آپ آف لائن ہیں
جمعرات6؍ صفر المظفّر 1442ھ24؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

؎مربھی جاؤں توکہاں لوگ بھلا ہی دیں گے

لفظ میرے ، مرے ہونے کی گواہی دیں گے

پاکستان کی نامور شاعرہ پروین شاکر نے اپنے منفرد لب و لہجے کی بدولت بہت ہی کم عرصے میں وہ شہرت حاصل کی جو بہت کم لوگوں کا مقسوم رہی۔ انھوں نےنوجوان لڑکی کے جذبات اور احساسات کو حقیقت پسندانہ انداز میں بیان کیا۔ اسی بے ساختگی نےانھیںنوجوان دلوں کی دھڑکن بنادیا، وہ لڑکیوں کی رول ماڈل بن گئیں۔80ء اور90ء کی دہائیاں ان کے نام موسوم رہیں۔ کلاسیکی روایات اور جدید حساسیت کا منفرد امتزاج، نسوانیت، رومانویت اور معاشرتی اونچ نیچ ان کے شعری سخن میں واضح دکھائی دیتا ہے۔

20برس کی عمر میں محبت، رومانویت، فراخ دلی ، علیحدگی اور قربت سے متعلق نسائی اظہار کو جدت بخش کر انسانی انا، خواہشات اور انکار کوشعری پیراہن دیا۔ شاعرانہ اساس کے بارے میں ایک بار انھوں نے کہا،’’محبت کا فلسفہ میری شاعری کی اساس ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ خدا ، کائنات اور انسان کے مثلث پر غور کرتی اور ان کو سمجھنے کی سعی کرتی ہوں‘‘۔

ابتدائی حالات

پروین شاکر کی پیدائش 24نومبر 1952ء کو کراچی کے علمی گھرانے میں ہوئی ۔ ان کے والد کا نام سید شاکر حسین تھا۔ اس گھرانے میں نامور شعرا اور ادباپیدا ہوئے، جن میں سے بہار حسین آبادی میدانِ سخن کی قداور شخصیت تھے۔ ان کےنانا حسن عسکری نے پروین شاکر کو کئی شعرا کے کلام سے روشناس کروایا۔ زمانہ طالب علمی سے ہی وہ ہونہار طالبہ رہی تھیں، اردو مباحثوں میں حصہ لیتیں اور شیریں اندازِ خطابت سے داد پاتیں۔ ان کی شعری دنیا میں ’بینا‘ کے قلمی نام سے آمد ہوئی۔ 

انھیں پیار سے’ماہ پارہ‘ بھی کہا جاتا تھا۔ احمد ندیم قاسمی شاعری میں ان کے گاڈفادر رہے۔ ایک معروف ادبی جریدے میں کلام کی اشاعت نے ادبی حلقوں میں انھیں صفِ اول کے مقام پر لاکھڑا کیا، اس پر ان کا اندازِ تکلم مشاعروں کی جان بن گیا۔ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی و ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ 

پروین شاکر نے انگریزی ادب اورلسانیات میں گریجویشن کیا، پھرانہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی سند حاصل کی۔ وہ عبداللہ کالج کراچی میںبحیثیت انگریزی لیکچرار 9سال درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں، بعد ازاں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔

حالات زندگی

1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ، سی بی آر اسلام آباد میں بطور سیکنڈسیکرٹری سرکاری خدمات کا آغاز کیا۔1990ء میں ٹرینٹی کالج امریکا سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی ،جو علیحدگی پر منتج ہوئی۔

اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے

کون ہوگا جو مجھے اُس کی طرح یاد کرے

شعری ورثہ

پروین شاکر نے اپنے شعری ورثے میں ہمارے لیےخوشبو (1976ء)،صد برگ (1980ء)،خود کلامی (1990ء)،انکار (1990ء) ماہ تمام (1994ء) اور کفِ آئینہ(1996ء) کے نام سےشعری مجموعے چھوڑےجن میں انھوں نے محبت ، عورت اور کائنات کو موضوع بناکر پیغام دیا :

عکسِ خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی

اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

شعری خدمات پر انھیں1990ء میں پاکستان کا اعلیٰ شہری اعزاز ’تمغۂ حسنِ کارکردگی ‘ تفویض کیا گیا۔ انھیں انگریزی رومانوی شاعری سے خاص شغف رہا، جس کی جھلک ان کی شاعری میں نمایاں نظر آتی ہے۔ پروین شاکر نے ’’گوشہ چشم‘‘ کے عنوان سے اخبارات میں کالم بھی لکھے،جو کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے۔ان کی آپ بیتی ماہ پارہ کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔

شعری محاسن

شعری سفر20برس کی عمر سے شروع ہوا۔ غزل، روایتی اور آزاد نظمیں لکھیں۔ انتہائی قابل توجہ مضامین پیار، نسائیت اور معاشرتی عدم مساوات رہے۔ جذبے کی صداقت، دیانت اور شفافیت شعری آہنگ رہا، لطافت، شوخی اور جمالِ خیال، نسوانیت کے تمام تر حسن و دلکشی کے ساتھ جلوہ گر نظر آئے۔ شاعری کا تانا بانا بارش، شبنم، نور، روشنی، رنگ، دھوپ، جنگل، آندھی، ہوا، گلاب، تتلی اور سانپ جیسےاستعاروں سے تخلیق کیا جبکہ خواب اور نیند اہم استعارےرہے۔ 

تشبیہ، استعارہ و کنایہ غزلیہ شاعری کی جان ہوتی ہے۔ یہ وصف انھیں کمال کی حد تک ملا۔ محبوب کی بے رخی، بے توجہی، عدمِ التفات یا بے وفائی کو شاعری میں جگہ جگہ بیان کیا۔ پروین شاکر طرزِادامیں دیگر شعرا سے یوں ممتاز ہیں کہ ان کا لہجہ شاکیانہ توہے ہی مگر ملتجیانہ اور پرامید بھی ہے، وہ محبوب کی بے رخی سے دلگیر تو ہوتی ہیں مگر درپردہ اس کا اظہار بھی کرتی ہیں کہ وہ کسی نہ کسی صورت ان کی طرف متوجہ ہو۔

26دسمبر 1994ء کو اسلام آباد میں ہونے والے ایک ٹریفک حادثے میں پروین شاکر 42سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جاملیں۔

اب تواس راہ سے وہ شخص گزرتابھی نہیں

اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی

تعلیم سے مزید