آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ہمارے کچھ مسائل ایسے بھی ہیں جن کا تعلق وسائل سے نہیں بلکہ حکومت کی غلط پالیسیوں اور عوام کے لاپروائی پر مبنی رویے سے ہے۔ ٹریفک کا مسئلہ بھی انہی میں شامل ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین تر ہوتا جا رہا ہے جبکہ ٹریفک پولیس کے پاس اِس کا واحد حل زیادہ سے زیادہ چالان کاٹنا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ رواں سال میں اب تک لاہور کی ٹریفک پولیس 26لاکھ 49ہزار 8سو 73چالان جرمانوں کی مد میں کر چکی ہے جس سے قومی خزانے میں 77کروڑ 22لاکھ 36ہزار 4سو روپے کی رقم جمع ہوئی۔ صرف لاہور ہی نہیں ملک کے تمام بڑے شہروں میں ٹریفک کی روانی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ کراچی میں ٹریفک جام اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے حادثات روز کا معمول ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان میں ٹریفک حادثات کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد دہشت گردی سے متاثر ہونے والے افراد سے بھی زیادہ ہے، اس کے باوجود ملک بھر میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو ٹریفک قوانین کی پابندی کو پوری طرح ملحوظ رکھتا ہو۔ سگنل توڑنا، لین اور لائن کی پابندی نہ کرنا، غلط اوور ٹیک کرنا، گاڑیوں کو اوور لوڈ کرنا ہمارے ہاں کوئی جرم سمجھا ہی نہیں جاتا۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جتنے مرضی بھاری جرمانے عائد کر دیے جائیں، جب تک عوام ٹریفک قوانین کی پاسداری نہیں کریں گے ،بے ہنگم ٹریفک کا مسئلہ موجود رہے گا۔ اِس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اسکول ہی سے ٹریفک قوانین کی پاسداری کرنا سکھائیں تاکہ وہ بڑے ہو کر ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ٹریفک قوانین کی پابندی کریں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ گاڑی چلانے کا مطلب اپنی منزل پر سب سے پہلے پہنچنا نہیں بلکہ سب کے لیے ایسا ماحول بنانا ہے کہ سب بحفاظت اور بروقت اپنی اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998