• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بریڈفورڈ کونسل میں بڑی سیاسی تبدیلی، ریفارم یوکے کے اسٹیفن پلیس کونسل لیڈر منتخب

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

بریڈفورڈ کونسل میں سیاسی تبدیلی کے بعد ریفارم یوکے کے اسٹیفن پلیس کو کونسل لیڈر منتخب کر لیا گیا۔

حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہو سکی تھی، جس کے بعد کونسل میں قیادت کے معاملے پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریفارم یوکے نے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے کونسل میں سب سے بڑی جماعت کی حیثیت اختیار کی، تاہم اکثریت نہ ہونے کے باعث قیادت کے انتخاب کے لیے دیگر جماعتوں کے رویے کو بھی اہم قرار دیا جا رہا تھا۔

کونسل اجلاس میں اسٹیفن پلیس کی بطور لیڈر تقرری پر ووٹنگ ہوئی، جہاں لیبر پارٹی نے ان کے خلاف ووٹ دیا۔ بعدازاں دوسرے مرحلے میں اپوزیشن جماعتوں نے ووٹنگ سے اجتناب کیا جس کے بعد اسٹیفن پلیس کونسل لیڈر منتخب ہو گئے۔

لیبر گروپ نے مؤقف اختیار کیا کہ لیبر گروپ کسی بھی صورت میں ریفارم یوکے کے کونسل لیڈر کے حق میں ووٹ نہیں دے سکتا تھا، خاص طور پر ڈینیئل ڈیوانی اور اسٹیفن پلیس سے منسوب نفرت انگیز سوشل میڈیا پوسٹس کے انکشافات کے بعد۔ اسی لیے ہم نے اسٹیفن پلیس کی کونسل لیڈر کے طور پر تقرری کے خلاف ووٹ دیا۔

تاہم دوسرے مرحلے میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر ووٹنگ سے اجتناب کیا کیونکہ قواعد ہمیں دوسری بار ریفارم کے خلاف ووٹ دینے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔

پارٹی نے کہا کہ وہ نئی قیادت کا ہر مرحلے پر احتساب کرے گی اور متنازع بیانات کی مذمت کا مطالبہ جاری رکھے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بریڈفورڈ کونسل میں یہ تبدیلی مقامی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ کئی برسوں بعد کونسل ’نو اوور آل کنٹرول‘ کی صورتحال میں داخل ہوئی ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید