آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نیت سمجھتے ہیں، اسی لیے حکومتی شرط نہیں مانی: طلال چوہدری

طلال چوہدری کی ’جیو نیوز‘ کے مارننگ شو ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو


مسلم لیگ نون کے رہنما طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے میں حکومت کی نیت کو سمجھتے ہیں اور اسی لیے اس کی شرط نہیں مانی جا رہی۔

’جیو نیوز‘ کے مارننگ شو ’جیو پاکستان‘ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اصل میں انہوں نے جانے کی اجازت نہیں دی، رخنہ ڈالا ہے۔

طلال چوہدری نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ نون کے صدر میاں شہباز شریف نے اس معاملے پر پارٹی کو اعتماد میں لیا ہے، یقین ہے کہ ہمیں ریلیف ملے گا۔

اسی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید کہتے ہیں کہ ملکی قانون دانوں نے کہا ہے کہ مجرم کا نام ای سی ایل پر ہو تو ہٹایا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ نون لیگ کی جانب سے نواز شریف کی صحت پر سیاست کی جا رہی ہے، عدالتی فیصلے قابلِ احترام ہوتے ہیں اور اس معاملے میں جو فیصلہ ہوگا ہم مانیں گے۔

واضح رہے کہ نوازشریف کے بیرون ملک علاج کے لیے جانے پر بانڈ کی حکومتی شرط کے خلاف نون لیگ کی درخواست کی لاہور ہائی کورٹ میں آج پھر سماعت ہو رہی ہے۔

گزشتہ روز مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے ای سی ایل سے نوازشریف کا نام مشروط طور پر نکالنے کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر درخواست دائر کی تھی جس پر جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے نصف گھنٹہ سماعت کی۔

درخواست میں نواز شریف کا نام نکالنے کے لیے رقم جمع کروانے کے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی نے درخواست گزار کے وکیل امجد پرویز سے استفسار کیا کہ نواز شریف کا معاملہ نیب لاہور سے متعلقہ ہے یا اسلام آباد سے؟

وکیل نے بتایا کہ اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔

عدالت نے پوچھا کہ کیا احتساب عدالت اسلام آباد کے فیصلے کے خلاف یہ عدالت سماعت کرنے کی مجاز ہے؟

امجد پرویز ایڈووکیٹ نے بتایا کہ بنچ درخواست پر سماعت کر سکتا ہے، کسی عدالت نے نواز شریف پر ایسی شرائط عائد نہیں کیں جیسی وفاقی حکومت عائد کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کو مشروط اجازت دینا آئین کے منافی ہے اور قانون میں اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔

اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا۔

بنچ نے قرار دیا کہ قانون کے تحت جہاں کا رہائشی ہو وہ ای سی ایل میں اپنے نام کے اندراج کے خلاف اسی عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ احتساب عدالت اسلام آباد نے سزا کے ذریعے جرمانہ عائد کیا تھا، اسی کے مساوی رقم کا تقاضہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کی سزا معطل ہے کالعدم نہیں، بیرونِ ملک جانے والا واپس نہیں آتا تو ذمہ داری وفاقی حکومت پر ڈال دی جاتی ہے جیسے سابق صدر پرویز مشرف کے معاملے پر ہوا۔

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے پوچھا تھا کہ حکومت نے جو ضمانت مانگی، کیا یہ وہ رقم ہے جو احتساب عدالت نے جرمانہ کیا تھا؟ کیا ای سی ایل آرڈی نینس وفاق کو اختیار دیتا ہے کہ ایک بار بیرون ملک جانے کی اجازت دے؟ کیا قانون میں وہ شرائط ہیں جو نواز شریف پرعائد کی گئیں؟ نواز شریف کا نام کس نیب آفس کے کہنے پر ای سی ایل میں ڈالا گیا؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب آج جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی تھی۔

قومی خبریں سے مزید