھٹو کو زبردستی لایا گیا جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ بھٹو صاحب نے کوشش کی خود پر لگے داغ کو دھونے کی، انہوں نے کئی مثبت اقدام کیے، پاکستان کو جوہری قوت بنانے کا سہرا اُن کے سر جاتا ہے، تیسری دنیا کے مسلم ممالک کو نام نہاد اقوام متحدہ سے الگ کر کے مسلم اقوام متحدہ کی داغ بیل ڈالنے کی کوشش کی، مسلم سرمائے کے لئے الگ مسلم عالمی بینک کےخواب کو تعبیر دینے کی ابتدا کی، جس میں کامیابی کے آثار نمایاں ہونے سے پہلے ہی مسلم مخالف قوتوں نے انہیں پھانسی چڑھوا دیا۔ یوں اُن کی کہانی کو ختم کر دیا گیا۔ بھٹو صاحب کے بعد لائے گئے جنرل ضیاء الحق۔ ان سے روس کےخلاف فوج کشی کا کام لیا اور کام نکلنے پر انہیں بھی راہیٔ ملک عدم کیا۔ اب مملکت اسلامیہ پاکستان کے اقتدار کے لئے جسے بھی چنا جاتا ہے وہ خودمختاری کا طوق گلے میں ڈال کر ہی آتا ہے۔ اس کی گردن طوق کے بوجھ سے جھکی رہتی ہے وہ سر نہیں اٹھا سکتا۔ اگر سر اُٹھانے کی کسی طرح بھی کوشش کرتا ہے تو اس کا انجام تیار ہوتا ہے۔

اب پھر آزادی مارچ کا شور ہے ۔ فی الحال تو مولانا محترم نے اذانِ نجات دی ہے، اس کے نتیجے میں سیاسی لوگ جوق در جوق ان کے جھنڈے تلے جمع ہو رہے ہیں۔ ابھی تو اقامت میں دیر ہے، حکومت پہلے سے ہی گھبرا رہی ہے اور بوکھلاہٹ میں پے درپے غلطیاں کئے جا رہی ہے جبکہ یہ وقت ایسا نہیں ہے۔ حکومت کو بہت تحمل اور برداشت کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی جلد بازی گلے پڑ سکتی ہے جن جن سیاست دانوں کو طبیعت کا کوئی مسئلہ درپیش ہے، اُنہیں باہر جانے دیا جائے، احتجاجی غبارے میں یوںہی پنکچر ہو جائے گا۔ یہاں رہ کر اگر بیماری میں افاقے کی جگہ اضافہ ہوگیا تو سارا الزام حکومت پر آئے گا، پھر حکومت کو جانے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ اللہ وطن عزیز کی ہر آفت، ہر مصیبت سے حفاظت فرمائے، آمین!