پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی وزیر اعظم کو مل کر گھر بھیجیں گے۔
اسلام آباد میں آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی نظام کو نہیں مانتے، مولانا فضل الرحمان کو یقین دلاتا ہوں ہر جمہوری قدم میں ان کے ساتھ ہوں گے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ الیکشن 2018 میں فوج کو پولنگ اسٹیشن میں کھڑا کرکے انتخابات کو متنازع بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا پر بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو کا انٹرویو تو چل سکتا ہے، بھارتی فضائیہ کے پائلٹ کا انٹرویو تو چل سکتا ہے مگر سابق صدر آصف علی زردای کا انٹرویو نہیں چل سکتا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان عوام کی مرضی سے اقتدار میں نہیں آئے وہ کسی اور کی وجہ سے اقتدار میں آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: فضل الرحمٰن کی حکومت کو 2 دن کی مہلت
چیئرمین پی پی نے کہا کہ عمران خان نے ایک سال میں عوام کا معاشی قتل کر دیا ہے، ان کی معاشی پالیسیوں میں غریب عوام کو تکلیف اور امیروں کو ریلیف مل رہا ہے، عوام کے لیے مہنگائی کا سونامی ہے جبکہ امیروں کے لیے بیل آؤٹ پیکیج ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کٹھ پتلی وزیر اعظم کے دور میں کشمیر پر تاریخی حملہ ہورہا ہے اور ہمارا وزیر اعظم قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر پوچھتا ہے کہ میں کیا کروں، وزیر اعظم کشمیر کے لیے صرف تقاریر اور ٹوئٹ کرتا ہے مگر اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ طلبہ مزدوروں کسانوں، تاجروں اور سیاستدانوں سمیت آج پورے پاکستان کا نعرہ گو سلیکٹڈ گو، بن چکا ہے۔