آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ہر گزرتے برس کے ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کے ساتھ تعمیراتی ڈیزائن میں بھی تیزی سے تبدیلی آرہی ہے۔ تعمیرات کا شعبہ بھی جدید آلات اور ساز و سامان کے ساتھ اپنی صورت تبدیل کر رہا ہے۔ 2019ء کے تعمیراتی رجحانات کی بات کی جائے تو سال بھر آرکیٹیکچرل ڈیزائن میں ماحول دوست مستحکم طرزِ تعمیر اور کشادہ مکانیت کا رجحان پروان چڑھتا نظر آیا، جس میں آرکیٹیکچرل ڈیزائن کی نفاست کے ساتھ فریم ہاؤسز اور سولر روف ٹائلز کا استعمال بھی دیکھا گیا۔

جدید تعمیراتی ڈیزائن اسمبلنگ کے اصولوں پر چل رہے ہیں۔ ستون، دروازے اور چھتیں اس طرح الگ الگ بنائی جارہی ہیں کہ اسٹرکچر پر ہر ایک جزو فٹ کرتے ہوئے دھول مٹی کے اثرات سے بچا جائے۔ بڑے تعمیراتی ادارے ’’اسمبلنگ آرکیٹیکچر‘‘ اپنا رہے ہیں۔ بڑے پراجیکٹس کی فلک بوس عمارتیں منزل در منزل بناکر ڈھانچے پر ایسے فٹ کی جاتی ہیں تاکہ تعمیراتی مقام پر دھول مٹی اور گرد و غبار کے بادل کم چھائیں اور قرب و جوار میں بسنے والے لوگوں اور ماحول کو فضائی آلودگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 

آرکیٹیکچر اینڈ ڈیزائن میں ماحول دوست اقدام اور عمارتوں کی مضبوطی و جمالیات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ انجینئرنگ اور آرکیٹیکچر ڈیزائن کے شعبے ہم معنی ہوچکے ہیں۔ عمارت سازی کے فنیاتی رموز آجکل کی تعمیراتی فرمز کی اولین ترجیح بن چکے ہیں۔ کشادگی، روشنی اور جمالیات موجودہ تعمیراتی ڈیزائن کی منفرد شناخت ہیں۔ 

ذیل میں ایسی ہی زیرِ تعمیر منفرد اورحیران کن عمارات پیش کی جارہی ہیں،جن کی تعمیر رواں سال مکمل ہوجائے گی۔

جدہ ٹاور، سعودی عرب

سعودی عرب کے دو مقدس شہرمکہ و مدینہ جہاں مسلمانوں کے لیے عقیدت و احترام کا مرکز ہیں، وہیں تجارتی شہر جدہ دورِ جدید میں ترقی و فراخ دلی کا حسین سنگم اور بین الاقوامی معاشی حب بنتا جارہا ہے، جس کی شان جدہ ٹاور ہے۔ اس کے منفرد تعمیراتی ڈیزائن کو دیکھ کر بلاشبہ کہا جاسکتا ہے کہ اس ٹاور کی تعمیر سے خلیج میں برج الخلیفہ کی پہلے جیسی حیثیت نہیں رہے گی۔ دنیا بھر کے کاروباری لوگوں کے لیے اسے سعودی عرب کی جانب سے شاندار تحفہ مانا جا رہا ہے۔1007میٹر بلند اس ٹاور کی 200منازل ہوں گی۔

157ویں منزل پر دنیا کا سب سے بلند آبزرویشن ڈیک تعمیر کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ دفاتر،لگژری کونڈوز اور فور سیزن ہوٹل شامل ہیں۔ ہوا کی رفتار اور ثقل کو کنٹرول کرنے کے لیےعمارت کی تعمیر میں انتہائی منفرد آرکیٹیکچرل اسٹائل ’ایرو ڈائنامک 3سائیڈیڈ‘ ڈیزائن اپنایا گیا ہے۔ ساتھ ہی کشادگی کے لیےبلڈنگ کی ٹیپرنگ شیپ رکھی گئی ہے۔عمارت کی ساخت نیچے سے چوڑی ہے، جو اوپری منازل کی طرف جاتے ہوئے کمان سی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ سردی کا بوجھ برداشت کرنے کے لیےبیرونی دیواریں لو کنڈکٹیوٹی (Low Conductivity)گلاس سے بنائی گئی ہیں۔

دبئی پرل،متحدہ عرب امارات

دبئی پرل کو آپ اوسط ہائی رائز بلڈنگ سمجھنے کی غلطی نہیں کرسکتے۔ 300میٹر بلند اور 73منزلہ یہ چار مینار والی عمارت صرف نام ہی سے ہیرا نہیں ہے بلکہ اپنے منفرد آرکیٹیکچر اور ڈیزائن کے حوالے سے بھی کئی خوبیاں لیے ہوئے ہے۔ اسے 2019ء میں سب سے اہم پراجیکٹ کی حیثیت حاصل ہے، اس کی تعمیر اعلیٰ ذوق کی عکاس ہے،جس کا مظاہرہ امارات کی جدتِ نو میں چار چاند لگانے والے برج الخلیفہ کو حاصل ہے۔ اس میں کثیر المقاصد دفاتر، رہائشی مکانات، تفریح گاہیں اور ہوٹلز موجود ہیں۔ 

دبئی ٹیکنالوجی اینڈ میڈیا زون میں پام جمیرہ کے مقابل اس فلک بوس عمارت کی رعنائی، دیکھنے والوں کو اپنے حصار میں لینے کے لیے کافی ہوگی۔ اس کے چار ٹاور اسکائی برج سے اس طرح جوڑے گئے ہیں کہ آنے جانے والوں کو کہیں کوئی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔اسے ماحول دوست عمارات میں سبقت حاصل ہے۔ لیڈ سرٹیفائیڈ یہ ماحول دوست عمارت56فیصد سبزہ زار کی حامل ہوگی۔اس کی تعمیر2009ء میں شروع ہوئی تھی اور مدت تکمیل 2021ء مقرر ہے۔رواں برس اس کے کئی فلور مکمل کرلیے جائیں گے۔

اگورہ گارڈن ٹاور، تائیوان

تائیوان کے دارالحکومت تائپے سٹی میں واقع ڈی این اے کی دہری زنجیر پر بنائے جانے والے اس ٹاور کی خوبیوں کو شمار کریں تو بلاشبہ اسے 2019ء کی ماحول دوست عمارات کے ماتھے کا جھومر کہا جاسکتا ہے۔ 

ہر منزل پر پھول پھلواری کی سوندھی خوشبو سے آپ کی روح سرشار رہے گی۔ 20منزلہ اس لگژری بلڈنگ کایہ شاندار ڈیزائن ونس سینٹے کیلی باؤٹ آرکیٹکس کی کاوش ہے،جس کے ہر فلور کو باغات سے سجایا گیا ہے، یہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں رہائشی بلاک اور لگژری ہوٹل دونوں ہی موجود ہیں۔اسے90ڈگری زاویے پر قائم کیا گیا ہے۔

دوانگ ماؤنٹین ریزورٹ،چین

ایسا منفرد ڈیزائن آپ نے سائنس فکشن فلموں میں دیکھا تو ہوگا لیکن زمین پر مستقبل کے طرزِ تعمیر کی یہ منفرد مثال کہیں شاذ ہی پائی جاتی ہو۔ 200فٹ گہرا آبشار اور آرکیٹیکچرل ڈیزائن کسی طور زمین سے مماثل قرار نہیں دیتا۔ 

آبشار کے اوپر دو پہاڑیوں کو ملاکر جس تعمیراتی ڈیزائن کو اپنایا گیا ہے، وہ عوامی جمہوریہ چین کی اختراعی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ اسکائی سلوپ کے ساتھ ریسٹورنٹس، ہوٹل اور شاپنگ سینٹرز پر مشتمل ایسی تفریح گاہ ہے،جہاں جاکر آپ اپنے چینی دوست ملک کی صلاحیتوں کے معترف ہوجائیں گے۔

تعمیرات سے مزید