آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وفاقی کابینہ اجلاس پر فردوس اعوان کی میڈیا بریفنگ

وفاقی کابینہ اجلاس پر فردوس اعوان کی میڈیا بریفنگ


وفاقی کابینہ نے مثبت معاشی اشاریوں کو ملک کے اقتصادی استحکام کی علامت قرار دیا اور کہا ہے کہ ہم صحت مند معیشت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں7 نکاتی ایجنڈے کی منظوری کے ساتھ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 6 اور 8 نومبر کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔

کابینہ اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے میڈیا کو بریفنگ دی۔

انہوں نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنےسے متعلق فیصلے پر کہا کہ ایک وی آئی پی قیدی کے لیے سب بہت پریشان ہیں، کابینہ کی اکثریت نے نواز شریف کو ملک سے باہر جانے دینے کی رائے دی۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ آج شہباز شریف نے ایک درخواست وزارت داخلہ کو دی تھی، حکومت نے اس پر نیب اور میڈیکل بورڈ سےجواب مانگا تھا، جو رپورٹ آئی وہ وزیر قانون فروغ نسیم نے کابینہ اجلاس میں پیش کی۔

فردوس اعوان نے مزید کہا کہ شہباز شریف کے وکلا، میڈیکل بورڈ اور نیب نے جو جواب دیا، وزیر اعظم عمران خان نے اس بنا پر معاملے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کے بعض اراکین کو تحفظات تھے، 14 رکنی کمیٹی نے سفارشات اجلاس میں پیش کی، سب نے اتفاق کیا کہ غیر مشروط ضمانت نہ دی جائے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی نے یہ بھی کہا کہ ایک بار کا فیور ہونا چاہیے وہ بھی محدود مدت کے لیے، وزیر قانون نے اجلاس کو بتایا کہ شہباز شریف اور ان کے وکیل کو تحفظات بتادیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں طرف کی رائے لی گئی، اس کے بعد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق ووٹنگ ہوئی اور نا صرف اکثریت نے نواز شریف کے جانے کے حق میں رائے دی بلکہ کچھ نے تو دونوں ہاتھ بھی کھڑے کیے۔

فردوس اعوان نے کہا کہ ساڑھے 9 بجے ذیلی کمیٹی کی میٹنگ ہے، جس میں یہ ساری چیزیں طے ہوں گی، اگر یہ ساری گارنٹی اور سیکیورٹی بانڈز دیتے ہیں تو حکومت رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔

ملکی معیشت پر کابینہ کے فیصلے

ملکی معیشت پر ڈاکٹر فردوس اعوان نے کہا کہ رواں مالی سال جولائی تا اکتوبر کے معاشی اہداف حاصل کرلیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مشیر خزانہ نے کابینہ کو معاشی کارکردگی سمیت تمام شعبوں کے اہداف پر بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ معاشی کارکردگی تمام ہی شعبہ جات میں ہدف سے زیادہ رہی ہے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے معاشی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ معاشی بہتری اور استحکام کا براہ راست فائدہ عوام کو ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مشکل معاشی چیلنجز پر قابو پارہا ہے، معیشت مشکل حالات سے نکل آئی ہے، عالمی ادارے بہتری کے معترف ہیں، اس استحکام کے ثمرات عوام تک پہنچائیں گے۔

فردوس اعوان نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی حکومت کی مثبت پالیسیوں کی مظہرہے، وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے، ان سے ماہانہ کارکردگی رپورٹ مانگی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کھیت سےعام خریدار تک پہنچنے میں نرخوں میں 40 فیصد اضافہ ہوجاتا ہے، دیہات کی نسبت شہری علاقوں میں عوام کی ضروریات مختلف ہیں۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی نے یہ بھی کہا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کو عوام کی ضروریات پوری کرنے کیلئے 6 ارب روپے دیئے گئے ہیں، سبسڈی سے استفادے پر نظر رکھ رہے ہیں، اس حوالے سے جدید طریقے اپنائیں گے۔

کابینہ اجلاس میں سی پیک منصوبے کا جائزہ

فردوس اعوان نے کہا کہ کابینہ نے چین کے ساتھ سی پیک کی رفتار تیز کرنے اور جاری منصوبوں کی جلد تکمیل کا عزم کیاہے، اس حوالے سے مغربی روٹ مکمل کرنے سے متعلق بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے سی پیک کا دائرہ کار وسیع کیا ہے، چاروں صوبوں میں سی پیک منصوبوں پر کوئی سیاست نہیں، ایم ایل ون منصوبے سے ریلوے کے فرسودہ نظام میں تبدیلی آئے گی۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ سی پیک منصوبوں میں لائیو اسٹاک اور ماہی پروری جیسے شعبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، وزیراعظم نے سکھر سے آگے روٹ کی تکمیل کیلئے وزارت منصوبہ بندی کو ہدایات دی ہیں جبکہ کراچی سرکلر ریلوے کی گارنٹی وفاقی حکومت نے دی ہے۔

کابینہ اجلاس کے دیگر اہم امور

ان کا کہنا تھا کہ 21 ملکوں سے 4 ہزار 636 سے زائد پاکستانی قیدی وطن واپس آئے ہیں، وزیراعظم کی کاوشوں سے 1594 قیدی سعودی عرب اور 345 ملائیشیا نے آزاد کیے۔

فردوس اعوان نے کہا کہ مہنگی بجلی سے نجات کے لیے متبادل ذرائع کی طرف جارہے ہیں، ماضی میں لیے گئے قرضوں کے حوالے سے انکوائری کمیشن کی خبر درست نہیں، اس کمیشن کو 6 ماہ کا وقت دیا گیا ہے جو دسمبر میں پورا ہوگا۔

قومی خبریں سے مزید