برطانیہ میں گرومنگ گینگز اسکینڈل کی نئی قومی تحقیقات کرنے والے پینل نے اعلان کیا ہے کہ وہ ماضی کی طرح ملزمان کی نسلی شناخت کو نظر انداز نہیں کرے گا اور اس معاملے میں سامنے آنے والے تمام حقائق کو کھلے انداز میں جانچا جائے گا۔
تحقیقاتی پینل کی رکن اور سابق ایچ ایم انسپکٹر آف پولیس زوئی بلنگھم نے برطانوی پارلیمنٹ کی ہوم افیئرز کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات میں اس بات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا کہ مذہب، ثقافت اور سماجی پس منظر نے ان جرائم میں کوئی کردار ادا کیا یا نہیں، جبکہ پولیس، سماجی اداروں اور مقامی حکام کی ناکامیوں کو بھی جانچا جائے گا، جنہوں نے مبینہ طور پر نسلی حساسیت کے خوف سے بروقت کارروائی نہیں کی۔
تین سالہ قومی تحقیقات کی سربراہی سابق چلڈرن کمشنر لیڈی لانگ فیلڈ کر رہی ہیں، جبکہ برطانوی حکومت نے اس مقصد کے لیے 65 ملین پاؤنڈ کی فنڈنگ مختص کی ہے۔ تحقیقات کا آغاز اولڈہم، گریٹر مانچسٹر سے کیا جائے گا۔
پینل کو قانونی اختیارات حاصل ہوں گے جن کے تحت پولیس حکام، سرکاری افسران اور مقامی کونسلوں کو طلب کر کے گواہی لی جا سکے گی۔ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے نئے الزامات متعلقہ پولیس اداروں کے سپرد کیے جائیں گے۔
لیڈی لانگ فیلڈ نے کمیٹی کو بتایا کہ ماضی کی قومی اور مقامی تحقیقات میں تقریباً 400 سفارشات دی گئی تھیں، لیکن ان میں سے کئی پر مکمل عملدرآمد نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ تحقیقات کا مقصد صرف حقائق سامنے لانا نہیں بلکہ ایسا مؤثر نظام قائم کرنا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ یہ تحقیقات اس اسکینڈل پر آخری بڑی انکوائری ثابت ہوگی اور متاثرین کو انصاف دلانے میں مددگار ثابت ہوگی۔