آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 14؍ربیع الثانی 1441ھ 12؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نہ جانے وہ کون سے عوامل یا عناصر ہیں جو حکومت کی طرف سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں نہ بڑھائے جانے کے باوجود انہیں بلند سے بلند سطح پر لے جانے کے لئے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس بات کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے اسے حکومت کو ناکام بنانے کی سازش قرار دیا ہے۔ آٹے، چینی اور سبزی کی قیمتوں میں بتدریج بڑھتا ہوا حالیہ اضافہ اسی سلسلے کی کڑی ہے جس کے نتیجے میں پھر سے نوبت نانبائیوں کی 16نومبر کو ہونے والی ہڑتال تک پہنچی تاہم حکومت پنجاب کی صوبہ بھر کی متعلقہ تنظیموں سے مشاورت کے بعد اسے اس بنا پر واپس لیا گیا ہے کہ تنوروں پر فائن آٹا 84کلو کی بوری 4100روپے اور 20کلو آٹے کا تھیلا 808روپے میں پہنچایا جائے گا، اس ضمن میں لازم ہوگا کہ روٹی کے وزن میں کمی نہ کی جائے۔ ضلعی حکومتوں نے عام صارفین کے لئے یہی نرخ یقینی بنانے کی غرض سے موقع پر چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اس کے باوجود ابھی تک بیشتر دکاندار 20کلو آٹے کا تھیلا 920یا اس سے بھی زیادہ قیمت پر دے رہے ہیں جس سے مشکل سے دو وقت روٹی کھانے والے غریب عوام اس کشمکش کا شکار ہیں کہ روزانہ ملنے والی اجرت یا محدود تنخواہ سے آٹا، چینی، گھی، سبزی میں سے کیا خریدیں جبکہ حکومتی اقدامات کے تحت اب تک محدود سطح پر چھاپے مارے جا رہے ہیں یا پھر چھاپہ مار ٹیموں کے واپس جاتے ہی پھر سے گراں فروشی شروع کر دی جاتی ہے۔ ادھر پرچون فروشوں کا موقف ہے کہ ہمیں مہنگے داموں اشیاء کی سپلائی ملتی ہے۔ اس صورت حال سے نکلنے کے لئے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو بلاتاخیر مربوط اور ٹھوس پالیسی کے تحت گراس روٹ لیول تک حکمت عملی تیار کرنی چاہئے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998