آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

زیادہ سے زیادہ چھ ماہ میں کیا ہوگا؟

تین ماہ کے بعد کوئی بھی اس ملک کا وزیراعظم بننے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ تین ماہ کی ڈیڈ لائن کو آپ بڑھا کر 6ماہ کر سکتے ہیں اور اس کے بعد موجودہ صورتحال کی وجہ سے کوئی بھی وزیراعظم بننے کے لیے آمادہ نہ ہوگا۔ 

یہ بات پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہی ہے اور اس کا سبب انہوں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری کو قرار دیا ہے۔ یہ وہ بات ہے، جس سے حالات کی سنگینی کا حقیقی ادراک ہوتا ہے۔ چوہدری شجاعت تجربہ کار اور زیرک سیاست دان ہیں۔ 

انہوں نے کبھی ایسی بات نہیں کہی ہے، جسے مبالغہ آرائی سے تعبیر کیا جا سکے اور بڑھا چڑھا کر باتیں کرنا ان کی عادت بھی نہیں ہے۔ جس طرح انہوں نے بات کی ہے، وہ حالات کی نہ صرف درست عکاسی ہے بلکہ حقیقی اور ظاہری حکمرانوں کے لیے ایک انتباہ بھی ہے۔

چوہدری شجاعت حسین نے وہ بات کی ہے، جو پورے ملک میں ہر طبقے اور گروہ کے لوگ کر رہے ہیں۔ بس چوہدری صاحب نے مختصر الفاظ میں حالات کو بہتر طریقے سے بیان کر دیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ زبردست مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے سماجی ہیجان اور سیاسی بے چینی میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ معیشت کی سست روی بحرانی کیفیت اختیار کر چکی ہے۔ 

اس کے ساتھ سیاسی عدم استحکام بھی جڑیں پکڑ رہا ہے۔ سرحدوں کی صورت حال بھی کشیدہ ہے۔ علاقائی اور عالمی حالات بھی ہمارے لیے پہلے جیسے نہیں رہے۔ چوہدری شجاعت حسین جیسے شخص نے اگر ایسی بات کہہ دی ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔

سب سے زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ لوگوں میں امید ختم ہو رہی ہے اور وہ بڑھتی ہوئی مایوسی کی گھٹن محسوس کر رہے ہیں۔ دکانوں اور محلوں سے لے کر دانشوروں کی بیٹھک تک ہر جگہ حالات پر مایوس کن باتیں ہو رہی ہیں۔ لوگوں کی تکالیف اور مشکلات کے سوا کوئی اور موضوع بحث نہیں ہے۔ 

سوشل میڈیا کا استعمال اگرچہ لوئر مڈل اور مڈل کلاس کے لوگ کرتے ہیں، جن میں بہت سے لوگ تحریک انصاف کے حامی تصور کیے جاتے رہے ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا پر بھی جو باتیں اور بحثیں سامنے آ رہی ہیں، ان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لوگوں کی اکثریت کیا سوچ رہی ہے۔ 

مین اسٹریم پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی بعض مجبوریوں کے باوجود حالات کی سنگینی کی مسلسل نشاندہی کی جا رہی ہے۔ جو لوگ مین اسٹریم میڈیا کے مستقل قارئین یا ناظرین ہیں، وہ یہ بات اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اگر میڈیا بار بار انتباہ کرنے کے مرحلے پر آگیا ہے تو ایسا کیوں ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اس کے اب تک کے نتائج پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے۔ ماہرانہ تبصرے بھی ہوتے رہتے ہیں۔ تاجر، صنعت کار اور معیشت سے وابستہ حلقے بھی اپنی آراء اور ردعمل کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے بارے میں جو اجتماعی رائے بن چکی ہے وہ یکسر غلط نہیں ہو سکتی۔ تحریک انصاف کی حکمت کا سیاسی معاملات کے بارے میں جو رویہ ہے، اب اس سے نہ صرف حکومت کے اتحادی اختلاف کر رہے ہیں بلکہ حکومت کے سخت حامی بھی اس سے اتفاق نہیں کر رہے ہیں۔

سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو بیرونِ ملک علاج کے لیے بھیجنے کے معاملے پر حکومت نے جو رویہ اختیار کیا، اس سے حکومتی ٹیم کے سیاسی وژن پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ سے متعلق بھی حکومت نے غلط اندازے لگائے۔ اب یہ آزادی مارچ دوسرے مرحلے میں دھرنوں میں تبدیل ہو گیا ہے۔ 

اس سے پورا ملک متاثر ہو رہا ہے۔ آزادی مارچ کے پلان بی کے بعد پلان سی بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بات آنکھیں بند کر لینے کے لیے کافی نہیں ہے کہ مولانا کے آزادی مارچ میں مذہبی رجحانات رکھنے والے لوگ زیادہ ہیں۔ آنکھیں کھولنے کے لیے اس حقیقت کا ادراک ضروری ہے کہ آزادی مارچ اور دھرنوں کی کہیں سے بھی موثر مخالفت سامنے نہیں آئی ہے۔ 

مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی مارچ اور دھرنوں کو کسی اور طرف لے جا سکتی ہے۔

اگر حالات اسی ڈگر پر رہے تو آئندہ تین ماہ یا زیادہ سے زیادہ چھ ماہ میں چوہدری شجاعت حسین کی بات درست ثابت ہو سکتی ہے۔ جو لوگ پاکستان کی گزشتہ نصف صدی کی تاریخ کے چشم دید گواہ ہیں، وہ یہ بات محسوس کر سکتے ہیں کہ پاکستان میں ایسے حالات پہلے کبھی پیدا نہیں ہوئے۔ قبل ازیں حالات مصنوعی طور پر خراب کیے جاتے رہے۔ 

اب مصنوعی طور پر ٹھیک رکھنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے مختلف حلقوں کی جانب سے اداروں کے مابین قومی مذاکرے کی جو تجاویز دی جا رہی ہیں، ان پر غور کرنا چاہئے۔ اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو کم از کم بڑی قومی سیاسی جماعتوں کے درمیان ڈائیلاگ کا اہتمام ہونا چاہئے تاکہ حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے کوئی قابل عمل اور متفقہ حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔ 

عالمی مالیاتی اداروں کی معاشی پالیسیوں اور مقتدر حلقوں کی تصادم والی سیاسی پالیسیوں کو مزید آزمانے کا اب وقت نہیں رہا۔ ہم نے گزشتہ دو عشروں میں انارکی اور انتشار کی وجہ سے اپنے خطے کے ملکوں کے حالات کا ازخود مشاہدہ کیا ہے۔ چوہدری شجاعت اگر کچھ کہہ رہے ہیں تو وہ بلاوجہ نہیں ہے۔