آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ذیقعد 1441ھ 5؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میں آپ کی خدمت میں ایک فقیدالمثال شخصیت عظمت انصاری کی کہانی پیش کرنا چاہ رہا ہوں۔ عظمت انصاری نے اپنی سوانح حیات بعنوان ’’یادوں کے دریچے‘‘ لکھی ہے۔ سرورق پر تحریر ہے ’’دلچسپ اور سنسنی خیز لمحات سے لبریز ایک سچے اور نڈر انسان کی داستان جسے موت سے کبھی ڈر نہیں لگا۔ ایک ایسی انمول کہانی جسے آپ کبھی بھی بھلا نہ سکیں گے‘‘۔کتاب کا حرفِ اوّل اُن کی بیگم فرحت عظمت انصاری نے نہایت ایمانداری سے لکھا ہے چونکہ اس میں تمام حقائق بیان کئے گئے ہیں۔ میں ان سے ہی ان کی تحریر مستعار لے کر آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔ دیکھیے بیوی اور شوہر کے تعلقات کے بارے میں ایک واقعہ یاد آگیا جس کو آپ گھر کی مُرغی دال برابر کہہ سکتے ہیں۔ روایت ہے کہ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے روحانیت و کشافات عطا کئے تھے وہ لوگوں کی خدمت کرتا تھا، تعویذ وغیرہ دے کر علاج کرتا اور وظیفہ پڑھ کر جن و آسیب اُتارتا تھا۔ بیوی ہمیشہ اس کو دال برابر ہی سمجھتی تھی۔ ایک دن وہ صحن میں بیٹھی تھی کہ دیکھا کہ ایک شخص اوپر سے اُڑتا ہوا نکل گیا۔ جب وہ شام کو گھر پہنچا تو بیگم نے کہا کہ بڑی پیری مریدی کرتے ہو، آج میں نے صحیح پیر دیکھا یہاں سے اُڑتا ہوا گزرا تھا۔ اس نے کہا بیگم وہ میں ہی تھا کہیں جلدی جانا تھا۔ بیگم نے منہ بنایا اور کہا اچھا وہ تم تھے جب ہی تو ٹیڑھے ٹیڑھے اُڑ رہے تھے۔بیگم فرحت عظمت انصاری نے اپنے شوہر نامدار کی شخصیت پر بہت اچھی روشنی ڈالی ہے۔ دراصل جب آپ عظمت انصاری کی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرتے ہیں تو آپ کو فوراً احساس ہو جاتا ہے کہ یہ ایک نہایت اچھی، ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ اعلیٰ درجے کے فوٹو گرافر ہیں، ایک کامیاب براڈکاسٹر بھی رہے ہیں اور خوبصورت پاکستان (Beautiful Pakistan)کے نام سے ان کی ایک سیریز ریڈیو پاکستان سے 52مرتبہ نشر ہوئی تھی، لوگ اس کو اب تک یاد کرتے ہیں۔ آپ نے دادو کے قریب گورکھ ہل دریافت کیا، وہ ایک اعلیٰ تفریح گاہ اور سیاحت کا مقام بن گیا۔ آپ ایک اعلیٰ ماہر آثار قدیمہ کی حیثیت سے بھی سامنے آئے کہ انھوں نے کراچی میں ایک جگہ کھدائی کروا کر تقریباً 4000سال پرانا مٹکا تلاش کر لیا۔ آپ اُردو داں تو تھے ہی بعد میں انگریزی زبان پر اتنی مہارت حاصل کر لی کہ انگریزی کتابوں کے اعلیٰ ترجمے کر ڈالے۔ بیگم صاحبہ نے فخریہ طور پر یہ راز فاش کیا ہے کہ جوانی میں خوبصورتی کی وجہ سے خواتین میں بہت مقبول تھے (بالکل ڈی جے کالج میں ہمارے استاد غزالی صاحب کی طرح)۔ جوانی میں آپ نے ایئر فورس جوائن کر لی اور بہت بہادری سے ملک کی حفاظت کی، خطرات کی پروا نہ کرتے ہوئے کئی معرکوں میں حصّہ لیا اور غیر ملکی اخبارات کو ہندوستان کی دخل اندازی اور جارحیت سے آگاہ کیا۔ ان کے مراسلوں اور تصاویر کی وجہ سے ہندوستان کی خاصی بدنامی ہوئی تھی (مگر وہ اپنا کام کرگئے جس طرح آجکل کشمیر میں صحافی کررہے ہیں)۔

عظمت انصاری نے تعلیم کے میدان میں بھی بہت اعلیٰ خدمات انجام دی ہیں۔ آپ نے کم از کم 6000طلبا اور طالبات کو بی بی اے اور ایم بی اے کے مضامین پڑھائے ہیں۔ عظمت انصاری کا تعلق علی پور(ہریانہ) سے ہے اور دہلی اور لاہور کی قربت نے انھیں اردو داں بنا دیا ہے۔ عظمت انصاری ’’صحرا نورد‘‘ یا ’’سند باد‘‘ بھی ہیں۔ لاتعداد ملکوں کی سیر کی ہے اور غالباً اسی وجہ سے ان کا وژن بہت کشادہ ہے اور معلومات کا بھی خزینہ ہیں۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آپ کی جتنی بھی تصاویر ہیں سب میں چہرے پر مسکراہٹ ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ خوش و پُرسکون رہتے ہیں اور ان کی موجودگی دوسروں کے لئے ایک نعمت ہوتی ہے۔ اگر آپ کی محفل یا گھر میں ایک مرجھایا ہوا چہرہ ہو تو تمام اہلِ خانہ پژمُردگی چھا جاتی ہے۔ عظمت انصاری ان لوگوں میں سے ہیں جو بات کرنے سے پہلے مسکراتے ہیں اور ایسے بہت ہی کم لوگ ہوتے ہیں۔ میں خوش قسمت ہوں کہ میرے ایک نہایت عزیز کلاس فیلو اور کہوٹہ میں ڈی جی بدرالاسلام کی بھی یہی کیفیت ہے۔ آپ ان کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ دیکھتے ہیں۔ ان کی موجودگی غمگین ماحول کو خوشگوار ماحول میں تبدیل کردیتی ہے۔ چارٹرڈ میرین انجینئر ہیں اور انگلینڈ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ ہم ڈی جے کالج سے کلاس فیلو تھے اور ماشاء اللہ اب تک اچھے دوست ہیں۔ بات کرنے سے پہلے مسکرا دیتے ہیں۔