آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ربیع الثانی 1441ھ 11؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

محمد نعیم

موجودہ کراچی کی معروف عوامی سواری چنگ چی سے استفادہ کرنے کا سلسلہ تقریباً سات ،آٹھ برس پہلے شروع ہوا۔ شروع شروع میں تو اس کا نام بھی زبان پر مشکل سے آتا تھا، مگر اب یہ میری اور میرے جیسے ہزاروں افراد اور اگر لاکھوں کہا جائے تو بھی غلط نہ ہوگا، کی ضرورت بن چکا ہے۔ کسی بڑے شہر، قصبے،حتی ٰ کہ کسی گاؤں میں بھی جائیں تو ہر طرف اب چنگ چی رکشے کا راج ہے۔یہ ایسی سواری ہے جو ہر ایک کی استطاعت کے مطابق ہے یعنی کم خرچ بالا نشیں، مگر شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ، جہاں دوسرے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں ٹریفک کا مسئلہ بھی سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ 

پبلک ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے کرائے، بسوں میں مسافروں کا اژدھام، پٹرول کی بڑھتی قیمتیں اور محدود وسائل کا شکار عوام ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے سستی سے سستی سواری کے متلاشی رہتے ہیں، لہذاچنگ چی اب اتنا معروف نام ہو چکا ہے کہ کسی کو یہ بتانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ موٹرسائیکل کا پچھلا پہیہ نکال کر اس کے ساتھ آگے پیچھے لگی 6 سیٹوں کو جوڑنے سے بننے والے مرکب کا نام چنگ چی ہے۔ شروع شروع میں چنگ چی رکشہ ایسے رستوں پر چلائے گئے، جہاں عموماً بسیں نہیں جاتی تھیں، مگر اب تقریباً ہر اسٹاپ, ہر سڑک پر موجود ہیں۔ رفتہ رفتہ بسیں ناپید اور چنگ چی یاجوج ماجوج کی طرح ہر جگہ پھیلتے جا رہے ہیں۔ 

چنگ چی کی ایک تھوڑی سی جدید شکل بھی سڑکوں پر کثرت سے نظر آ رہی ہے اور وہ ہیں، اسی نوعیت کے سی این جی رکشے۔ مگر ایسے صاحب حیثیت افراد جو اپنی گاڑی رکھتے ہیں، ان کے لیے چنگ چی رکشوں کی بہتات باعث تشویش ہے،ان کاموقف ہے کہ ان چنگ چیوں نے سڑک پر ٹریفک کا نظام درہم برہم کردیا ہے۔ چونکہ اکثر چلانے والے تجربے سے عاری ہیں تو اِن کو پتہ ہی نہیں کہ یہ چلانی کیسی ہے۔ بس جب اور جیسے دل کرتا ہے دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں کو موڑ لیتے ہیں۔ 

یہ تک نہیں دیکھتے کہ پیچھے کوئی ہےیا نہیں۔لیکن اگر میں اپنے آپ کو دیکھوں تو یہ میرے لیے ایک بڑی نعمت سے کم نہیں۔ مجھے اس کے باعث ملنے والے بے شمار فائدوں میں سے چند ایک کا ذکر کیے دیتا ہوں۔ کراچی کی سڑکوں پر چنگ چی آنے سے قبل لوگ طویل ٹائم تک مختلف اسٹاپس پر کھڑے رہتے تھے، پھر جیسے ہی کوئی پہلی ”فل لوڈڈ“ بس آتی، اس پر چڑھنے کی جدوجہد میں لگ جاتے۔ 

ایسے میں جس کو دروازے کے آخری حصے پر ایک پاؤں ٹِکا کر لٹک جانے کا بھی موقع مل جاتا وہ اپنے آپ کو خوش نصیب لوگوں میں شمار کرتا۔ چنگ چی آنے سے قبل ہماری بھی کچھ ایسی ہی حالت ہوتی تھی۔ دوسروں سے پہلے بس پر چڑھنے کے لیے دھکے کھانا اور دینا۔ بس میں ایک ہاتھ سے ڈنڈا پکڑنے کے بعد دوسرا ہاتھ موبائل اور پرس کی حفاظت کے لیے اپنی جیب پر رکھنا۔ 

اگر بس کے اندر جیب کے کٹنے اور دم گھٹنے کا خطرہ محسوس ہوتا تو چلتی بس میں ہی چھت پر سفر کا خطرہ مول لینا۔ لیکن چنگ چی کی بدولت اب وقت پر سواری بھی مل جاتی ہے اور بس میں کنڈیکٹر کی آواز پر دائیں مڑ، بائیں مڑ اور آگے چل کی پریڈ سے بھی جان چھوٹ گئی ہے۔ باعزت طور پر بیٹھنے کے لیے سیٹ بھی مل جاتی ہے۔ کیا ہوا جو اس کے لیے چند روپے اضافی دینے پڑتے ہیں ہے۔ شہر کراچی میں 250 روٹس پر اس وقت 65 ہزار سے زائد رکشے چل رہے ہیں۔ بشمول سندھ، پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی چنگ چی رکشوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ 

انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ پاکستان کراچی سینٹر کی جانب سے پیش کی گئی ایک سروے رپورٹ کے مطابق کراچی کے 65 فیصد افراد چنگ چی اور سی این جی رکشوں میں سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ میں تو اسی لیے چنگ چی پر سفر کرتا ہوں کیوں کہ میرے پاس ذاتی سواری نہیں، مگر میرے ایک پڑوسی جو ذاتی گھر کے علاوہ دو گاڑیوں کے بھی مالک ہیں۔ وہ اپنے گھر سے آفس کا سفر جو کئی کلو میٹر طویل ہے روزانہ لوکل ٹرانسپورٹ پر کرتے ہیں۔ 

جس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں اس طرح وہ اپنی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ گاڑی کی ایندھن کی مد میں خرچ ہونے سے بچا لیتے ہیں۔ ان کی اس بات پر میں نے سوچا کہ روزانہ کراچی کی سڑکوں پر آنے والی ہزاروں گاڑیوں میں ایک ایک فرد سفر کررہا ہوتا ہے، جس کے باعث ٹریفک جام، فضائی آلودگی اوراس جیسے دیگر مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ سڑکوں کی وسعت تو اتنی ہی ہے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ اس پرگاڑیوں کی تعداد میں بیسیوں کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔

ٹرام، سرکلر ریلوے یہ تو وہ سفری ذرائع ہیں جو ہم نے صرف کراچی کی تاریخ میں پڑھے ہیں۔ اب جلاو ٔگھیراؤ کے سبب کراچی کی سڑکوں سے بسیں، منی بسیں اور مزدا بھی غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ ماحول دوست گرین بسوں کا تو ذکر ہی نہیں کریں گے۔ سرکاری خزانہ اتنا بڑا ہے کہ اس میں کئی ٹرینیں اور پی آئی اے کے جہاز غائب ہوگئے ہیں۔ 

چند بسوں کو کون تلاش کرے گا؟ ہاں کراچی کی مختلف شاہراہوں پر بنے ہوئے گرین بسوں کے بوتھوں سے اب بھی ہیرونچیوں اور بھکاری استفادہ کررہے ہیں۔ ویسے کراچی میں آ ئے کسی بھی غیرملکی کے سامنے ہم چنگ چی اور سی این جی رکشوں کو رکھتے ہوئے یہ بات بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے معاملے میں ہم مائیکرو ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں۔ اگر کسی کو یہ بات سمجھ نہ آئے تو چند سال قبل تک کراچی میں عوامی سفری ذرائع کی کچھ تصاویر رکھ دیں وہ ضرور سمجھ جائے گا کہ واقعی یہ مائئیکرو ٹیکنالوجی ہے۔ 

اب دیکھتے ہیں کہ سندھ حکومت چنگ چی جیسی عوامی سواری کو عذاب کے بجائے سہولت بننے کے لیے کب تک اس کو قانونی حیثیت دینے میں کامیاب ہوتی ہے۔ اگر چنگ چی کے ڈیزائن، ان کے سڑکوں پر چلنے کے قوانین اور ڈرائیورز کے لیے شرائط طے ہو جائیں تو غریب آدمی بسوں کے دروازوں پر لٹکنے، چھتوں پر چڑھنے، عورتیں، بچے اور بوڑھے بس اسٹاپوں پر دھکے کھانے کی اذیت سے بچ جائیں۔ 

باقی انڈر گراو نڈ بلٹ ٹرینیں، جدید ٹرامز، بڑی بسوں جیسی سفری سہولیات سے استفادہ تو فی الحال ہم خوابوں میں کرسکتے ہیں یا شاید یہ منصوبے حکومتی فائلوں میں ملیں۔

کولاچی کراچی سے مزید