آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ڈیڈ لاک ختم:پارلیمان میں خوش آئند پیش رفت

قومی اسمبلی میں گزشتہ روز حکومت کا اپوزیشن کے مطالبے کے مطابق گیارہ صدارتی آرڈیننسوں کو معطل کرکے قواعد کے تحت پارلیمنٹ میں منظوری کے مقررہ مراحل سے گزارنے پر رضامند ہو جانا اور اپوزیشن کا ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے لینا نیز الیکشن کمیشن کے ارکان کے تقرر کے معاملے میں حکومت کا آئینی راستہ اختیار کرنے پر تیار ہو جانا آئینی اور جمہوری نظام کے استحکام کے حوالے سے بلاشبہ نہایت خوش آئند پیش رفت ہے۔ کاروبار مملکت چلانے، قومی پالیسیاں تشکیل دینے اور فیصلے کرنے میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابی عمل کے ذریعے منتخب ہونے والے عوامی نمائندوں پر مشتمل پارلیمان کی بالادستی ہی جمہوریت کا اصل جوہر ہے لیکن بدقسمتی سے موجودہ دور کے ابتدائی سوا سال میں قانون سازی اور فیصلوں میں پارلیمان کا کردار تقریباً نہ ہونے کے برابر رہا۔ حکومتی بنچوں سے پہلے دن سے اپوزیشن کو چور ڈاکو کے القاب سے پکارا گیا اور قانون سازی کے لئے اپوزیشن کی تعاون کی پیش کشوں کو این آر او مانگے جانے سے تعبیر کیا جاتا رہا جس کی بنا پر اس مقصد کے لیے مطلوب سازگار ماحول کی کم سے کم سطح بھی میسر نہ آ سکی۔ حکومت نے اس صورت حال میں قانون سازی کے لیے صدارتی آرڈیننسوں کا وہ راستہ اختیار کیا جس کی گنجائش آئین کی رو سے صرف غیر

معمولی حالات ہی میں ہوتی ہے۔ ماہ رواں کی سات تاریخ کو ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی صدارت میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے تمام تر احتجاج کے باوجود گیارہ صدارتی آرڈیننس محض عددی برتری کی بنیاد پر منظور کرا لیے گئے جبکہ انہیں قائمہ کمیٹیوں میں پیش کرنے کی زحمت بھی نہیں کی گئی تھی۔ مسلم لیگ (ن) نے اگلے ہی دن اس اقدام کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔ اس حوالے سے عدالت میں پیش کی گئی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں صدارتی حکم ناموں کا اجرا آئین کی خلاف ورزی ہے لہٰذا عدالت عالیہ حکومت کو پارلیمان کی بالادستی اور تعظیم برقرار رکھنے کا حکم دے۔ عدالت نے درخواست منظور کرکے سماعت کے لیے دو ہفتے بعد کی تاریخ مقرر کر دی۔ اس دوران مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں جمعیت علمائے اسلام کے دھرنوں اور اپوزیشن کی بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت نو سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان کی جدوجہد کی حمایت نیز سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی روز بروز بگڑتی ہوئی صحت بھی سیاسی منظر نامے پر اثر انداز ہوئی، باہمی رابطے شروع ہوئے، تلخ رویوں کی شدت میں کمی دیکھی گئی جبکہ ان مثبت تبدیلیوں کا بھرپور مظاہرہ جمعہ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے مشترکہ فیصلوں کی شکل میں ہوا۔ سات نومبر کو قومی اسمبلی سے منظور کرائے گئے گیارہ آرڈیننسوں کی معطلی کے بعد اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد واپس لے لی۔ اس موقع پر وزیر دفاع پرویز خٹک نے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسمبلی کے ماحول کو بہتر بنانے میں تعاون پر اپوزیشن کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ حکومت کی جانب سے آئندہ کسی اپوزیشن رہنما کی دل آزاری نہیں ہوگی۔ خواجہ آصف، نوید قمر اور راجہ پرویز اشرف سمیت اپوزیشن ارکان نے پارلیمان کی بالادستی تسلیم کیے جانے کا خیر مقدم کیا اور آئین کے مطابق قانون سازی میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ پارلیمان کے کردار کی اس بحالی کے بعد امید ہے کہ میڈیا پر عائد قدغنوں کے خاتمے، احتسابی عمل میں شفافیت و غیر جانبداری کے اہتمام اور اسے محض دو سیاسی خاندانوں تک محدود رکھنے کے بجائے حکومتی صفوں میں موجود ملزمان سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کے متعلقہ افراد تک وسعت دینے کا التزام بھی کیا جائے گا تاکہ ملک میں حقیقی معنوں میں جمہوری روایات پروان چڑھ سکیں جس کے بغیر قومی ترقی اور خوشحالی کے خواب کا شرمندہ تعبیر ہونا محال ہے۔