آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 21؍ربیع الاوّل 1441ھ 19؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر، مسجد کیلئے 5 ایکڑ اراضی دینے کا حکم

کراچی(نیوز ڈیسک )بھارتی سپریم کورٹ نے1992میں شہید کی گئی تاریخی بابری مسجد کے کیس میں 27سال بعد تعصبا نہ فیصلہ سناتے ہوئے عین مسجد کی گنبدوں کی جگہ پر رام جنم بھومی اور رام مندر کی تعمیر کا حکم دیتے ہوئے ٹرسٹ بنانے کا حکم دے دیا ہے، سپریم کورٹ نے متنازع فیصلہ دیتے ہوئے مسلمانوں کو مسجد تعمیر کے لیے ایودھیا ہی میں متبادل کے طور پر علیحدہ 5 ایکڑ اراضی فراہم کرنے کا حکم بھی دیا۔

عدالت نے نہ صرف مسلم پرسنل لاء بورڈ اور سنی وقف بورڈ کی طرف سے پیش تمام شواہد کو نظر انداز کر دیا بلکہ متنازع زمین پر ہندئوں کا دعویٰ بھی درست قرار دیا ہے، اترپردیش سمیت بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا جشن، انتہا پسند ہندو تنظیموں کے کارکنان خوشی مناتے ہوئے سڑکوں پر آگئے اور مٹھائیاں تقسیم کیں، بھارتی مسلمان کا سوگ، ہندو رہنماؤں نے عدالت عظمی کے فیصلے کی ستائش کی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ: بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیرکا حکم


بھارتی وزیر اعظم نے مختلف ٹویٹس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے لکھا ہے کہ ʼاس فیصلے کو کسی کی فتح یا شکست کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بھارتی حزب اختلاف کانگریس نے بھی فیصلے کی ستائش کی ہے، بابری مسجد فیصلے کے بعد بھارت میں فسادات کا خطرہ، ملک بھر میں سیکورٹی ہائی الرٹ، مقبوضہ جموں و کشمیر، اتر پردیش اور گووا میں دفعہ 144 نافذ، نئی دہلی اور ممبئی سمیت ملک بھر میں حساس مقامات پر ہزاروں اہلکار تعینات، پولیس گشت کو بھی بڑھا دیا گیا۔بھارت کے معاشی حب ممبئی میں 5 ہزار کیمروں کے ذریعے صورتحال کی سختی سے نگرانی کی گئی جبکہ امن و عامہ کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے 40 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں ایودھیا سمیت پورے اترپردیش کو سیکورٹی کے حصار میں قید کردیا گیا جس کے تحت تمام دھرماشالے بند کردیے گئے جبکہ غیر مقامی افراد کو شہر سے نکلنے کا حکم دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں پانچ ججوں کے بنچ نے مندر مسجد کے کیس متنازع فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مسلم فریق کو ایودھیا کے اندر کسی نمایاں مقام پر مسجد کی تعمیر کے لیے ایک متبادل پانچ ایکڑ زمین دی جائے۔ 

عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ کی کھدائی کے نتیجے میں مسجد کے نیچے غیر اسلامی تعمیر کے آثار ملے جنہیں نظر انداز نہیں کر سکتے۔ جسٹس گوگوئی نے کہا کہ زمین کی ملکیت کا فیصلہ مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ ملیکت کا فیصلہ صرف قانونی بنیادوں پرکیا جاتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق ایودھیا کی بابری مسجد 1528 میں کسی خالی زمین پر نہیں بنائی گئی تھی۔ 

آثار قدیمہ کے مطابق مسجد کے نیچے کسی مندر کے باقیات تھے اور محکمے نے اس کے ثبوت بھی پیش کیے تھے۔ لیکن آثار قدیمہ نے یہ نہیں کہا تھا کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر اس کے اوپر تعمیرکی گئی تھی۔ 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سنہ 1949 میں بابری مسجد کے اندر مورتی رکھنا عبادت گاہ کی بے حرمتی کا عمل تھا اور سنہ 1992 میں اسے منہدم کیا جانا قانون کی خلاف ورزی تھی۔

اہم خبریں سے مزید